رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں-۲

جیسے سودی لین دین، شراب کا پینا، جوا کھیلنا، ناپ تول میں کمی کرنا، کسی کی ایک انچ زمین غصب کرنا، لوگوں کے دوکان، مکان، جائیداد پر ناجائز قبضہ کرلینا حرام اور گناہ عظیم ہے، اسی طرح رشوت کا لینا یا دینا دونوں حرام ہیں۔
حدیث پاک میں فرمایاگیا رشوت لینے والااور دینے والادونوں دوزخ میں جائیں گے، اس لئے اس گناہِ عظیم سے ہم سختی سے بچیں۔
کن صورتوں میں انتہائی مجبوری کی حالت میں رشوت دینے پر آخرت میں ان شاء اللہ تعالیٰ پکڑ نہیں ہوگی،لیکن لینا تو ہرحال میں حرام ہے۔
تفصیلی احکامات کو ہم جانیں اور حکم شریعت پر عمل کریں۔
رشوت اور چوری کابیان
سوال:(۱۳۷۳)گاؤں پٹواری کو جس سے اندیشہ قوی نقصان ہونے کاہے رشوت دینا کیسا ہے؟ اور یہ رشوت سالانہ مقرر کرلینا کیساہے؟
الجواب:از مولانا اشرف علی صاحب(رحمہ اللہ تعالیٰ) جب بدون دیئے مضرت کا خوف ہے جائز ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(نوٹ) اس فتوی سے رشوت جائز ہوگئی یہ صحیح ہے یانہیں؟(۱۰۲۰/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجوب: از حضرت مفتی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ درمختار کی عبارت یہ ہے: لابأس بالرّشوۃ إذا خاف علی دینہ إلخ (۱) اور شامی میں ہے: دفع المال للسطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہٖ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع إلخ(۱) شامی کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ ظلم کے دفع کرنے کو یا اپنا حق نکالنے کو اگر رشوت دی جائے تودینے والے کے حق میں وہ رشوت نہیں ہے یعنی جائز ہے، لیکن لینے والے کے حق میں حرام ہی رہے گی ، پس معلوم ہوا کہ حنفیہ کا مذہب یہی ہے کہ ایسے موقع پر رشوت دینا گناہ نہیں ہے، کیونکہ وہ مجبورہے کہ بدون دینے رشوت کے اس کانقصان دین یانقصان جان و مال ہوجائے گا، مگر لینے والامرتکب حرام کا اور فاسق ہے، یہی مطلب مولانا اشرف علی صاحب سلمہ کاہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
سرکاری ملازم کا مفوضہ امور کی انجام دہی کیلئے صاحب معاملہ سے کچھ لینا رشوت ہے
سوال:(۱۳۷۴) جوآدمی سرکاری ملازم ہے، اور اس کے پاس کسی کاکوئی کاغذ ضروری ہووے اور وہ اس کاغذ کو کچھ لینے کی وجہ سے گم کرکے بیٹھ جاوے اور جب کچھ دیوے تو کاغذ نکال کر دیوے تویہ رشوت ہے یانہیں؟(۳۰۰/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: یہ رشوت صریح ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند،جلد نمبر۱۷]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



