Uncategorized

صدقہ فطر

صدقۂ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس ضروریاتِ زندگی کے علاوہ ۶۱۲ گرام ۳۶۰ ملی گرام چاندی یا ۸۷ گرام ۴۸۰ ملی گرام سونا یا اس کی قیمت کے بقدر رقم ہو یا حوائج اصلیہ سے زائد ایسی چیزیں موجود ہوں جن کی قیمت بقدر نصاب ہو خواہ وہ چیزیں تجارت کیلئے نہ ہوں جیسے رہائش کے کان سے زائد مکان، گھر کے مصارف کے بقدر کاشت کاری کی زمین سے زائد زمین، ضرورت کے کپڑوں اوربرتنوں سے زائد کپڑے اور برتن وغیرہ (۲) صدقہ فطر کے نصاب پر سال کاگذرنا شرط نہیں ہے بلکہ عیدالفطر کے روز صبح صادق کے وقت بقدر نصاب مالیت کا ہونا صدقۂ فطر کے وجوب کے لیے کافی ہے (۳) جس کے پاس نصاب مذکور کے بقدر مال ہو وہ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے(۴) ایک آدمی کا صدقہ فطر ایک کلو ۶۳۳ گرام گندم یا تین کلو ۲۶۶ گرام جو یا ان کی قیمت ہے (۵) رمضان کی آخری تاریخ میں یا یکم شوال کی صبح صادق سے قبل پیدا ہونے والے بچہ کاصدقہ فطر دینابھی لازم ہے (۶) صدقہ فطر انہیں لوگوں کو دیا جاسکتا ہے جن کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(۷) صدقۂ فطر صبح سویرے نماز عید کے لیے جانے سے پہلے دیدے اگر پہلے نہیں دیا تاخیر کردی تب بھی یہ ساقط نہیں ہوگا، بعد میں ادا کرنا ضروری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button