حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۹

تورات میں آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی صفات
اورحضرت کعب احبارؓ تورات کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے(تورات میں) یہ لکھاہوا پایاہے محمد اللہ کےرسول اور اس کے برگزیدہ بندے ہوں گے ، وہ نہ درشت خوہوں گے ، اور نہ سخت گو، نہ بازاروں میں شورمچاتے ہوں گے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ معاف کردینے والے اور بخشش دینے والے ہوں گے ، ان کی پیدائش کی جگہ مکہ ہوگا ان کی ہجرت کی جگہ طیبہ ہوگا اور ان کی حکومت کی جگہ ملک شام ہوگا ان کی امت خدا کی بہت زیادہ حمد وتعریف اور شکر کرنے والی ہوگی جو ہرحالت میں کیا غمی، کیاخوشی اور کیا فراخی کیا تنگی خدا کی حمد وثنا اور شکر کرے گی۔ وہ لوگ جہاں بھی اتریں گے یاٹھہریں گےخدا کا شکر بجالائیں گے اور جہاں بھی چڑھیں گے خدا کی بڑائی بیان کریں گے اور سورج کالحاظ رکھا کریں گے جب نماز کا وقت ہوگا نماز پڑھیں گے ، اپنی کمر پرازار باندھیں گے، جسم کے اعضاء پر وضوکریں گے ان کا منادی کرنے والازمین وآسمان کے درمیان ندا کرے گا، جنگ میں اور نماز میں ان کی صف یکساں ہوگی، رات میں ان کی آواز پست ہوگی جیسے شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے۔ مصابیح نے اس روایت کو انہی الفاظ کے ساتھ اور دارمی نے تھوڑے سے تغیر کے ساتھ نقل کیاہے۔
توضیح:’’کعب‘‘یہ کعب احبار تابعی ہیں تورات کے بہت بڑے عالم تھے، ان کی گواہی ایک مستند حیثیت رکھتی ہے جو حضور اکرم ﷺ کی نبوت اور آپ کی صفات کے لئے ایک تائید ہے۔
’’محمدرسول اللہ ‘‘یہ آنحضرت ﷺکا عام مشہور نام ہے اگرچہ سابق کتابوں اور آسمانوں میں آپ احمدﷺ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ ’’المختار‘‘یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے اختیار سے ہے جو پسندیدہ اور برگزیدہ کے معنے میںہے اللہ تعالیٰ نے آ کو چن لیاہے اور منتخب فرمایاہے مختارکل کامعنے یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ تمام کائنات کے پسندیدہ ہیں ، بریلوی لوگ اس کا معنی غلط کرتے ہیں جوان کے غلط عقیدے کا عکاس ہے۔ ’’فظ‘‘ سخت کلام وسخت خو۔ ’’غلیظ‘‘ سخت دل۔ ’’سخاب‘‘ شور بلند کرنے والا۔’’مولدہ بکمۃ‘‘ عام الفیل ۲۹؍اگست ۵۷۰ عیسوی میں آپ پیدا ہوئے، ۴۰ سال قبل نبوت، زمانہ مکہ میں گزاراپھر ۱۳؍سالہ دور نبوت بھی مکہ میں گزارا ۔۵۳۱سال کی عمر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، دس سال مدینہ میں جہاد مقدس کرتے رہے ۸ہجری میں مکہ فتح کیا، ۹ہجری میں جزیرۂ عرب کے عام لوگ اسلام میں داخل ہوئے، ۱۰ہجری میں حجۃ الوداع پر آپ ڈیڑھ لاکھ صحابہ کے ساتھ آئے ، مدینہ واپس جاکر ۱۲؍ربیع الاول ۱۰؍ہجری میں ۶۳سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا، آپ کے سر اور داڑھی میں صرف ۲۰ بال سفید تھے، حجرۂ عائشہ ؓ میں تدفین ہوئی اور آج تک اسی حجرہ میں مسجد نبوی کے اندر آرام فرما ہیں پہلو میں ابوبکر وعمر ؆رفاقت میں موجود ہیں۔
