مضامین

رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟۔۔۔۔۔۔بڑاعجیب رشتہ

بڑا عجیب رشتہ
نکاح کا یہ رشتہ بڑا عجیب رشتہ ہے، بڑا مضبوط بھی، نہایت کمزور بھی۔۔۔۔دو شخصیتیں ہیں مرد اور عورت، ہرایک کی اپنی اپنی طبعی، فطری، مزاجی خصوصیات ہیں، دونوں کی پسند ناپسند ہر معاملہ میںایک ہو، ضروری نہیں ہے۔۔۔ غور کا پہلو سب سے اہم وہ ہے جس کی طرف قرآن مجید نے توجہ دلائی ہے۔
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء۔۱۹)
عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہوئے زندگی گزارو، اگروہ تمہیں ناپسند بھی ہوں تو(تمہارے عمدہ رویے میں فرق نہ آئے) ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہواور اللہ تعالیٰ اس میں بہت زیادہ خیروبرکت کاسامان رکھ دے۔
ہرانسان میں ۔ مرد ہو یا عورت۔ کچھ باتیں اچھی ہوتی ہیں، پسندیدہ ہوتی ہیں، اور کچھ نہ کچھ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ عام انسان میں خوبیاں ہی خوبیاں ہوں۔ اوریہ بھی نہیں کہ کمزوریاں ہی کمزوریاںہوں۔ خوبی اور کمزوری ملی جلی ہوگی۔ نقطہ نظر یہ ہونا چاہیے کہ خوبیوں پر نگاہ ہو اور کمزوریوں کونظرانداز کردیاجائے۔
نبی ﷺ نے کیا خوب بات ارشاد فرمائی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ (رواہ مسلم ، مشکوٰۃ ، باب عشرۃ النساء)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد( اپنی) مومن بیوی سے بغض نہیں رکھ سکتا، اگراس کی ایک خصلت بُری محسوس ہوگی، تو دوسری عادت اسے پسند آئے گی،۔
یہی ایک صورت ہے جس سے شادی کارشتہ قائم بھی رہ سکتاہے ، اور خوشگوار بھی بن سکتا ہے۔
خوش رہنے کاطریقہ۔ایڈجسٹمنٹ
دراصل ’’ایڈجسٹمنٹ‘‘زندگی کابنیادی اور فطری اصول ہے۔۔۔۔اگرآپ ایڈجسٹمنٹ نہیں کرسکتے تو کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے۔
کچھ سال پہلے میں نے مصنوعی دانتوں کا سیٹ بنوایا، دندان ساز نے جو اپنے کام میں بڑے ماہر ہیں، ہرطرح ناپ تول کرکے بہت عمدہ سیٹ بنایا، مگر چند دن مجھے کافی پریشانی رہی۔۔۔ نہ کچھ کھاسکتا تھا، نہ چباسکتا تھا، آخرچند روز کے بعد نئے دانتوں نے مسوڑوں کوراضی کرلیا اور اپنی جگہ بنالی، اب یہ مصنوعی دانت میرے جسم کا ایک حصہ بن گئے ہیں ، اب ہماری ان سے خوب نبھ رہی ہے۔
ایک اورپہلو بھی قابل توجہ ہے ، خاص طورپر مومنانہ نقطۂ نظر سے ، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً (روم۔۲۱) تم دونوں کے درمیان مودت ورحمت پیدا کردی۔ یہ دلوں کو جوڑنا، ایک دوسرے کیلئے محبت پیدا کرنا اس کا کام ہے جو مقلب القلوب ہے ، انسانوں کے دل جس کی دوانگلیوں کے درمیان رہتے ہیں، جدھر کو وہ چاہے دل کو موڑ دیتا ہے۔
ہم نے ایسے جوڑے بھی دیکھے ہیں، اپنے ہی قریب کے لوگوں میں کہ شوہر صورت وسیرت اور قابلیت میں لاجواب اور بیوی معمولی شکل کی۔ مگر دونوں میں خوب گاڑھی چھن رہی ہے، شوہر کی نظرمیں وہ معمولی صورت بھی پسندیدہ ہے۔
ہمارے ایک دوست نے اپنا واقعہ بتایا کہ میری شادی ہوئی ، بیوی شکل وصورت و مزاج کے اعتبار سے بہت اچھی، پڑھی لکھی اور سلیقہ مند ، باعصمت اور دیندار۔ صورت سے نہ لگتی تھی مگر عمر میں مجھ سے تھوڑی زیادہ تھی مگر اس کے جسم میں وہ لوچ نہ تھا جو مجھے اپنی طرف راغب کرسکے۔ شادی کے تھوڑے دن کے بعد ہی میں سعودی عرب چلاگیا ، میں نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر اللہ سے گڑگڑا کر دعاء کی، رب العالمین یاتو اس کی محبت میرے دل میں ڈال دے، یا پھر مجھے اپنے گھر میں رکھ لے کہ یہیں کی مٹی میں سماجاؤں ، اللہ تعالیٰ نے اس کی محبت میرے دل میں ایسی ڈالی کہ چالیس سال زندگی کے خوب اچھے گزرے۔
وہی تو ہے جو دلوں میں محبت والفت کے پھول کھلاتاہے۔
وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button