حضوراکرمﷺ کا حلیہ مبارکہ-۱

اورحضرت سماک ابن حرب، حضرت جابر ابن سمرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہاکہ رسول کریم ﷺ کشادہ دہن تھے، آپ کی آنکھوں میں سرخی ملی ہوئی تھی اور ایڑیاں کم گوشت تھیں، حضرت سماک سےپوچھاگیا’’ ضلیع الفم‘‘ سے کیا مراد ہے؟توا نہوں نے کہاکہ اس کے معنی ہیں بڑے منہ والا۔ ان سے پوچھاگیا کہ ’’اشکل العین‘‘کے کیا معنی ہیں؟تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے معنی ہیں دائرہ چشم کا بڑاہونا، پھر ان سے پوچھا گیا کہ ’’ منھوش العقبین‘‘ کے کیامعنی ہیں توانہوں نے جواب دیا کہ وہ ایڑیاں جن پرگوشت کم ہو۔ (مسلم)
توضیح: ’’ضلیع الفم‘‘ ای وسیعہ یعنی اعتدال کے ساتھ آپ کا منہ مبارک فراخ تھاعرب لوگ کھلے منہ کو پسند کرتے ہیں کھلا منہ فصاحت وبلاغت کی علامت ہے۔ ’’اشکل العینین‘‘ ھو مافیہ حمرۃ وبیاض مختلطۃ،یعنی موٹی آنکھیں ہوں سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت سیاہ اور سفیدی میں سرخ ڈوریاں دوڑ رہی ہوں جو نہایت خوبصورتی کی علامت ہے سماک راوی نے جو اشکل العینین کی تفسیر کی ہے عام شارحین نے اس کو غلط قراردیاہے، ہاں آنکھ کی بڑی ہونے کے لئے یہ تفسیر صحیح ہے۔
’’منھوش العقبین‘‘عقب ایڑی کو کہتے ہین اور منھوش نھش سے قلیل گوشت کوکہتے ہیں ایڑیوں کاپتلا ہونا خوبصورتی کی نشانی ہے۔
اورحضرت ابو طفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺکو دیکھا کہ آپ سفید، ملیح رنگ کے تھے نیز متوسط القامت اور متناسب الاعضاء تھے۔ (مسلم)
توضیح:’’مقصَّدا‘‘‘یعنی افراط وتفریط سے بالاترہوکر آپ کا قد مبارک متوسط اور معتدل تھا اس سے پہلے ربعۃ القوم کا جولفظ ہے اس کا معنی اور مقصدًا کا معنی ایک ہی ہے۔ ’’ملیحا‘‘ ایک سفید چٹا ہوتاہے وہ اتنا خوبصورت نہیں ہوتا، بیاض کے ساتھ جو ملاحت والانمکین رنگ ہوتاہے وہ بہت عمدہ خوبصورتی ہوتی ہے ، یہاں یہی بتانا مقصود ہے ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: انا ملیح واخی یوسف صبیح
اورحضرت ثابت کہتے ہیں کہ حضر ت انس ؓ سے رسول کریم ﷺ کے خضاب کے بارے میں دریافت کیاگیا تو انہوںنے فرمایا: آنحضرتﷺ کی عمر اتنی کہاں ہوئی تھی کہ خضاب استعمال فرماتے! اگرمیں آپ کی داڑھی کے سفید بالوں کو گننا چاہتا تو یقیناً گن سکتا تھا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اگر میں آپ کے سر کے بالوںکو گننا چاہتا تو گن سکتاتھا(بخاری ومسلم) اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت انسؓ نے کہا: بالوں کی سفیدی آپ کی داڑھی کے نیچے کے حصہ میں اور کنپٹیوں میںتھی اور کچھ سرمبارک میں۔
توضیح: ’’شمطات‘‘بڑھاپے کی وجہ سے سراورداڑھی میں جو چند سفید بال ظاہر ہوجاتے ہیں اس کو شمطات کہتے ہیں۔ ’’فعلت‘‘اس سے پہلے حدیث میں لو کا لفظ شرط کے لئے ہے اس کی جزاء فعلت ہے۔ حضرت انس ؓ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا بڑھاپا اس حد تک نہیں پہنچاتھا کہ سارے بال سفید ہوگئے ہوں اور آپ خضاب کی طرف محتاج ہوگئے ہوں۔
(مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



