مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۵

مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے کے لئے ماہ رمضان کا بحالتِ صلاحیت پالینا شرط ہے، اس لئے جس نے پورارمضان پالیا اس پر پورے رمضان کے روزے فرض ہوگئے، جس نے کچھ کم پایا اُس پر اتنے ہی دن کے روزے فرض ہوئے جتنے دن رمضان کے پائے، اس لئے وسط رمضان میں جوکافر مسلمان ہوا یا نابالغ بالغ ہوا اس پر صرف آئندہ کے روزے لازم ہوں گے، گزشتہ ایام رمضان کی قضاء لازم نہ ہوگی، البتہ مجنون مسلمان اور بالغ ہونے کے اعتبار سے ذاتی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اگر رمضان کے کسی حصہ میں ہوش میں آجائے توگزشتہ ایامِ رمضان کی قضاء بھی اس پرلازم ہوجائے گی، اسی طرح حیض ونفاس والی عورت، وسطِ رمضان میں پاک ہوجائے یامریض تندرست ہوجائے یا مسافر مقیم ہوجائے تو گزشتہ ایام کی قضاء لازم ہوگی۔
مسئلہ: ماہ رمضان کاپالینا شرعاً تین طریقوں سے ثابت ہوتاہے، ایک یہ کہ خود رمضان کا چاند دیکھ لے، دوسرے یہ کہ کسی معتبر شہادت سے چاند دیکھنا ثابت ہوجائے، اور جب یہ دونوں صورتیں نہ پائی جائیں توشعبان کے تیس روز پورے کرنے کے بعد ماہِ رمضان شروع ہوجائے گا۔
مسئلہ: شعبان کی انتیسویںتاریخ کی شام کواگرابروغیرہ کے سبب چاند نظر نہ آئے اور کوئی شرعی شہادت بھی چاند دیکھنے کی نہ پہونچے تو اگلا روزیوم الشک کہلاتاہے ، کیونکہ اُس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حقیقۃً چاند ہوگیا ہو، مگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آج چاند ہی مطلع پر نہ آیا ہو، اُس روز میں چونکہ شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا صادق نہیں آتا، اس لئے اُس دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں بلکہ مکروہ ہے، حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے تاکہ فرض اور نفل میں اختلاط اور التباس نہ پیدا ہوجائے(جصاص)
مسئلہ: جن ملکوں میں رات دن کئی کئی مہینوں کے طویل ہوتےہیں وہاں شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا بظاہر صادق نہیں آتا، اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اُن پر روزے فرض ہی نہ ہوں، فقہائے حنفیہ میں سے حلوانی اور قبالی وغیرہ نے نماز کے متعلق تو اسی پر فتویٰ دیاہے کہ ان لوگوں پر اپنے ہی دن رات کے اعتبار سے نماز کا حکم عائد ہوگا، مثلاً جس ملک میں مغرب کے فوراً بعد صبح صادق ہوجاتی ہے وہاں نماز فرض ہی نہیں (شامی) اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جہاں چھ مہینے کا دن ہے وہاں چھ مہینے میں صرف پانچ نمازیں ہوں گی، اور رمضان وہاں آئے گاہی نہیں، اس لئے روزے بھی فرض نہ ہوں گے، حضرت حکیم الامت تھانویؒ نے امداد الفتاویٰ میں روزے کے متعلق بھی اسی قول کو اختیار فرمایاہے۔
(تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



