مضامین

اورنہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر جہانوں کیلئے رحمت بناکر(القرآن الکریم)

وہ سہانی گھڑی چمکا جسمیں طیبہ کاچاند
اس دل افروزساعت پہ لاکھوں سلام
(حضرت مولانا امام احمدرضاخان صاحبؒ)
آنحضرت ﷺ کا خاندانی فضل وشرف
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: مجھ کو یکے بعد دیگرے ہرقرن کے بنی آدم کے بہترین طبقوں میں منتقل کیا جاتارہا یہاں تک کہ میں اس موجودہ قرن میں پیدا کیاگیا۔(بخاری)
توضیح:’’قرون‘‘ قرن کی جمع ہے اس کا اطلاق زمانے پربھی ہوتاہے اور انسانوں کے ایک طبقہ پربھی ہوتاہے ، سوسال، چالیس سال اور اسّی (۸۰)سال پربھی قرن کااطلاق ہوتاہے۔ یہاں مختلف زمانوں کے مختلف طبقے مراد ہیں ، آنحضرت ﷺ فرماتےہیں کہ میں نے انسانی طبقات میں بہترین طبقوں سے گزرتا ہوا آیا ہوں، جس طبقے میں میرے آباؤ اجداد تھے وہ بہترین طبقے تھے جن کی ذات اور خاندانی شرافت ، وطنی عزت وعظمت ، تہذیب اورسنجیدگی ومتانت ، قوت فیصلہ اور جرأت وشجاعت مشہور و معروف تھی میں اور وہ لوگ معاشرہ کے بہترین افراد شمار کیے جاتے تھے۔ علماء کا متفقہ فیصلہ ہے اور اس میں کسی کو کلام نہیں ہے کہ انبیاء کرام ؑ میں سب سے افضل آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکت ہے پھر حضرت ابراہیم ؑ افضل ہیں پھر حضرت موسیٰ ؑ کا مقام ہے اس کے بعد پھر تفصیل میں کوئی تفصیل ن ہیں ہے البتہ اولو العزم انبیاء کرام پانچ ہیں۔
(۱) حضرت محمدمصطفی ﷺ (۲) حضرت ابراہیم ؑ (۳) حضرت نوح ؑ
(۴) حضرت موسیٰ ؑ (۵) حضرت عیسیٰ ؑ
اور حضرت واثلہ ابن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نےر سول کریم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میںس ے کنانہ کو چنا اور اولاد کنانہ سے قریش کو چنا اور اولاد قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چنا (مسلم) اور ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم ؑمیں اسماعیل ؑ کو برگزیدہ کیا اور اولاد اسماعیل میں بنی کنانہ کوبرگزیدہ کیا۔
توضیح: ملاعلی قاری ؒ نے حضور اکرم ﷺ کانسب نامہ عدنان تک لکھاہے اور فرمایا ہے کہ اس سے زیادہ کا بیان کرنا صحیح نہیں ہے (یعنی اس میں اختلاف ہے) چنانچہ آپ نے فرمایا : هُوَ أَبُو الْقَاسِمِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ بْنِ قُصَيٍّ بْنِ كِلَابٍ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ بْنِ لُؤَيٍّ بْنِ غَالِبٍ بْنِ فِهْرٍ بْنِ مَالِكٍ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارٍ بْنِ مَعَدٍّ بْنِ عَدْنَانَ، وَلَا يَصِحُّ حِفْظُ النَّسَبِ فَوْقَ عَدْنَانَ.۔ (مرقات)
’’مسن ولد ابراہیم‘‘ابراہیم ؑ کے دوبیٹے تھے ایک حضرت اسحاق ؑ تھے انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ انہیں سے چلاہے ، دوسرے حضرت اسماعیل ؑ تھے حضور اکرم ﷺ انہیں کی اولاد میں آئے ہیں اور صرف آپ ﷺ دُرِّ یتیم نبی تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ کہ اولاد میں قریش کوچنا اور قریش کی اولاد میں بنوہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے محمد ﷺ کو چنا اور آپ سیدالاولین والآخرین بنایا۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ (رواہ مسلم)
اورحضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلے قبرسے میں ہی اٹھوں گا، نیز سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی۔ (مسلم)
توضیح: ’’سید‘‘سید اس سردار کو کہتے ہیں جو اپنی قوم پر تمام صفات حمیدہ میں سبقت لے گیا ہو۔ ’’یوم القیامۃ‘‘ اس سرداری کو قیامت کے دن کے ساتھ اس لئے مقید کیاگیا کہ کمال سرداری کاظہار انسانوں پر تب ہوگا کہ سارے انسان ایک جگہ جمع ہوجائیں اور وہ قیامت میں جمع ہوں گےلہٰذا سرداری کی تکمیل قیامت میں ہوگی۔
ولادت باسعادت
سرور عالم سید وُلد آدم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ واعلیٰ الہٖ وصحبہ وبارک وصلم وشرف وکرم واقعۂ فیل کے پچاس یا پچپن روز کے بعد بتاریخ ۸؍ربیع الاول یوم دوشنبہ مطابق ماہ اپریل ۵۷۰ ؁ عیسوی مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت ابوطالب کے مکان میں پیدا ہوئے۔
ولادت باسعادت کی تاریخ میں مشہور قول تویہ ہے کہ حضورپُرنور ۱۲؍ربیع الاول کو پیدا ہوئے لیکن جمہور محدثین اور مورخین کے نزدیک راجح اور مختار قول یہ ہے کہ حضورؐ ۸؍ربیع الاول کو پیداہوئے۔
(۱)عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ۔ فاطمہ بنت عبداللہ فرماتی ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت آمنہ کے پاس موجود تھی تو اس وقت یہ دیکھا کہ تمام گھر نور سے بھرگیا اور دیکھا کہ آسمان کے ستارے جھکے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجھ کویہ گمان ہوا کہ یہ ستارے مجھ پر آگریں گے۔
(۲)عرباض بن ساریہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ ماجدہ نے ولادت باسعادت کے وقت ایک نور دیکھا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے ۔ یہ روایت مسند احمد اور مستدرک حاکم میں مذکور ہے۔ ابن حبان فرماتے ہیں کہ روایت صحیح ہے اور اسی کے ہم معنی مسند احمد میں ابوامامہؓ سے بھی مروی ہے۔(۴) فتح الباری باب علامت النبوۃ فی الاسلام قال الہیثمی رواہ احمد واسنادہ حسن ولہ شواہد تقویہ ورواہ بطرانی (۵)
(۳)اور ایک روایت میں ہے کہ بُصری کے محل روشن ہوگئے۔
نکتہ: ستاروں کے زمین کی طرف جھک آنے میں اس طرف اشارہ تھا کہ اب عنقریب زمین سے کفر اور شرک کی ظلمت اور تاریکی دور ہوگی اور انوار وہدایت سے تمام زمین روشن اور منور ہوگی۔ کماقال اللہ تعالیٰ
(سیرۃ المصطفیٰ ﷺ۔جلد اول۔ تصنف: حضرت مولانا محمدادریس صاحب کاندھلویؒ)
جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button