مضامین

رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں-۵

چندہ کی رقم میں سے رشوت دے کر مسجد کیلئے اینٹ خریدنا
سوال:(۱۳۸۱)ایک بھٹا سرکاری خشت کا ہمارے گاؤں کے قریب ہے، ہم نے سرکار کو درخواست دی کہ مسجد کے واسے اینٹیں درکار ہیں، چنانچہ درخواست منظور ہوگئی ہے، اب بھٹا کامنشی پچاس روپیہ رشوت مانگتاہے اور بیس روپیہ ہزار اینٹ دینے کااقرار کرتاہے، اب عام پبلک کے چندہ میں سے رشوت دےکر مسجد کیلئے اینٹ خریدنا جائز ہے یانہیں؟(۱۵۹۳/۱۳۳۸ھ)
الجواب: نقصان سے بچنے کیلئے رشوت دینا درست ہے، پس اگر اس رشوت دینے میں مسجد کونقصان سے بچایا جاتاہے تو یہ بھی جائز ہے(۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سرکاری ملازمین نے جو حق مقرر کررکھاہے اس کا لینا دینا درست نہیں
سوال:(۱۳۸۲) اکثر اہلکاران سرکاری نے علاوہ تنخواہ اپناایک حق مقرر رکھاہے، یہ رقم لینا ملازمین کو جائز ہے یانہیں؟ اگر اہل کار کسی کو یہ کہہ کر ملازم رکھے کہ جو حق ہمیں ملے گا اس کے حقدار تم ہو، جائزہے یانہیں؟(۵۸۰/۱۳۳۹ھ)
الجواب: اہلکاران سرکاری کے لیے اس حق کو لینا جو اُن کی تنخواہ کے علاوہ ہے اور داخل تنخواہ میں نہیں ہے کسی طرح جائز نہیں ہے، اس قسم کا لینا دینا بہ حکم رشوت ہے، جوشرعاً آخذ کو توکسی طرح جائز نہیں۔ شامی میں ہے:قلتُ: ومثلُهم مشایخُ القُری والحِرَف وغیرُهم ممّن لهم قَهرٌ وتسلّطٌ علی مَن دونَهم۔ الخ (۲) البتہ دینے والے کونہ دینے کی صورت میں لحوقِ ضرر کا خوف ہوتو اس کے لیے گنجائش ہے کہ دیدے، مگرلینے والے کیلئے توپھر بھی وہ حرام ہے۔ شامی میں ہے: الرّابع: مایدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علی نفسہٖ أومالہٖ حلال للدافع، حرام علی الآخذ لأن دفع الضّرر عن المسلم واجب، ولا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب الخ (۱) و نیز اہل کار کاکسی دوسرے کوملازم رکھنا اوریہ شرط لگانا کہ جوحق ہمیںملتاہے اس کے حق دار تم ہو اجارہ فاسدہ کے تحت میں داخل ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
ڈیوٹی سے خارج وقت میں کام کرنا اور اہل معاملہ سے اس کا معاوضہ لینا
سوال:(۱۳۸۳) زید ملازم ریلوے ہے اور ۱۲؍گھنٹے کام کرنے کاحکم ہے، اور وہ بجائے ۱۲ گھنٹے کے ۱۴گھنٹے کام کرتاہے، اس وجہ سے زید اگراہل معاملہ سے کچھ معاوضہ لے لیوے توجائز ہے یانہیں؟(۷۹۸/۱۳۳۹ھ)
الجواب: زید کو وہ رقم لینا درست نہیں ہے، رشوت میں داخل ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
اہل کار سے جلدی کام کرانے کیلئے رقم دینا
سوال:(۱۳۸۴)…(الف) عدالتوں مین بعض کاغذات کی نقلیں ضابطہ سے نہیں ملتی یاان میں صرفہ زیادہ ہوتاہے اس لیے اہل معاملہ اہل کارکو کچھ دے کر اپنا کام کرلیتے ہیں یہ رشوت ہےیانہ؟
(ب) بعض کاموں میںاہل معاملہ اس غرض کے لیے کہ میراکام ابھی کردو، وہ اہل کار کو کچھ رقم دیتاہے، اگرنہ دے تو اہل کار اس کام کو دیر میں کرے گاتویہ لینا بھی رشوت میں داخل ہے یا نہیں؟(۶۱۱/۱۳۴۲ھ)
الجواب: (۱لف) یہ رشوت ہے دینا اورلینا اس کا درست نہیں ہے۔
(ب): یہ بھی رشوت ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند،جلد نمبر۱۷]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button