اشیاء کی عظیم وقدیم اسلامی یونیورسٹی’’دارالعلوم دیوبند‘‘-2

بانیٔ دارالعلوم کادستور العمل
قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ (۱۲۴۸ھ-۱۸۳۳ء/۱۲۹۸ھ۔ ۱۸۷۹ء) جو اس تعلیمی تحریک کے قافلہ سالار اور روح رواں تھے، انہوں نے علمی، تعلیمی، تبلیغی ، تصنیفی ، سیاسی اور معاشرتی امور میں برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم الشان اور گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے دینی مدارس خصوصاً دارالعلوم کے قیام وبقا کے لئے جودستور العمل تجویز فرمایا ہے اس میں اسلامی دورِ حکومت کے سابقہ طریق کے برعکس اسی عوامی چندے اور جمہوری طرز کے اختیار کرنے کی پُرزور تلقین کی گئی ہے، اس دستور العمل میں حضرت نانوتوی قدس سرہٗ نے بتلایا ہے کہ دینی مدارس کے قیام کےلئے بنیادی طورپر یہ اصول ضروری قراردئے جائیں۔
(۱) اصل اول یہ ہے کہ تامقدور کارکنانِ مدرسہ کو ہمیشہ تکثیر چندہ پر نظررہے، آپ کوشش کریں، اوروں سے کرائیں،خیر اندیشانِ مدرسہ کو یہ بات ہمیشہ ملحوظ رہے۔
(۲) ابقائے طعام طلبہ بلکہ افزائش طلبہ میں جس طرح ہوسکے خیر اندیشان مدرسہ ہمیشہ مساعی رہیں۔
(۳) مشیران مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہےکہ مدرسہ کی خوبی اور خوش اسلوبی ہو، اپنی بات کو پچ نہ کی جائے، خدانخواستہ جب اس طرح کی نوبت آئے گی کہ اہل مشورہ کو اپنی مخالفت رائے اور اوروں کی رائے کے موافق ہونا ناگوار ہوتوپھر اس مدرسہ کی بنیاد میں تنزلزل آجائے گا، القصہ تہہ دل سے بروقت مشورہ اور نیز اس کے پس وپیش میں اسلوبی مدرسہ ملحوظ رہے، سخن پروری نہ ہو، اور اس لئے ضروری ہے کہ اہل مشورہ اظہار رائے میں کسی وجہ سے متامل نہ ہوں اور سامعین بہ نیت نیک اس کو سنیں، یعنی یہ خیال رہے کہ اگر دوسرے کی بات سمجھ میں آجائے گی تو اگرچہ ہمارے مخالف ہی کیوں نہ ہو بدل وجان قبول کریں گے، اور نیز اسی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ مہتمم اُمور مشورہ طلب میں اہل مشورہ سے ضرور مشورہ کیاکرے، خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمیشہ مشیر مدرسہ رہتے ہیں یا کوئی وارد وصادرجوعلم وعقل رکھتاہو اور مدرسوں کاخیراندیش ہو، اور نیز اس وجہ سے ضرور ہے کہ اگر اتفاقاً کسی وجہ سے اہل مشورہ سے مشورے کی نوبت نہ آئے اور بقدر ضرورت اہل مشورہ کی مقدار معتدبہ سے مشورہ کیاگیا ہوتوپھر اس وجہ سے نا خوش نہ ہو کہ مجھ سے کیوں نہ پوچھا، ہاں اگر مہتمم نے کسی سے نہ پوچھا تو پھر اہل مشورہ معترض ہوسکتاہے۔
(۴)یہ بات بہت ضروری ہے کہ مدرسین مدرسہ باہم متفق المشرب ہوں اور مثل علماء روزگار خود بین اور دوسروں کے درپے توہین نہ ہوں، خدانخواستہ جب اس کی نوبت آئے گی تو پھر اس مدرسہ کی خیرنہیں۔
(۵) خواندگی مقررہ اس انداز سے جو پہلے تجویز ہوچکی ہے یا بعد میں کوئی اور انداش مشورہ سے تجویز ہوپوری ہوجایا کرے، ورنہ یہ مدرسہ اول تو خوب آباد نہ ہوگا اور اگر ہوگا توبے فائدہ ہوگا۔
(۶) اس مدرسہ میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں جب تک یہ مدرسہ ان شاء اللہ بشرطِ توجہ الی اللہ اسی طرح چلے گا، اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی جیسے جاگیر یا کارخانۂ تجارت یا کسی امیر محکم القول کا وعدہ تو پھر یوں نظرآتا ہے کہ یہ خوف درجا جو سرمایہ رجوع الی اللہ ہے ہاتھ سے جاتا رہے گا اور امدادِ غیبی موقوف ہوجائے گی اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا، القصہ آمدنی اور تعمیر وغیرہ میں ایک نوع کی بے سروسامانی ملحوظ رہے۔
(۷) سرکار کی شرکت اور امراء کی شرکت بھی زیادہ مضر معلوم ہوتی ہے۔
(۸)تامقدور ایسے لوگوں کا چندہ زیادہ موجب برکت معلوم ہوتاہے جن کو اپنے چندہ سے امید ناموری نہ ہو، بالجملہ حُسن نیت اہل چندہ زیادہ پائیداری کاسامان معلوم ہوتاہے۔
ان اصولِ ثمانیہ کی نہایت ہی بلیغ تشریح حضرت مولانا محمدطیب صاحب نے فرمائی ہے ، جو ایک مستقل پمفلٹ میں بنام ’’آزادئ ہند کا خاموش رہنما‘‘ شائع ہوچکی ہے۔
اس دستور العمل کی پہلی، دوسری، اور چھٹی ساتویں اور آٹھویں دفعہ میں واضح طورپر عوامی چندے کو اوقاف کا بدل تجویز کیاگیاہے ، اور اسی کے ساتھ ساتھ اس بات پربھی پورا زور دیاگیا ہے کہ آمدنی کے یقینی ذرائع سے احتراز کرنا ضروری ہے، ورنہ خوف ورجا جو اصل سرمایۂ رجوع الی اللہ ہے ہاتھ سے جاتارہے گا۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند۔۔۔جلد اول)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