’’وملکہ بالشام‘‘ آپ کا ملکی اور اخلاقی استحکام شام میں ہوگا یعنی اصل حکومت تو مدینہ میں ہوگی مگر اس کا استحکام اور مضبوطی شام میں ہوگی ،اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ سرزمین شام میں بڑا جہاد ہوگا اور اس کے نتیجے میں اسلامی خلافت مضبوط ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا یعنی نبوت کے آثار وبرکات اور اعلاء کلمۃ اللہ کے زمزمے اور غلغلے شام میں ظاہر ہوں گے۔ ’’شرف‘‘ یعنی ہر بلند وبالامقامات پر نعرۂ تکبیر بلند کریں گے۔ یہ جہاد کے میدان میں خاص طورپر ہوتاہے اور ان شاء اللہ ہوتا رہےگ ا۔ ’’رعاۃ للشمس‘‘ یعنی نمازوں کے اوقات کی پابندی کریں گے، سورج کو دیکھ کر نماز کا وقت معلوم کریں گے گویا سورج کو چرانے والے ہوں گے۔
’’یتازرون‘‘ ازار سے ہے، مراد پاجامے اور ازاربند ہیں یعنی نصف ساق تک ان کے پاجامے ہوں گے۔
’’علی اطرافھم‘‘ یعنی جسم کے اطراف وجوانب پر وضوکریں گے، مراد اعضائے وضو ہیں۔ ’’ینادی فی جوالسماء‘‘ یعنی ان کے مؤذنین بلند وبالاجگہوںپر کھڑے ہوکر اذان دیں گے، چھتوں اور میناروں پر چڑھ کر نماز کے اوقات میں اذان دیں گے، فضاؤں میں ان کی اذان گونجے گی تو گویا فضاؤں میں اذان ہوگی۔ ’’فی القتال‘‘ یعنی جس طرح نمازوں میں صفیں باندھ کر نماز پڑھیں گے اسی طرح میدان جہاد میں قتال کے لئے ان کی صف بندی ہوگی۔ ’’دوی النحل‘‘یعنی رات کے وقت تہجد کی نمازوں میں ذکراللہ اور تلاوت میں اس طرح بھنبھناہٹ ہوگی جس طرح شہد کی مکھی کی آواز میں ہوتی ہے۔
حضرت عیسیٰ ؈ آنحضرتﷺ کے پہلو میں مدفون ہوں گے
اورحضرت عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کے اوصاف کا ذکر ہے اوریہ بھی لکھاہواہے کہ عیسیٰ ابن مریم ؑ آپﷺ کے حجرۂ اقدس میں جمع کئے جائیں گے۔ حضرت ابومودود جواس حدیث کے ایک راوی ہیں کابیان ہے کہ (حضرت عائشہ ؓکے) حجرۂ مبارک میں ایک قبرکی جگہ باقی ہے۔ (ترمذی)
توضیح: ’’یدفن معہ‘‘یعنی حضرت عائشہ ؓکے حجرہ میں حضور اکرم ﷺ کے مقبرہ میں مدفون ہوں گے، آنحضرت ﷺ کے قدموں میں پیچھے کی طرف صدیق اکبر ؓ ہیں۔ صدیق ؓ کے پہلو میں پیچھے کی طرف عمر فاروق ؓ ہیں اور حضرت عمر فاروق ؓ کے پہلو میں پیچھے کی طرف ایک قبر کی جگہ خالی ہے وہیں پر حضرت عیسیٰ ؑ مدفون ہوں گے۔ چنانچہ جب حضرت عیسیٰ ؑ حج کریں گے تو مکہ ومدینہ کے درمیان آپ کا انتقال ہوگا وہاں سے آپ کو مدینہ منورہ لے جائیں گے، اور وہاں پر دفن کئے جائیں گے گویا دونبیوں کے درمیان دوشیخین ہوں گے تصوراتی نقشہ اس طرح ہوسکتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمرفاروقؓ اورحضرت عیسیٰ ؑ۔



