سلام، مصافحہ اور معانقہ کے آداب-۴

وضو کرنے والوں کو سلام کرنا مکروہ نہیں
سوال:(۱۴۲۶)چند لوگ مسجد میں وضو کررہے ہیں اور جماعت ہورہی ہے، باہر سے آنے والااگر وضو کرنے والوں کو سلام کرے تو جماعت میں بہ خوبی آواز پہنچتی ہے توباہر سے آنے والاشخص وضو کرنے والوں کو سلام کرے یا نہیں؟(۱۷۰۵/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: سلام کرنا وضو کرنے والوں کو مکروہ نہیں ہے، بلکہ عموم سنیت سلام میں داخل ہے، جماعت کا قریب ہونا وضو کرنے والوں پر سلام کرنے کامانع نہیں ہے ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
وضو کرنے والوں کوسلام کیاجائے توجواب دینا واجب ہے
سوال:(۱۴۲۷)…(الف) وضو کرنے والے کو اگر سلام کیاجائے تو ان پر جواب دینا واجب ہے یانہیں؟ اور جواب دینے والوں کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں؟
(ب) نیز وضو کرنے والوں کو سلام کیاجائے یا نہیں؟( ۱۳۴۱/۱۳۴۳ھ)
الجواب: (الف۔ ب) وضو کرنے والوں کوسلام کرناجائز ے اور ان کو جواب دینا واجب ہے، اوران میں سے بعض کاجواب دینا بھی کافی ہے اور اس سے وضو میں کچھ خلل نہیں آتا۔ فقط
حالت جنابت میں سلام کاجواب دینا
سوال: (۱۴۲۸)جنبی سلام کاجواب دے سکتاہے یانہیں؟(۱۷۰۵/۱۳۳۳ھ)
الجواب: دے سکتاہے(۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
حالتِ جنابت میں سلام کرنا
سوال:(۱۴۲۹) بہ حالت جنابت سلام کرنا کیساہے؟(۲۰۵۳/۱۳۴۲ھ)
الجواب: جائز ہے ،مگر اولیٰ یہ ہے کہ طہارت کے ساتھ کرے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
استنجاء سکھاتے وقت سلام کرنا اور جواب دینا
سوال:(۱۴۳۰) وقت ڈھیلہ لینے کے سلام کرنا یا جوابِ سلام دینا جائز ہے یانہ؟
(۴۵۲/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب:درست ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۱۴۳۱)…(الف) وقت ڈھیلے کے سلام کرنا کیساہے؟
(ب) وقت ڈھیلے کے اگرکوئی سلام کرے تو جواب دینا واجب ہے یانہ؟ زید کہتا ہے کہ نہ دینا چاہیے کیونکہ وہ بھی حکم پیشاب میں ہےا ور عمرکہتاہے کہ جواب دینا چاہیے کیونکہ وہ حکم پیشاب کانہیں رکھتا۔(۱۲۳۱/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: (الف) جائز ہے۔
(ب):عمر کاقول صحیح ہے وہ حالت پیشاب کے حکم میں نہیں ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۱۴۳۲) بو ل سے فارغ ہوکر کلوخ سے تقاطرِ بول بند اور خش کرنے کی حالت میں سلام کرنا اورجواب دینا رواہے یانہیں؟(۲۶۱/۳۵-۱۳۳۶ھ)
الجواب: اس حالت میں سلام کرنا اور جواب دینا ممنوع نہیں ہے، کیونکہ یہ حالت بول کی نہیں ہے، جس کی ممانعت ہے، البتہ اولیٰ یہ ہے کہ استنجاء ایسی جگہ خشک کرے کہ علیحدہ ہو اور سلام و جواب کی نوبت نہ آوے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سوال:(۱۴۳۳) جو شخص ڈھیلے سے استنجاء کررہاہو، وہ دوسرے شخص کو سلام کرے یانہیں؟ اور سلام کو جواب دیوے یانہیں؟(۷۸۵/۱۳۴۰ھ)
الجواب: بہتر یہ ہے کہ ڈھیلے سے استنجاء علیحدہ ہوکر کرے تاکہ سلام کرنے اور جواب دینے کی ضرور ت نہ ہو، اور اگر اتفاقاً ایسے موقع پر کھڑاہواہے کہ وہاں کوئی شخص مسلمان آیا اور اس نےسلام کیا تو اس کو جواب دینا چاہیے اور ابتداء بالسلام بھی درست ہے ،لیکن بہتر ہے کہ ابتدا نہ کرے۔ فقط
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۷]۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



