مضامین

شریک حیات کا انتخاب کیسے کریں-۴

نکاح سے قبل شریک حیات کو دیکھنا
رشتہ نکاح کی پائیداری اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں میاںبیوی کے درمیان کس قدر پیار ومحبت ہے، اس لیے شریعت نے لڑکا اور لڑکی دونوں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کودیکھ لیں ،بعض علاقوں میں منگیتر کو دیکھنا بہت بڑا عیب سمجھا جاتاہے ، بلکہ ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کواپنے ماں باپ کا نافرمان، ان پر بھروسہ نہ کرنے والاسمجھا جاتاہے، ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ باپ نے اپنے بیٹے کا رشتہ محض اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ اس کے بیٹے نے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ حالاں کہ شریعت کی روشنی میں یہ رویہ غلط ہے، قدرت نے ہر ایک کے اندر خواہشات اور جذبات اورپسندیدگی کی صفات رکھی ہیں اوریہ مختلف ہوتی ہیں، اسی لیے شریعت میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ جن کے درمیان نکاح ہونے والا ہے، وہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں، تاکہ ان کی خواہش اورپسند کے مطابق ہے یانہیں نکاح منعقد ہونے سے پہلے ہی معلوم ہوجائے۔ حضرت مغیرہ بن شعبۃ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کسی عورت کو نکاح کا پیغام دیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:اُنْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا۔
یعنی کہ تم اس عورت کو دیکھ لو، اس سے دونوں کے درمیان محبت پیدا ہوگی اور رشتہ میں پائیداری آئے گی۔ (سنن ترمذی: ۱۰۸۷) ۔
اگر شکل وصورت سے دونوں ایک دوسرے کو پسند ہوں تو دونوں کے دل میں دوسرے کی محبت جاگزیں ہوجائے گی ، اور اگرخدانخواستہ پسند نہ ہوتونکاح کرنے سے رُک جائیں گے۔ کہیں ایسانہ ہو کہ اولیاء اپنی مرضی سے نکاح کرادیں اور دونوں میاں بیوی یاان میں سے کوئی ایک اس نکاح سے خوش نہ ہو، یا دونوں ایک دوسرے کو دیکھا نہ ہو اور اتفاق سے شکل وصورت ان کی پسند کی نہ ہوتو دونوں کی زندگی اجیرن بن جائے گی ۔ دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت وکدورت پیداہونے لگی گی اور اختلافات رونما ہونے لگیں گے، حتیٰ کہ ایسی صورت میں رشتہ نکاح کے ٹوٹ جانے کاقوی امکان بھی ہے۔
دوسرے کی مخطوبہ کو پیغام دینا
نبی کریم ﷺ نے سختی سے اس کو منع فرمایا ہےلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ۔ (صحیح مسلم :۱۴۱۲)
یعنی اگرکسی نے کسی کو پیغام دیدیاہے تو جب تک اس کی طرف سے واضح انکا نہ آجائے اس وقت تک تم اس کو پیغام نہ دو۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہ وباء بھی عام ہوتی جارہی ہے کہ اگر کسی کے یہاں کسی نے پیغام نکاح بھیجا تو اس کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ رشتہ اس کے ساتھ نہ ہوکرفلاں کے ساتھ ہوجائے یا کسی کے ساتھ بھی نہ ہو، یہ انتہائی حاسدانہ اور ظالمانہ رویہ ہے ، جس سے معاشرہ کو پاک کرنا ضروری ہے۔ (ختم شد)
(ماہنامہ حج میگزین ،جون ۲۰۱۷ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button