مکروہ اور مُباح امور کابیان-۷

مچھلیوں کو مع آلائش کھانا
سوال:(۳۸)…(الف) مچھلیاں مع آلائش سکھائی جاتی ہیں ان کا کھانا جائز ہے یانہیں؟
(ب) جن چھوٹی مچھلیوں کی آلائش صاف نہیں ہوسکتی ان کو معہ آلائش کھانا جائز ہے یانہیں؟ (۱۴۵۲/۱۳۴۳ھ)
الجواب:(الف۔ب) چھوٹی مچھلیوں کے حق میں فقہاء کی تصریح موجود ہے کہ اگر ان کی آلائش نہ نکالی گئی تو بھی وہ حلال ہے۔ کما فی الشّامی نقلًا عن معراج الدّرایۃ: ولووجدت سمکۃّ فی حوصلۃ طائر تؤکل ، وعندالشّافعی لاتؤکل لأنّہ کالرّجیع، ورجیع الطّائر عندہ نجس، وقلنا: إنّما یعتبررجیعًا إذا تغیر وفی السّمک الصِّغار الّتی تقلی من غیرأن یشق جوفہ فقال أصحابہ: لایحل أکلہ لأن رجیعہ نجس وعندسائرالأئمۃ یحل اھ (۱)(شامی: باب الذّبائح جلد خامس) اس تعلیل سےمستفاد ہوتاہےکہ بڑی مچھلیوں کاحکم بھی بہ صورت مسئولہ حل اکل ہونا چاہیے ،لیکن آلائش کونکال کر پھینک دینا چاہیے۔ کما فی الشامی: قال أبو حنفیۃ: الدّم حرام واکرہ الستۃ وذلک لقولہ عزّ وجلّ: [حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ الآیۃ] (سورہ مائدہ: آیت :۳) فلمّا تناولہ النّص قطع بتحریمہ وکرہ ماسوا، لأنّہ ممّا تستخبثہ الأنفس وتکرھہ وھذا المعنی سبب الکراہیۃ الخ (۲) (۵/۴۷۷) وفیہ أیضا نقلًا عن القنیۃ: أنّ الذّکر او الغدّۃ لوطبخ فی المرقۃ لاتکرہ المرقۃ الخ (۳) فقط
بدبودار گوشت اور سڑا ہوا انڈا کھانا کیساہے؟
سوال:(۳۹) جولحم یعنی گوشت بدبودار ہوجائے یا بیضہ بگڑجائے وہ کھائےجائیں یا پھینک دیئےجائیں؟ بینواتوجروا(۵۴۲/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: جوگوشت اوربیضہ بگڑ جائے اور سڑجائے وہ نہ کھایاجائے ، پھینک دیاجاوے (۱) فقط
سوال:(۴۰) گندا انڈا کونسی صورت میں جائز ہے اور کونسی صورت میں نہیں؟( ۲۴۶۱/ ۱۳۳۷)
الجواب: جب انڈا گنداہوجائےیعنی اس میں خون ہوجائے اور متعفن ہوجائےتو ناجائز ہے۔
مولی، پیاز، اور لہسن کھانے کاحکم
سوال:(۴۱)مولی، پیاز، لہسن خام کھانے کاکیاحکم ہے؟ بعض علماء مولی کھانے کو اور حقہ پینے کو مکروہ فرماتے ہیں۔(۶۷۳/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: ان چیزوں کوکھانا درست ہے مگر اچھا نہیں، لیکن مسجد میں کچی پیاز یا لہسن وغیرہ بدبودار چیزیں کھاکرجانامکروہ تحریمی ہے(۲) اوراگرپکاکرکھایاجائے تو پھر کچھ حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
سوال:(۴۲) کچی پیاز اور لہسن کھانا مکروہ تحریمی ہے یاتنزیہی؟ کچی پیاز لہسن کھاکر اور تمباکوپی کر بغیر کلی اور بغیر دورکیے بدبو کےمسجد میں جانا مکروہ ہے یانہیں؟(۶۸۳/۱۳۳۵ھ)
الجواب: کچی پیاز یا لہسن کھانا بلاکراہت جائز ہے۔ جیسا کہ بخاری ومسلم بہ اتفاق روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے : کُلْ فَإنّی أنا جی من لاتناجی (۱)اور مسلم میں ہے کہ فرمایا: ایّھا النّاس! إنّہ لیس لی تحریم ما أحلّ اللہ لی ولکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا (۲) ہاں اس کو کھاکر یاحقہ پی کر بدون ازالۂ بدبو کے مسجد میں جانا مکروہ تحریمی ہے کہ احادیث صحیحہ میں لہسن یاپیاز کھاکر مسجد میں حاضرہونے سے نہی وارد ہے، چنانچہ مسلم میں ہے: من أکل البصل والثّوم والکراث فلایقربن مسجدنا ، فإنّ الملآئکۃ تتأذّی ممایتأذّی منہ بنوآدم (۳) اور فقہ حنفی میں بھی پیاز اور لہسن یا کوئی اور بدبو دار شئے کے ساتھ مسجدمیں جانا مکروہ تحریمی ہے، چنانچہ درمختار میں ہے: وأکل نحو ثوم ویمنع منہ و کذا کل موذ(۴) اور کبیری میں ہے: یجب أن تصان عن إدخال الرّائحۃ الکریھۃ (۵) اور اسی پر قیاس کرکے حضرات علماء رحمہم اللہ نے علاوہ مسجد کے مجالس ذکر میں بھی بدبودار شئے کولےجانا مکروہ تحریمی قراردیاہے، چنانچہ نووی شرح مسلم میں نقل کرتے ہیں: قال القاضی: وقاس العلماء علی ھذا مجامع الصلوٰۃ غیر المسجد کمصلی العید والجنائز ونحوھامن مجامع العبادات وکذا مجامع العلم والذکر والو لائم ونحوھا ولایلتحق بھا الاسواق ونحوھا(۶) الحاصل کچی پیاز اور لہسن کھانا بلاکراہت جائز ہے، البتہ اس کوکھاکر حقہ پی کر بلاازالہ رائحہ کریہہ کے مسجد یا مجلس ذکر میں جانا مکروہ تحریمی ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



