مضامین

حضرت رسول اکرم ﷺ کی بعثت مبارکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا احسان عظیم-۶

حضرت خُدیجہؓ سے نکاح
ابن اسحٰق کی روایت میں ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے آپ کے تمام حالات سفر اور راہب کا مقولہ اور فرشتوں کا آپؐ پر سایہ کرنا ورقہ بن نوفل سے جاکر بیان کیا ورقہ نے کہاکہ خدیجہ ؓاگریہ واقعات سچّے ہیں توپھر یقیناً محمد ؐ اس امت کے نبی ہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ اُمّت میں ایک نبی ہونے والے ہیں جن کاہم کو انتظار ہے اور ان کا زمانہ قریب آگیاہے۔(۱) ان واقعات کو سُن کر حضرت خدیجہؓ کے دل میں آپؐ سے نکاح کا شوق پیدا ہوا۔ چنانچہ سفر شام سے واپسی کے دومہینہ اور پچیس روز بعد خود حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ سے نکاح کا پیام دیا۔ آپؐ نے اپنے چچا کے مشورہ سے اس کو قبول فرمایا۔ تاریخ معین پر آپﷺاپنے چچا ابوطالب اور حضرت حمزہ اور دیگر روسائے خاندان کی معیت میں حضرت خدیجہؓ کے یہاں تشریف لائے۔ مبردسے منقول ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے والد کا توحرب فجار سے پہلے ہی انتقال ہوچکاتھا۔ نکاح کے وقت حضرت خدیجہؓ کے چچا عمروبن اسد موجود تھے۔ کسی کا قول ہے کہ نکاح کے وقت حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد بھی موجود تھے۔ علامہ سہیلی فرماتے ہیں کہ مبرد ہی کا قول صحیح ہے اور یہی جبیر بن مطعم اور ابن عباس اور عائشہؓ سے منقول ہے۔ روض الانف ،جلد۱، صفحہ ۱۲۲
ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔
"أمّا بعد، فإنّ محمداً ممّن لا يُوازَن به فتى من قريش، الأرجح به شرفاً ونبلاً وفضلاً وعقلاً، وإن كان في المال قلّ، فإنّه ظلٌّ زائلٌ وعاريّةٌ مُسترجعة، وله في خديجةَ بنتِ خويلدٍ رغبةٌ، ولها فيه مثل ذلك.”
امابعد۔ محمدو ہ ہیں کہ قریش میں کاجوجوان بھی شرف اور رفعت اور فضیلت اورعقل میں آپ کے ساتھ تولاجائے تو آپؐ ہی بھاری رہیں گے۔ مال میں اگرچہ آپ کم ہیں لیکن مال ایک زائل ہونے والاسایہ ہے اور ایک عاریت ہے جو واپس کی جانے والی ہے یہ خدیجہ بنت خویلد کے نکاح کی طرف مائل ہے اور اسی طرح خدیجہ آپ سے نکاح کی طرف مائل ہے۔
نکاح کے وقت آپ کی عمر شریف پچیس سالک کی اور حضرت خدیجہ کی عمر شریف چالیس سال کی تھی۔ بیس اونٹ مہر مقرر ہوا(سیرۃ ابن ہشام اور حافظ ابولبشر دولعی فرماتے ہیں کہ مہر کی مقدار ساڑھے بارہ اوقیہ تھی۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کاہوتاہے لہٰذا کل مہرپانچ سودرہم شرعی ہوا۔
آپؐ کا یہ پہلا نکاح تھا اور حضرت خدیجہ کاتیسرا۔ مفصل حالات ان شاء اللہ العزیز ازواج مطہرات کے بیان میں ذکر کریں گے۔ [از کتاب سیرۃ المصطفیٰ، جلد۱]
(جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button