مضامین

زکوٰۃ کے مصارف واحکامات-۷

زکوٰۃ کی رقم سے مدرسین کی تنخواہ دینا اور مدرسہ کا مکان بنانا کیساہے
سوال:(۱/۳۵۸) زکوٰۃ کسی مدرسہ میں دیناجائز ہے یانہیں، اور مدرسین کی تنخواہ میں یا تعمیر مدرسہ میں صرف کرنا کیساہے۔
یتیم لڑکی جو خادمہ کی حیثیت سے ہے اسکازیور بناناکیساہے
سوال:(۲/۳۵۹) زید کے یہاں ایک یتیم لڑکی صرف روٹی کپڑا پاتی ہے توزید زکوٰۃ کے روپے سے اس کے لئے کچھ کپڑا یا زیور بناسکتا ہے اور جو عورت زکوٰۃ کو معاوضہ خدمت کا سمجھے اس کو دینا درست ہے یانہیں۔
الجواب: (۱) زکوٰۃ کاروپیہ مدرسہ کی تعمیر میں اور مدرسین کی تنخواہ میں بدون حیلہ کے صرف کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ طلبہ کی خوراک وپوشاک میں صرف ہوسکتا ہے ۔
(۲) اور یتیم لڑکی جس کی تنخواہ مقرر نہیں کی گئی صرف روٹی کپڑا دینا مقرر کیاہے اسکو زیو زکوٰۃ سے بنوادینا درست ہے ، یا اس کو نقد دیدے یہ بھی درست ہے۔ کپڑا جو اس کا مقرر ہے وہ زکوٰۃ میں سے نہ بنادے۔ اور اس دوسری عورت خادمہ کو دینا درست نہیں ہے جو اس کو معاوضہ اپنی خدمت کاسمجھے گی۔ فقط
مالدار صدقہ ونذر…اور زکوٰۃ لے سکتاہے یانہیں
سوال:(۳۶۰) مالدار کوصدقہ اور زکوٰۃ اورنذر کامال لینا کیساہے۔
الجواب: حرام ہے۔ فقط
خبر نہ ہونے کی وجہ سے مالک نصاب کوزکوٰۃ دیدی بعد میں معلوم ہوا توکیاکرے
سوال:(۱/۳۶۱)مال زکوٰۃ یا فطرہ یادیگرصدقات واجبہ اگر ایسے شخص کو دیدیں کہ وہ مالک نصاب ہو لیکن دینے والے کو خبر نہ ہو۔
غنی کی نابالغ محتاج اولاد کو زکوٰۃ دینا درست نہیں ہے
سوال:(۲/۳۶۲) یا ان اطفال نابالغین کو دیں کہ خود مفلس محض ہوں لیکن والدین ان کے ذی نصاب ہوں توجائز ہے یانہیں اور زکوٰۃ وغیرہ اداہوگی یانہ۔
الجواب: (۱و۲) اگردینے والے کو اس کے صاحب نصاب ہونے کا علم نہ ہوتو زکوٰۃ ادا ہوجاوے گی۔ وان بان غناہ الخ لایعید الخ (درمختار) اور غنی کی محتاج اولاد صغا ر کو زکوٰۃ وغیرہ صدقات واجبہ دینا درست نہیں ہے اس سے زکوٰۃ ادانہ ہوگی۔ فقط
مجبور سید زکوٰۃ لے یانہیں
سوال:(۳۶۳) جس سید کے کنبہ بہت ہو اور وہ نابینا حاجت مند ہو تو اس کو زکوٰۃ لینا جائز ہے یانہیں۔
الجواب: حنفیہ کے نزدیک صحیح قول کے مطابق اور ظاہر الروایۃ کے مطابق سید کو کسی حال میں زکوٰۃ دینا درست نہیں ہے۔ کما فی الدرالمختار ۔ ثم ظاہر المذہب اطلاق المنع۔ فقط (ایسے مجبور سید کو بطورحیلہ زکوٰۃ لینے کی گنجائش ہے۔ ظفیر)
کسی بھی خدمت کے معاوضہ میں زکوٰۃ لینا اور دینا درست نہیں ہے
سوال:(۳۶۴) داین زکوٰۃ کاپسر حافظ ہے اور وہ رمضان میں قرآن پاک سناتاہے مسجد کے پیش امام جو حافظ ہیں اور سنانے والے کے استاد بھی ہیں وہ پیچھے سنتے ہیں ایسی صورت میں رقم زکوٰۃ سے بطور نذرانہ کچھ پیش امام کو دینا جائز ہوگایانہیں۔
الجواب: ان حافظ صاحب سامع کو زکوٰۃ دینا بمعاوضہ اس سننے کے جیسا کہ دستور ہے جائز نہیں اور درحقیقت یہ نذرانہ نہیں ہے بلکہ معاوضہ ہے اس خدمت سننے قرآن شریف کا ۔ فقط
تعمیر مسجد میں زکوٰۃ کاروپیہ لگانا درست نہیں
سوال:(۱/۳۶۵) زکوٰۃ کاروپیہ تعمیر مسجد میں خرچ ہوسکتاہے یانہیں۔
احاطہ تکیہ میں زکوٰۃ کی رقم صرف ہوسکتی ہے یانہیں
سوال:(۲/۳۶۶) ایک تکیہ میں ایک مسجد واقع ہے اور اس تکیہ کے چار طرف تالاب ہے تو اگر بغرض حفاظت اراضی تکیہ جس میں ایک مسجد بھی واقع ہے، زکوٰۃ کاروپیہ احاطہ تکیہ کی دیوار یاگل اندازی میں صرف کریں تو صرف ہوسکتا ہے یانہیں۔
الجواب: (۱و۲) دونوں جگہ زکوٰۃ کاروپیہ صرف کرنا درست نہیں ہے۔ کمافی عامۃ کتب الفقہ۔ ۲ فقط ——–(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۶)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button