مضامین

حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۱۰

آنحضورﷺ کی عمومی اور کُلّی فضیلت
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو تمام انبیاء اور اہل آسمان(فرشتوں) پر فضیلت عطافرمائی ہے۔ حاضرین مجلس نے سوال کیا کہ اے ابن عباسؓ اہل آسمان پر آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کس طورپر فضیلت دی ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہااللہ تعالیٰ نے اہل آسمان سے تویوں خطاب فرمایا[وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ](گویا اس خطاب کے اندر رعب اور دبدبہ کے ساتھ سخت عذاب کی دھمکی بھی ہے) اور محمدﷺ سے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا:[إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ۝ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ](اے محمدﷺ) ہم نے تمہارے لئے عظمتوں اور برکتوں کے دروازے پوری طرح کھول دیئےہیں اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ تمام انبیاء پر آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح فضیلت دی ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیاء کی نسبت یوں فرمایا[وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ الخ] ہم نے ہرنبی کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ قوم کے سامنے خدا کے احکام وقوانین بیان کرے اور اللہ جس کو چاہتاہے گمراہ کرتا ہےالخ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے بارے میں فرمایا[وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ] یعنی اے محمدﷺ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے رسول بناکر بھیجا۔
آنحضرت ﷺ پوری مخلوق پربھاری ہیں
اورحضرت ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !آپ نے کیسے جانا کہ آپ نبی ہیں اور پھر آپ کو اپنی نبوت کایقین کیونکر ہوا؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا ابوذر! میں بطحائے مکہ میں ایک جگہ تھا کہ میرے پاس دوفرشتے آئے، ان میں سے ایک فرشتہ توزمین پر اتر آیا اور دوسرا فرشتہ زمین وآسمان کے درمیان رہا، پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی فرشتہ سے پوچھا کہ کیا یہی وہ شخص ہیں جن کے بارے میں خدا نے ہمیں بتایا ہے کہ میرے ایک پیغمبر ہیں ان کے پاس جاؤ، اس فرشتے نے جواب دیا کہ ہاں یہی وہ شخص ہیں۔ پھر پہلے فرشتے نے دوسرے فرشتے سے کہاکہ ایک آدمی کے ساتھ ان کو تول کر دیکھو، چنانچہ مجھے ایک آدمی کے ساتھ تولا گیا اور میں اس آدمی سے بھاری رہا۔ پھر اس فرشتہ نے کہاکہ اب دس آدمیوں کے ساتھ ان کو تولو۔ چنانچہ مجھے دس آدمیوں کے ساتھ تولاگیا اور میں ان دس آدمیوں کے مقابلہ میں بھی بھاری رہا، پھر اس فرشتہ نے کہاکہ اچھا سوآدمیوں کے ساتھ تولو، چنانچہ مجھے سوآدمیوں کے ساتھ تولاگیا اورمیں ان سوآدمیوں کے مقابلہ میں بھاری رہا۔ پھر اس فرشتہ نے کہاکہ اچھا اب ایک ہزار آدمیوں کےس اتھ ان کو تولو، چنانچہ مجھے ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ تولاگیا اور میں ان ہزارآدمیوں کے مقابلہ میں بھی بھاری رہا اور گویا میں ان ہزار آدمیوں کو دیکھ رہاہوں کہ وہ جس پلڑے میں تھے وہ اتنا ہلکاتھا کہ مجھے لگا جیسے وہ سب کے سب اب میرے اوپر گرے۔اس کے بعد ان دونوں فرشتوں میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہاکہ اگرتم ان کو ان کی ساری امت کے ساتھ بھی تولو یہ یقیناً ساری امت کے مقابلہ میں بھی بھاری رہیں گے۔ ان دونوں روایتوں کودارمی نے نقل کیاہے۔
توضیح: ’’ینتشرون‘‘ یعنی مجھے ایسالگا بوقت وزن ان کے پلڑے سے لوگ مجھ پر گررہے ہیں کیونکہ ان کا پلڑا ہلکا تھا، اوپر جھول کھاتارہا، میراپلڑابھاری تھا تووہ اوپر سے گویا مجھ پر گررہے ہیں کسی نے خوب فرمایا:
جہاں کے سارے کمالات ایک تجھ میں ہیں
تیرا کمال کسی میں نہیں مگر دوچار

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button