مضامین

میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ—کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ (4)

مدینہ منورہ کی فضیلت
جنت البقیع کی فضیلت
اس قبرستان کو دنیا کے تمام قبرستانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ ترمذی شریف میں حدیث شریف مروی ہے۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو مدینہ کے قبرستان میں دفن ہونے کا موقع ملے وہ شخص ضرور مدینہ میں آکر مرے۔ اس لئے کہ جو مدینہ کے قبرستان میں مدفون ہوگا ، ضرور میں اس کی شفاعت کروں گا ۔(ترمذی شریف ۲/۲۲۹)
نیز بعض کتابوں میں اس کابھی ذکر ہے کہ جو شخص اس قبرستان میں دفن ہوگا وہ ہمیشہ کے لئے عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
جنت البقیع کی زیارت
حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کو مدینہ منورہ کی زیارت ضرور نصیب ہوجاتی ہے ۔ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ ان کو اس قبرستان کی زیارت کا موقع ملتاہے۔ لہٰذا مدینہ کے قیام کے دوران اس قبرستان کی زیارت کی بھی حتی الامکان کوشش کریں۔ اور موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ نیز اگر موقع ملے تو روزانہ زیارت کریں۔ ورنہ کم ازکم ہفتہ میں ایک مرتبہ زیارت کے لئے حاضری دیاکریں۔ اور جمعہ کادن زیادہ بہتر ہے۔(مستفاد فتح القدیر۳/۱۸۲، فتح القدیر زکریا ۳/۱۷۱)
اہل بقیع پر سلام
قبرستان بقیع ہروقت کھلا نہیں رہتا بلکہ بند رہتاہے۔ اور جنازہ لے جانے کے لئے کھولا جاتاہے۔ اور عام طور سے عصر کی نماز کے بعد جنازہ کے ساتھ داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس لئے اس موقع کا انتظار کرکے داخل ہوجائے۔ اور اہل بقیع پر ان الفاظ کے ساتھ سلام پڑھے۔
"السلام علیکم دارَ قومٍ مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون”(ابوداؤد شریف ۲/۴۶۲)
اے ایمان والی قوم تم پر سلام ہو، بیشک ہم انشاء اللہ تعالیٰ تم سے ملنے والے ہیں۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ.
اے اللہ اہل بقیع کی مغفرت فرما۔ اے اللہ ہماری اور ان کی مغفرت فرما.
اس طرح اہل بقیع پر عمومی سلام کےبعد جن حضرات کے مزارات کے نشانات باقی ہیں فردًا فردًا سلام پیش کرے۔
سیّدنا حضرت عثمان ذوالنورین پر سلام
قبرستان بقیع میں سیدنا حضرت عثمان ؓ کا مزار نمایاں ہے، ان کو ان الفاظ سے سلام پیش کرے۔
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ثَالِثَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ذَا النُّورَيْنِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُجَهِّزَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ بِالنَّقْدِ وَالْعَيْنِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبَ الْهِجْرَتَيْنِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا جَامِعَ الْقُرْآنِ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَبُورًا عَلَى الْأَكْدَارِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا شَهِيدَ الدَّارِ،السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. (غنیہ جدید/۳۸۴)
اے مسلمانوں کے امام آپ پر سلام ہو۔ اے خلفائے راشیدین میں سے تیسرے نمبر کے خلیفہ آپ پر سلام ہو۔ اے دو نور والے آپ پر سلام ہو۔ اے جیش العسرہ (غزوۂ تبوک)کے لشکر کو روپیہ اور سازو سامان دے کر روانہ کرنے والے آپ پر سلام ہو۔ اے دوہجرت والے آپ پر سلام ہو۔ اے قرآن کریم کو موجودہ شکل میں جمع کرنے والے آپ پر سلام ہو ۔ اے مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنے والے آپ پر سلام ہو۔ اے اپنے گھر میں شہید ہونے والے آپ پر سلام ہو، آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت وبرکت نازل ہوں۔
اہل بقیع کو ایصال ثواب
حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین کو سلام پیش کرنے کے بعد سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے شروع سے مفلحون تک اور آیتہُ الکرسی اور امن الرسول سے اخیر تک اور سورۂ یٰس، سورۂ تبارک الذی، سورۂ قدر، سورۂ الہاکم التکاثر ، سورۂ کافرون، سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ سے لے کر گیارہ مرتبہ تک درمیان میں جتنا ہوسکے پڑھ کر تمام اہل بقیع اور تمام مؤمنین ومؤمنات کو ثواب پہنچادیں۔ اور اگر سب سورتیں نہ ہوسکیں تو جتنی بھی ہو سکیں پڑھ کر ثواب پہنچادیں۔
(غنیہ قدیم /۲۰۹۔جدید/۳۸۸)
۔[از کتاب انوارمناسک]۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button