حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۵

اپنی امت کے لئے آنحضرتﷺ کی دُعا
اورحضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ بنی معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تواندرتشریف لائے اور وہاں دورکعت نماز پڑھی، اس نماز میں آپ کے ساتھ ہم بھی شریک ہوئے، آپ نے اپنے پروردگار سے بڑی طویل دعا مانگی ، پھر جب نماز ودعا سے فارغ ہوئےتو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں نےا پنے پروردگار سے تین چیزیں مانگی تھیں، ان میں سے دوچیزیں تومجھے عطا فرمادی گئیں اور ایک چیز سے منع کردیاگیا، ایک چیز کی درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو قحطِ عام میں ہلاک نہ کیاجائے ، یہ درخواست قبول فرمالی گئی ، دوسری درخواست میں نے یہ کی تھی کہ میری امت کو پانی میں غرق کرکے ہلاک نہ کیاجائے اور میری یہ درخواست بھی قبول فرمالی گئی، تیسری درخواست یہ تھی کہ میری امت کے لوگ آپس میں دست وگریبان نہ ہوں لیکن میری یہ درخواست قبول نہیںہوئی۔ (مسلم)
تورات میں آنحضرتﷺ کےا وصاف
اورحضرت عطاء ابن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمروابن عاصؓ کی ملاقات سے مشرف ہواتوان سے عرض کیا کہ تورات میں رسول کریم ﷺ کی جن صفات وخصوصیات کا ذکر ہے ان کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے، حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ضروربتاؤں گا ، خدا کی قسم تورات میں آنحضرت ﷺ کی ان بعض صفات وخصوصیات کا ذکر ہے جوقرآن کریم میں مذکور ہیں، (جس طرح فرمایاگیا) اے نبی! ہم نے تمہیں اہل ایمان کا شاہد، اجروانعام کی خوشخبری دینے والا، عذاب وعتاب سے ڈرانے والااور اُمّیوں کو پناہ دینے والابناکر بھیجا ہے، اے محمد! تم میرے بندے ہو، تم میرے خاص رسول ہو، میں نے تمہارانام متوکل رکھا ہے، نہ تم بدخو ہو، سخت گو اور نہ سخت دل ہو،اور نہ بازاروں میں شوروغل مچانے والے ہو، تورات میں یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ وہ (محمد) برائی کو برائی کے ساتھ دورنہیں کریں گے بلکہ درگزر کریں گے اوربرائی کرنے والے کے لئے دعائے مغفرت کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان (محمدﷺ) کی روح کو اس وقت تک قبض نہ کرے گا جب تک ان کے ذریعہ کج رو اور گمراہ قوم کو راہ راست پر نہ لے آئے اس طرح کہ قوم کے لوگ اعتراف واقرار کرلیں گے کہ خداکے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس وقت تک ان کی روح قبض نہیں کی جائے گی جب تک کہ اللہ تعالیی کلمہ طیبہ کے ذریعہ اندھی آنکھوں، بہرےکانوں اور بے حس دلوں کودرست نہ کردے۔ اس روایت کو بخاری نے نقل کیاہے نیز یہی حدیث دارمی نےبھی عطا بن یسارہی سے نقل کی ہے البتہ دارمی میں عطا ابن یسار کی یہ روایت عبداللہ ابن سلام سے منقول ہے۔ اورحضرت ابوہریرہؓ کی وہ روایت جس کی ابتداء ’’نحن الاخرون‘‘کے الفاظ سے ہوتی ہے باب الجمعہ میں نقل کی جاچکی ہے۔
توضیح: ’’حرزًا‘‘محافظ کے معنی میں ہے یعنی آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عرب کے لئے پناہ گاہ بنایا، مضبوط بنایاجس میں شیطان کے اغوا یا عجم کے غلبہ سے عرب لوگ محفوظ رہیں گے۔
’’لیس بفظ‘‘ بداخلاق کے معنی میں ہے ای لیس بشیٔ الخلق اولقول۔ ’’ولاغلیظ‘‘ سخت دل اور غلیظ القلب کا معنی لینا زیادہ اچھاہے’’ولوکنت فظا غلیظ القلب‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ولاسخاب‘‘ بازاروں میں بداخلاقی کی وجہ سے چیخنے چلانے کے معنی میں ہے، اس میں ’’فبمار حمۃ من اللہ لنت لھم‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔
’’الملۃ العوجاء‘‘ملت ابراہیمی کی وہ صورت مراد ہے جس کو مشرکین مکہ نے ٹیڑھا بنادیاتھا، آنحضرت ﷺ نےاس کو سیدھا کیااوردین اسلام کی شکل میں پیش فرمادیا۔ والحمدللہ علی ذلک (جاری ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



