مضامین

حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(۱۰)

مسجد مشعر حرام : یہ مزدلفہ کی مسجد کانام ہے ۔ اور مزدلفہ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس کو جبل قزح کہاجاتا ہے ، اس کوبھی مشعر حرام کہاجاتاہے۔
مسجد عائشہؓ : یہ جبل تنعیم کے دامن میں عالیشان مسجد ہے۔ اسی مسجد میں عمرہ کا احرام باندھنے کے لئےاہل مکہ آتے ہیں ۔ اور یہ مقام حدود حرم سے باہر ہے۔
مسجد نبویؐ : یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ اس وقت یہ مسجد اتنی بڑی بنی ہوئی ہے کہ کئی لاکھ افراد ایک ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ اس مسجد میں ایک نماز پڑھنا ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق دوسری مسجدوں میں پچاس ہزار نماز پڑھنے کے برابر ثواب رکھتاہے۔
(ابن ماجہ شریف ص:۱۰۳ ۔ بروایت حضرت انسؓ)
مسجد قباء : یہ مسجد نبویؐ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر مدینۃ المنورہ کے عوالی میں واقع ہے۔ اسکی تعمیر میں حضور ﷺ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی تھی۔ اس مسجد میں دو رکعت نفل پڑھنے سے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ ترمذی شریف ۱/۷۴، نسائی شریف ۱/۸۱ اور صحیح حدیث شریف میں اس کابھی ذکر ہے کہ حضرت سید الکونین علیہ السلام ہر ہفتہ کے روز کبھی پیدل کبھی سواری پر سوارہوکر مسجد قبا تشریف لے جایا کرتے تھے۔
(بخاری شریف ۱/۱۵۹، حدیث ۱۱۷۹، مسلم شریف ۱/۴۴۸) ابن ماجہ شریف ۱۰۳)
اس وقت یہ مسجد بہت بڑی ہوگئی ہے۔
مسجدالقبلتین : اس کو مسجد بنوسلمہ بھی کہاجاتاہے ۔ کیونکہ یہاں پر قبیلہ بنوسلمہ رہتاتھا۔ اور یہ مسجد ایک اونچے ٹیلے پر بنی ہوئی ہے۔ اس میں دومحراب ہیں۔ ایک بیت المقدس کی طرف اور ایک بیت اللہ شریف کی طرف۔
ہجرت کے بعد سترہ (۱۷) مہینہ تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی گئی۔ اور اس مسجد میں حضور ﷺ نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز کعبۃ اللہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم ہوا۔ اس لئے اس مسجد کو مسجد القبلتین کہاجاتاہے۔ اس کی دیوار پر تحویل قبلہ کی آیت لکھی ہوئی ہے۔ ابھی چند سال سے بیت المقدس کی طرف کی محراب بھی ختم کردی گئی، اور اس کی دیوار پر جوتحویل قبلہ کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں وہ مٹادی گئیں۔
مساجد ستّہ
مسجد الفتح، مسجد سلمان فارسیؓ، مسجد علیؓ، مسجد عمرؓ، مسجد سعد بن معاذؓ، مسجد ابوبکرؓ یہ چھ مسجدیں اس جگہ پر بنی ہوئی ہیں جہاں پر غزوۂ خندق کا واقعہ پیش آیاتھا۔
مدینہ منورہ کےمشہور پہاڑ جبل سلع کے دامن میں یہ مسجدیں ہیں۔ اور وہاںپہاڑ کے دامن میں ایک اونچا ٹیلہ ہے اس پر غزوۂ خندق کے موقع پر حضور ﷺ تشریف فرماتھے وہاں پر ایک مسجد بنائی گئی ہے ا سکانام ۱ مسجد فتح ہے۔
اور ٹیلے سے نیچے چند قدم پر حضرت سلمان فارسیؓ کو متعین کیاگیا تھا وہاں پر ایک مسجد بنائی گئی ہے۔ اس کانا م ۲ مسجد سلمان فارسی ؓ ہے۔ پھروہاں سے تقریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر حضرت صدیق اکبر ؓ کو متعین کیاگیاتھا وہاں پر ایک مسجد بنائی گئی ہے ، اس کانام ۳ مسجد ابوبکرؓ ہے۔ پھر وہاں سے بیس (۲۰) قدم کے فاصلہ پر حضر ت عمر فاروق ؓ کو متعین کیاگیاتھا، وہاں پر ایک مسجد بنی ہوئی ہے اس کانام ۴ مسجد عمرؓ ہے۔ پھر وہاں سے چند قدم کے فاصلہ پر حضرت سعد بن معاذؓ کو متعین کیاگیاتھا وہاں ایک مسجد بنی وہئی ہے اس کانام ۵ مسجد سعد بن معاذ ؓ ہے۔ پھر وہاں سے بیس قدم کے فاصلہ پر چڑھائی ہے وہاں پرحضرت علی ؓ کو متعین کیا گیا تھا ، اس جگہ ایک مسجد بنی ہوئی ہے، اس کانام ۶ مسجد علی ؓ ہے۔ ان چھ مسجدوں کو مساجد ستّہ کہا جاتاہے۔ ذیارت مدینہ منورہ کےموقع پر ان مقامات مقدسہ اور متبرک مساجد میں حاضری دینا، اور نماز پڑھ کر دعائیں مانگنا بڑی خوش نصیبی ہے۔ اسلئے حجاج کرام اپنےآپ کو ان مقامات اور مساجد کی خیر وبرکات سے محروم نہ کریں۔ (مستفاد فتح القدیر ۔ج:۲۔ص:۱۸۳)
مگر امسال ۱۴۲۶ھ؁ تک مذکورہ مساجد سب موجود نہیں ہیں، ان میں سے کئی مسجدیں شہید کردی گئیں۔ اور بیچ میدان میں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر ہوگئی ہے۔
[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(ختم شد)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button