رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں-۳

حاکم اور غیر حاکم سب کو رشوت لینا حرام ہے
سوال:(۱۳۷۵)رشوت لینا حاکم اور غیر حاکم کو کیساہے؟ القول الجمیل میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ نے جس مقام پر گناہ کبیرہ کو بیان کیا ہے، وہاں یہ بھی فرمایا ہے: والرّشوۃ فی الحکم (۱) خاک سار کی رائے ناقص میں اس فقرہ کا یہ مطلب سمجھ میں آتاہے کہ رشوت لینا حاکم کے واسطے گناہ کبیرہ ہے اور غیرحاکم کو رشوت لینا جائز ہے؟(۱۱۵۸/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: رشوت لینا حاکم اور غیر حاکم سب کو ناجائز ہے، اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے رشوت کے بڑے فرد کو بتلایاہے انحصار مقصود نہیں ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے: من شفع لأخیہ شفاعۃ فاھدی لہ ھدیۃ علیھا، فقبلھا فقد أتی بابا عظیما من ابواب الرّبا، رواہ أبوداود(۲)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس سفارش کردے اور اس وجہ سے صاحب معاملہ سفارش کرنے والے کو کچھ دے تووہ بھی حرام ہے اوربہ منزلۂ ربا کے ہے، ظاہر ہے کہ یہ حرمت بہ سبب رشوت ہونے کے ہے، حالانکہ سفارش کرنے والاحاکم نہیں ہے، الغرض رشوت وہ ہے جو وسیلہ بنایاجاوے مقصود کے حاصل کرنے لیے بدون کسی مبادلہ کے ، مثلاً جن ملازموں کے ذمہ کوئی کام مقرر ہے اس کے پوراکرنے میں وہ صاحب معاملہ سے کچھ لیویں تو یہ رشوت ہے، کیونکہ یہ لینا بلاکسی حق اور بدون کسی عوض کے ہے، اس کام کا عوض اور اجرت ان کو سرکار سے ملتی ہے۔ فی الحدیث: لعن رسول اللہ ﷺ الّراشی والمرتشی، رواہ ابوداؤد وغیرہ(۳) قال فی المرقاۃ: قولہ: (الّراشی والمرتشی) أی معطی الرّشوۃ وآخذھاوہی الوصلۃ الی الحاجۃ بالمصانعۃ واصلہ من الرشاء الذی یتوصل بہ الی الماء۔الخ(۴)
امام کا کسی سے روپیہ لے کر اپنی جگہ امام بنوانا
سوال:(۱۳۷۶)۔۔۔۔(الف) ایک امام مسجد جس وقت اپنے وطن جانے لگا تو ایک شخص سے کچھ روپیہ لے کر اس کو اپنی جگہ کرادیا، یہ روپیہ لینا اور کھانا کیساہے؟
(ب)۔۔۔ امام مذکور نے مؤذن کے ذمہ جھوٹا الزام لگاکر موقوف کردیا، اور دوسرے شخص سےکچھ روپیہ لے کر اس کو مؤذن مقرر کردیا یہ روپیہ لینا کیساہے؟( ۸۸۳/۱۳۳۴ھ)
الجواب:(الف)۔۔۔یہ روپیہ لینا اور کھانا ناجائز اور رشوت ہے اس کو واپس کرنا چاہیے۔
(ب)۔۔۔ وہ روپیہ لینااور کھانا حرام ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند،جلد نمبر۱۷]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



