مضامین

حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ-۵

اورحضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں کچھ خلل تھا اس نے ایک دن کہاکہ یارسول اللہ ! آپ سے میرا ایک کام ہے آپ نے فرمایا فلانے کی ماں! تم کسی کوچہ کو دیکھ لو تمہارا جو کام ہوگا میں ضرور کروں گا(یعنی تم جس تنہاء مقام پر مجھ سے بات کرنا چاہو چلو میں وہاں چل کر تمہاری بات سن لوں گا) چنانچہ آپ اس کے ساتھ ایک کوچہ میںتشریف لے گئے اور وہاں تنہائی میں اس عورت کو جو کچھ کہنا سننا تھا اس نے کہا سنا۔ (مسلم)
توضیح: پاگل عورت کی فرمائش پر اس کے ساتھ جانا اور اس کی الٹی سیدھی باتوں کا سننا نبوی اخلاق کا اعلیٰ شاہکار ہے لوگ ایسی عورت کے قریب سے گزرنے اور اس کی طرف التفات کرنےسے عار محسوس کرتے ہیں اور کسرشان سمجھتے ہیں مگر آنحضرت ﷺ اس کی داستان سن رہے ہیں۔ ’’خلابھا‘‘اس سے تنہائی اور جدائی میں بات کرنا مراد ہے یہ شرعی خلوت نہیں ہے۔
حضور اکرم ﷺ کے حسن اخلاق کے چند نمونے
(۱۱)وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ:مَا لَهُ، تَرِبَ جَبِينُهُ (رواہ البخاری)
اورحضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نہ تو فحش گوتھے، نہ لعنت کرنے والے اور نہ بدکلام تھے جب کسی پر آپ کو غصہ آتا تو بس یہ فرماتے! کیا ہوا اس کو خاک آلود ہو اس کی پیشانی ۔ (بخاری)
اورحضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب آپ سے عرض کیاگیا کہ یارسول اللہ ! کافروں کے حق میں بددعا فرمائیے، تاکہ وہ ہلاک ہوں اور ان کی جڑ اکھڑجائے تو فرمایا مجھ کو لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھ کو تورحمت بناکر بھیجاگیاہے۔ (مسلم)
اورحضرت ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پردہ میں رہنے والی لڑکی سے بھی زیادہ باحیاتھے ، جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آجاتی تو ہم آپ کے چہرۂ مبارک سے آپ کی ناگواری کو محسوس کرلیتے۔ (بخاری ومسلم)
آنحضرتﷺ قہقہہ کے ساتھ نہیں ہنستے تھے
اورحضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کا سارا منہ کھل گیا ہو اور مجھے آپ کے حلق کا کوانظرآیا ہو، آپ کی ہنسی بس مسکراہٹ تک محدود رہتی تھی۔ (بخاری)
توضیح: ’’مستجمعا‘‘یعنی مکمل طورپر پورامنہ کھول کر جس سے حلق اور تالو کا کوّا نظر آجائے اس طرح آپ کبھی نہیں ہنستے تھے! ہنسنے کے چند درجات ہیں۔(۱) تبسم: آنحضرت ﷺ ہمیشہ تبسم ہی فرماتے تھے یہ آپ کا اکثر معمول آیاہے۔ (۲) ضحک: آنحضرت کبھی کبھی ضحک بھی فرماتے تھے جس سے آپ کے کناروں کے دانت نواجذ نظرآنے لگتے تھے مگریہ عوام معمول نہیں تھا کبھی کبھار ایسا ہوتاتھا۔ (۳) قہقہہ: آنحضرتﷺ نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا ۔ زیر بحث حدیث میںجس ہنسنے کی نفی ہے اس سے مراد قہقہہ ہے ، حدیث مین اس کی تائید بھی ملتی ہے کیونکہ حلق صرف قہقہہ کے وقت ظاہر ہوسکتاہے، تبسم اور ضحک میں ظاہر نہیں ہوتا۔
آنحضرت ﷺ کی گفتگو کاانداز
اورحضرت عائشہ ﷺ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تیز تیز اور مسلسل بات نہیں کرتے تھے جس طرح تم لوگ مسلسل بولے چلے جاتے ہو، آپ اس طرح ٹھہر ٹھہر کربات کرتے کہ اگر کوئی گننا چاہتا توگن سکتا تھا۔ (بخاری)
توضیح: ’’یسردالحدیث‘‘تیزتیز اور مسلسل گفتگو کوسردالحدیث کہاگیاہے۔ آنحضرت ﷺ کےکلام کاانداز ایسا نہیں تھا بلکہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اس طرح واضح کلام فرماتے کہ اگرکوئی گن لینا چاہتاتو گن سکتاتھا گویا مبارک منہ سے موتی جھڑرہے ہوتے تھے۔
(مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!