ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۱۲

بیٹے کا باپ کی اطاعت وخدمت سے انحراف کرنا اور باپ کا بیٹے کو وراثت سے محروم کرنا
سوال : (۱۰۲۵)زید ہرامر میں اپنے باپ کی نافرمانی کرتاہے، اور باوجود مقدرت کے زید اپنے معذور باپ کی خدمت واطاعت سے ہمیشہ منحرف رہتاہے، اس صورت میں زید کس گناہ کا مرتکب ہوا؟ زید کا باپ بہ وجہ ناخوشی کے اپنی تمام حقیت(ملکیت) اپنے دوسرے ورثہ ذوی الفروض وعصبات کو ہبہ یا وصیت کے ذریعہ سے دیدے، اور زید کو کچھ نہ دیوے تو عنداللہ زید کاباپ ماخوذہوگا یا نہیں؟ زید اس حقیت موہوبہ وموصی میں سےا پنا حصہ پاسکتا ہے یانہیں؟(۷۷۰/۱۳۳۵ھ)
الجواب: ایسی حالت میں زید گناہ کا مرتکب ہے، عقوق والدین گناہ کبیر ہے (۱) لیکن زید کے باپ کو یہ جائز نہیں ہے کہ زید کو کچھ نہ دیوے اور دوسرے ورثنہ کو دے دیوے یہ ظلم ہے (۲) اس فعل سے زید کا باپ ظالم وعاصی ہوگا ، اور وصیت وارث کے لیے صحیح نہیں ہوتی، اور ہبہ اگر مشاع کاہے تو وہ باطل ہے ، ان ہر دو حالت میں زید وارث ہوگا۔ فقط
اولاد کو عاق کرنا درست نہیں
سوال:(۱۰۲۶) ماں باپ اپنی اولاد کو کن فعلوں سے عاق کرسکتے ہیں؟(۱۶۲۹/۱۳۴۲ھ)
الجواب: عاق والدین عربی میں اس کو کہتے ہیں جو اپنے ماںباپ کے ساتھ برائی سے پیش آئے، اور ان کی نافرمانی کرے، اور بجائے برواحسان کے ان کے ساتھ بدسلوکی کرے اور گستاخی کرے، پس جو شخص ایسا کرے وہ عاق ہے اور سخت گنہ گار اور فاسق ہے۔ حاصل یہ ہے کہ عقوق والدین اولاد کا فعل ہے جواولاد ایسی ہو وہ عاق ہے، باقی رہا عاق کرنا والدین کا اپنی اولاد کو بایں معنی کہ ان کو میراث سے محروم کیاجائے یہ شریعت میں درست نہیں ہے، اولاد کیسی ہی ہو ان کی میراث قطع کرنا نہ چاہیے، کیونکہ حدیث شریف میں ہے : من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ(۱) فقط واللہ تعالیٰ علم
جواولاد ماں باپ سے کلام ترک کردے اس کے لیے کیاحکم ہے؟
سوال:(۱۰۲۷) اگرکوئی اولاد نافرمان والدین ہو، اور والدین سے کلام ترک کردے تو اس کے لیے کیاحکم ہے؟(۳۳۸/۱۳۴۵ھ)
الجواب: ایسی اولاد نافرمان عنداللہ بہت گنہ گار اور عاصی ہے۔ حدیث شریف میں ہے: رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد(۲) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا غصہ باپ کے غصہ میں ہے۔
اور ایک حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ماں باپ کا نافرمان جنت میں نہ داخل ہوگا (۳) یعنی دخول اَوّلی جنت میں اس کو نصیب نہ ہوگا، بہرحال نافرمانی والدین کی گناہ کبیرہ ہے اس سے بچنا چاہیے، اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ اولاد اپنے ماں باپ کی فرماں برداری میں رہے اور ان کوراضی رکھے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



