مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۳)۔۔۔۔احکامات تراویح

ایک یا تین یا سات راتوں میں ختم کرنا
س: آج کل بعض شہروں میں کسی جگہ ایک رات میں تراویح کے اندر قرآن کریم ختم کیا جاتاہے ۔ اوربعض جگہ تین راتوں میں اور بعض جگہ سات راتوں میں اس کاکیاحکم ہے؟
ج:اگر ایک رات میں یا تین یا سات راتوں میں تراویح کے اندر قرآن کریم قواعد تجوید کے مطابق صاف صاف اوربالکل صحیح طریقہ سے پڑھاجائے حروف کاٹے نہ جائیں اور صرف یَعْلَمُون تَعْلَمُون سنائی نہ دے بلکہ کلام پاک اچھی طرح سامعین کے سمجھ میں آئے اور نمازی خوش دلی سے اس میں شریک ہوں تو اس طرح ختم کرنا جائز ہے۔ شرعاً کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن اگر قرآن کریم صاف اور صحیح نہ پڑھاجائے۔ حروف کٹنے لگیں سامعین کو سوائے یعلمون تعلمون کے کچھ سمجھ میں نہ آئے جیسا کہ بعض جگہ کی صورت حال اسی طرح ہے۔ تو پھر اس طرح قرآن حکیم کاپڑھنا عظمت قرآن کےخلاف ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اس طرح کا پڑھنا خود حکم قرآن کے خلاف ہے۔ ورتل القرآن ترتیلا۔۔
عام طورپر یہی دیکھاگیا ہے کہ جب علامت وقف پرامام صاحب ٹھہرتے ہیں رکوع کے لئے یا سانس لینے کے لئے توپتہ چلتاہے کہ حکیم یا علیم یا سمیع وبصیر پڑھاگیاہے۔ درمیان میں اللہ رب العالمین کا۔خطاب کیا گزرا ،کچھ پتہ نہیں۔ اس لئے حفاظ کرام کو اس طرف بطور خاص توجہ دینی چاہیے۔ تھوڑاہی پڑھاجائے مگر سکون ووقارسے۔ کلام اورصاحبِ کلام کی رعایت واحترام کے ساتھ تلاوت کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



