مضامین

شریک حیات کا انتخاب کیسے کریں-۲

عورت کے دین دار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف صوم وصلاۃ کی پابند ہو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ فرائض وواجبات کو ادا کرنے والی ہو، سنتوں کی پابند ہو، مستحب امور کو بھی حتیٰ الوسع ادا کرنے والی ہو، تلاوت قرآن اور تسبیحات کی دلدادہ ہو، اخلاق وکرداراچھے ہوں، باادب اور باحیاہو، بڑوںکا ادب واحترام کرنے والی اور چھوٹوں پر شفقت کرنے والی ہو، صبر وتحمل کرنے والی ہو، پردہ میں رہنے والی ہو، اپنے شوہر کی اطاعت وفرماں برداری کرنے والی ہو، ان کی خدمت کو سعادت سمجھنےوالی ہو، گھریلو کام کاج حسن نیت اور خوشی بخوشی انجام دینے والی ہو، پڑوسیوں کے حقوق سے واقف ہو، بات بات پر غصہ کرنے والی اور جھگڑا کرنے والی نہ ہو، غیر محرم سے بات کرنے والی نہ ہو، فیشن ایبل کپڑے نہ پہننے والی ہو، آج کے ماحول میں زیادہ خرچہ کرنے والی نہ ہو، اپنے شوہر کی عزت وآبرو اوراس کے مال دولت کی حفاظت کرنے والی ہو۔ معاملات میں پکی ہو دوسروں کے حقوق اداکرنے والی ہو۔ ایسی عورت کو دیندار عورت کو کہاجاتا ہے، اگر گھر کی ملکہ ایسی ہوگی ہوتو یقیناً گھر کے دیگر افراد اور ایسی عورت سے ہونے والی اولاد بھی نیک اورصالح ہوگی، جو نہ صرف دنیا میں خیر وبرکت کاباعث ہوگی، بلکہ آخرت کے لیے بھی سرمایہ نجات ہوگی۔ ایسی ہی عورت کے بارے میں حدیث میں کہا گیا ہے کہ ساری دنیا سرمایہ آخرت ہے اور دنیا میں بہترین سرمایہ نیک بیوی ہے۔
الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ۔ (صحیح مسلم:۶۶۱ عن عبداللہ بن عمر)
ماںباپ کا اثر ان کے بچوں پر پڑتاہے، بچے بھی ان کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں، ماں اولاد کے لیے پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اس لیے لڑکی کے انتخاب میں اس کی پاکدامنی، اور دینداری کو معیار بنانا چاہیے۔ اس کے برخلاف اگرجہیز کی لالچ میں لڑکی والوں کی مالداری کو معیار بنایاگیا تو مال چوں کہ آنے جانے والی چیز ہے، اس لیے جہیز میں ملنے والی اشیاء بھی ایک دن ختم ہوجائے گی اورپھر میاں بیوی میں دڑاریں پیدا ہونے لگیں گی، نیز جہیز کی خواہش رکھنے یااس کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے داماد بیوی کے میکہ والوں کی نظروں میں گر جائے گا۔
محبت کرنے والی ہو: ہرانسان محبت کا بھوکا ہوتاہے ، ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرا اس پر اپنی محبت نچھاور کرے، محبت بھرے دو بول بولے، جب شوہر باہر کے کام کاج سے تھکاہاراگھر واپس آتاہے تو اس وقت پیش کردہ پانی کا ایک گلاس اس کے خشک رگوں کو سیراب کردیتاہے۔ اسی طرح بیوی کی محبت کے دو بول اس کے وجود میں کیف و سرور پیدا کردیتے ہیں۔ اس کے دل کو سرور اور دماغ کو سکون پہونچاتے ہیں۔
زیادہ بچے جننے والی ہو: نکاح کامقصد نسل انسانی کی بقاء اور امت محمدیہ کے افراد میں اضافہ کرنابھی ہے، اس لیے نبی کریم ﷺنے ایسی عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے، جو بہت زیادہ بچے جننے والی ہو، ایک صحابی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک حسب ونسب اور حسن وجمال والی عورت پر میں فریفتہ ہوگیاہوں، مگر وہ بچہ نہیں جنے گی توکیا میں اس سے نکاح کرلوں؟ آپ نے منع فرمایا اور کہا:
تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ. (ابوداؤد:۲۰۵۰)
یعنی کہ بہت زیادہ محبت کرنے والی اوربہت زیادہ بچہ جننے والی سے نکاح کرو۔
عورت کنوری ہو: ہر جوان مردکی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شریک حیات بھی جوان اور ہم عمر ہو، جس طرح وہ کنوارا ہے تو اس کی بیوی بھی کنوری ہو، دونوں کے اندر شرم و حیا ہو، تاکہ دونوں اپنی ازدواجی زندگی کاآغاز نئے تجربات سےکریں، دونوں کے اندر حجاب ہو اور وہ حجاب دھیرے دھیرے درمیان سے ہٹے۔ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ نے پوچھا کہ اے جابر کیاتم نے نکاح کیا ہے، انہوں نے کہاکہ ہاں، تو آپ نے پوچھا کہ بیوی کنواری ہے یا شوہر دیدہ، یعنی بیوہ یامطلقہ؟ توانہوں نےکہاکہ شوہر دیدہ، آپ ﷺ نے کہاکہ کنواری سے کیوں نہیں کیا تاکہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی! (صحیح بخاری: ۵۰۷۹)
کنوری سے نکاح کرنا اعلیٰ درجہ ہے، مگر بیوہ سے نکاح کرنے کی بھی فضیلت وارد ہوئی ہے، خود نبی کریم ﷺ کی ایک بیوی کے علاوہ ساری بیویاں بیوہ تھیں ، خود آپ ﷺ نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جب کہ ان کی عمر چالیس سال تھی اور وہ بیوہ تھیں۔
علامہ حصکفیؒ نے لکھا ہے کہ عورت مرد سے عمر میں چھوٹی ہو، حسب ونسب مال و دولت میں مرد سے کم تر ہو، جب کہ ادب واخلاق ،تقویٰ اورحسن وجمال میں مرد سے بڑھ کر ہو۔(ماہنامہ حج میگزین ،جون ۲۰۱۷ء؁)۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button