صدقۃ الفطر اور اس کے مسائل

صدقہ عیدالفطر ہر آزاد مسلمان مرد و عورت جس کے پاس سال بھر روز مرہ کے استعمال کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت کا سامان ہو اس کے ذمہ صدقۃ الفطر واجب ہے۔
صدقۃ الفطر کو نماز عید الفطر یعنی عیدگاہ جانے سے قبل ادا کرنا مستحب ہے۔
مسئلہ: صدقۃ الفطر کاوجوب طلوع الفجر کے بعد ہوتاہے۔ لہٰذا جوشخص طلوع فجر سے پہلے فوت ہوگیا اس پر صدقۃ الفطر واجب نہیں اور جو بچہ طلوع فجر سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقۃ الفطر ادا کرنا واجب ہے۔
مسئلہ:صدقۃ الفطر کوعیدالفطر کے دن سے پہلے ادا کرنا درست ہے حتیٰ کہ رمضان سے قبل بھی ادا کردینا درست ہے۔
مسئلہ: صدقۃ الفطر کو نماز عیدالفطر سے پہلے ادا کرنا افضل ومستحب ہے لیکن اگر کسی
مسئلہ:مرض یا کبرسِنی کی وجہ سے اگر روزہ نہ رکھ سکا اور فدیہ دیتا رہا اس پربھی صدقۃ الفطر کا ادا کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: چھوٹے بچے کی طرف سے ولی کوصدقۃ الفطر ادا کرنا چاہیے۔ یہی حکم معتوہ و مجنون اور خادم ونوکرکاہے۔ یعنی ان سب کاصدقہ الفطر ادا کرنا چاہیے۔
مسئلہ: بیوی کا شوہر پر یا بالغ لڑکے کاباپ پرصدقۃ الفطر واجب نہیں ہے لیکن ادا کردینے کی صورت میں ادا ہوجائے گا۔
مسئلہ: ماں باپ کاصدقۃ الفطر اولاد کے ذمہ نہیں گرچہ والدین کی کفالت لڑکا ہی کیوں نہ کررہا ہو۔ (عالمگیری ۔جلد۱۔ صفحہ ۱۹۳)
امام شامی نے باب المصرف میں وضاحت فرمائی ہے کہ یعتبر فی الزکاۃ مکان المال وفی صدقۃ الفطر مکان من یجب۔ واللہ اعلم (عزیز الفتاوی ۔جلد۱۔ص ۳۵۹)
مسئلہ:بچہ مالک نصاب کے ولی نے اس کے مال سے صدقۃ الفطر ادا نہ کیاہوتو بعد از بلوغ اس بچہ کو صدقہ الفطر اداکرنا ہوگا۔ (امدادالفتاوی۔ ج۲۔ص۷۸،شامی ۔ج۲۔ص۳۵۹)
مسئلہ: بچہ مالک نصاب نہ ہو اور والد مالک نصاب تھا مگر صدقۃ الفطر ادا نہ کیاہوتواس بچہ پر اب بعداز بلوغ صدقۃ الفطر کا ادا کرناواجب نہ ہوگا۔ (شامی ۔جلد۲۔ص۳۵۹)
مسئلہ(۱): جس لڑکی کی شادی ہوگئی اور مالدار ہوخواہ بالغ ہو یا نابالغ ہردو صورت میں خود اس کے مال سے صدقۃ الفطر ادا کرناواجب ہے۔
(۲) اگر لڑکی شادی شدہ ہومگر مالدار نہیں تو اس کا صدقۃ الفطر کسی کے ذمہ نہیں
(۳) اگرلڑکی شادی شدہ نابالغ ہورخصت نہیں ہوئی توباپ کے ذمہ ہے۔
اگرلڑکی شادی شدہ نابالغ ہوخاوند کے گھر رخصت ہوگئی ہوبشرطیکہ خاوند کی خدمت کے لائق ہو اس کاصدقۃ الفطر باپ کے ذمہ واجب نہیں۔



