حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(۹)

مَروہ : یہ بیت اللہ شریف کی شمالی مشرقی جانب میں ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جو صفا پہاڑی کے مقابل میں ہے۔ یہاں پرسعی ختمہوجاتیہے۔
مُزدلفہ : یہ منٰی اور عرفات کے درمیان ایک بڑامیدان ہے جس کے تین جانب پہاڑ ہے ۔ عرفات سے واپسی میں اسی میدان میں مغرب اورعشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھنے کاحکم ہے۔ پھرفجر کی نماز کے بعد طلوع شمس سے کچھ پہلے تک اس میدان میں وقوف کرنا واجب ہے۔
محسَّر : یہ منٰی اور مزدلفہ کے درمیان ایک نشیبی میدان ہے اور اسی جگہ پر اصحاب فیل اور ان کے سربراہ بادشاہ ابرہہ پر عذاب نازل ہواتھا۔ یہ لوگ خانۂ کعبہ کو ڈھانے کے ارادے سے آرہے تھے۔ مگر اللہ نے اپنی قدرت کامظاہرہ فرمایا اور یہ ناکام ہوگئے۔ ( العرف الشذی ۱/۱۸۲ ۔حاشیہ ترمذی ۱/۱۷۸، روح المعانی ۳۰/۴۷۳ اور عمدۃ القاری قدیم ۱۰/۱۶ ، معارف السنن ۶/۲۰۸ ۔جُمَل ۸/۴۰۷ میں خارج حرم کے قول کو راجح کہاہے۔ اس جگہ مزدلفہ کا وقوف صحیح نہیں ہے اور مزدلفہ سے منٰی آتے وقت یہاں سے تیز رفتاری سے چلنا چاہیے۔
مِنٰی : یہ وادیٔ محسر سے جمرۂ عقبہ تک دو طرفہ پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان ہے۔ اوریہ میدان مسجد حرام سے تین میل کے فاصلہ پرہے۔ اور اب اِدہر سے حرم شریف کا راستہ مزید قریب ہوگیاہے کہ پہاڑ کی سُرنگ سے سیدھا راستہ بن گیاہے۔ اوریہیں پر شیطان کو کنکری ماری جاتی ہے۔
مسجد خیف : یہ منٰی میں جمرات کے قریب ایک بہت بڑی مسجد ہے۔
مسجد اسماعیلؑ یا مسجد الکبش : التاریخ القویم جو مکۃ المکرمہ کی تاریخ سے متعلق ضخیم ترین جامع کتاب ہے اس میں صراحت ہے کہ یہ مسجد منٰی سے عرفات کی طرف کورُخ کیاجائے تو بائیں جانب جبل ثبیر کے دامن پر واقع ہے۔ اور یہ مسجد اسی جگہ قائم ہے جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرتے وقت الکبش یعنی حضرت جبرئیل امین ؑ آسمانی مینڈھا لے کر تشریف لائے تھے اور اس کو مسجد الکبش اور مسجد اسماعیل سے موسوم کیاجاتاہے۔ مگر اس وقت اس مسجد کا حتمی نشان باقی ہے یانہیں یقینی طورپر نہیں کہا جاسکتا ۔ (التاریخ القویم ۵/۳۰۹) ۔۔ہاں البتہ جمرات سے مزدلفہ اور عرفات کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو پہاڑ کے دامن پر کبری عبدالعزیز سے المعیصم کی طرف جاتے ہوئے دائیں جانب شاہرہ سے متصل ایک مسجد ہے اسکو اس وقت کویتی مسجد سے موسوم کیاجاتاہے۔ اور اس وقت منٰی میں مسجد خیف اور یہی مسجد موجود ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مسجد نہیں ہے۔
مسجد نمرہ : یہ میدان عرفات کی وسیع وعریض مسجد ہے جس میں اسی (۸۰) نوے(۹۰) ہزار آدمی ایک ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اور یہ مسجد دومنزلہ ہے ۔ پورے حجاز مقدس میں تین مسجدیں بہت بڑی بڑی ہیں۔ ۱ مسجد حرام ۲ مسجد نبویؐ ۳ مسجد نمرہ۔
مسجد حرام : یہ بیت اللہ شریف کے چاروں طرف بنی ہوئی ہے۔ اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ شریف ۱۰۳)
مسجد الرایہ : یہ حرم شریف سے جنت المعلّیٰ جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے۔ یہ مسجد ایسی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں پر فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ نے فتح اسلام کا جھنڈا گاڑ دیاتھا۔
مسجد الجن : یہ مسجد بھی جنت المعلّیٰ کے راستہ پر مسجد الرایہ سے چند قدم کے فاصلہ پر سڑک کے درمیان بنی ہوئی ہے۔ اوریہ مسجد اس جگہ پرواقع ہے جہاںپر لیلۃ الجن کے موقع پر حضرت عبدالہ بن مسعودؓ کو بیٹھاکر حضور ﷺ جنات میں تقریر کرنے کےلئے تشریف لے گئے تھے۔ [از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔



