میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ—کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ (3)

جنت البقیع
جنت البقیع مدینہ منورہ کا وہ وسیع وعریض قبرستان ہے جس میں ہزارہا صحابہؓ، تابعین ، اولیاء اللہ اور نفوسِ قدسیہ مدفون ہیں۔ یہ قبرستان مسجد نبویؐ کی جانب قبلہ میں جنوبی مشرقی سمت میں واقع ہے۔ا ور اس وقت مسجد نبویؐ اور جنت البقیع کے درمیان کوئی آبادی یاعمارت حائل نہیں ہے۔ اور اس قبرستان میں حضورﷺ کے اہل بیت میں سے نو(۹) امہّات المؤمنین مدفون ہیں۔
۱ -امّ المؤمنین حضرت عائشہ ؓ ۲- امّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ ۳-امّ المؤمنین حضرت سودہؓ ۴ -امّ المؤمنین حضرت زینب بنت حجشؓ ۵- امّ المؤمنین حضرت زینت بنت خزیمہؓ
۶- امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہؓ ۷- امّ المؤمنین حضرت جویریہ ؓ ۸- امّ المؤمنین حضرت امّ حبیبہ ؓ ۹ -امّ المؤمنین حضرت صفیہ ؓ ۔(المسالک فی المناسک للکرمانی ۲/۱۰۸۶)
اور ازواجِ مطہرات میں سے امّ المؤمنین حضرت خدیجۃُ الکبریٰ ؓ مکۃ المکرمہ کے قبرستان جنت المعلّیٰ میں آرام فرماہیں اور امّ المؤمنین حضرت میمونہ ؓ کا مزار مقامِ سرف میں ہے، جو مسجد حرام سے سولہ(۱۶) کلومیٹر کے فاصلہ پر طریق مدینہ میں واقع ہے۔ اوریہ مسافت مسجد حرام سے جنت المعلّیٰ کے راستہ سے مسجد عائشہؓ میں پہنچنے کی صورت میں ہے۔
اور اس قبرستان میں حضور ﷺ کی اولاد میں سے حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ ، حضرت قیہ ؓ، حضرت زینب ؓ، حضرت امّ کلثومؓ اور حضرت ابراہیم ؓ مدعون ہیں۔ اور نواسۂ رسول حضرت حسن ابن علی ؓ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ نیز حضرت زین العابدین ؓ اور حضورؐ کے چچا حضرت عباس ؓ کے مزار بھی اسی قبرستان میں ہیں۔ اور حضورﷺکی اولاد مین سے حضرت قاسم ؓ اور عبداللہ ؓ مکۃ المکرمہ کےقبرستان جنۃُ المعلّیٰ میں آرام فرما ہٰن۔ نیز اسی قبرستان بقیع میں حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب ؓ اور عاتکہ بنت عبدالمطلب ؓ اور آپ کے چچازاد بھائی حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب ؓ نیز حضورؐ کی رضاعی ماں دائی حضرت حلیمہ ؓ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہٰں۔ اور اسی قبرستان میں خلیفۂ ثالث حضرت عثمان ذوالنورین ؓ ، حضرت ابو سعید خُدری ؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ، حضرت اسد بن زرارہؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ، حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت علیؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد ؓ یہ سب اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ اور صاحبِ مذہب حضرت امام مالک ؓ بھی اسی قبرستان مین مدفون ہٰں۔ اور اس قبرستان میں سب سے نمایاں حضرت عثمان ؓکا مزار ہے۔ یہ جنت البقیع میں داخل ہونے کے بعد تقریباً دوسوقدم کے فاصلہ پر ہے۔ پھروہاں سے سوقدم کے فاصلہ پر دیوار سے متصل حضرت ابو سعید خدریؓ اورحضرت فاطمہ بنت اسدؓ کا مزار ہے۔ اوریہ بھی نمایاں ہے۔ نیز ہمارے اکابر میں سے فقیہ العصر حضرت مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری مہاجر مدنیؒ صاحب بذل المجہود شرح ابوداؤد شریف اور شیخ العرب والعجم حضرت مولانا زکریا صاحب شیخ الحدیث سہارنپوری نوراللہ مرقدہٗ اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ ۔۔۔۔[از کتاب انوارمناسک]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



