مضامین

رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟ بڑاعجیب رشتہ–(۲)

احساس برتری مہلک ہے
مرد کا احساس برتری بھی بعض اوقات ناخوشگوار ی کا ایک سبب بن جاتاہے، احساس برتری کے بجائے احساس رفاقت ہونا چاہیے۔ کیونکہ فی الواقع یہ رشتہ رفاقت کاہے۔
افراط وتفریط۔ کمی اورزیادتی دونوں ہی غلط ہیں۔ ایسے خونخوار بننے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کے گھر میں آنے سے گھروالے کانپ کر رہ جائیں ۔’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔‘‘
’’گربہ کُشتن روزاول‘‘(بلی کو پہلے دن ماردینا چاہیے) ایک محاورہ ہے، بات ہورہی تھی کہ یہ محاورہ کیسے اورکہاں سے چلا۔ معلوم ہوا کہ ایک صاحب کی شادی ہونے والی تھی ، دوستوں نے مشورہ دیا کہ پہلے دن سے ہی گھروالی پہ اپنا رعب جمالینا، ورنہ ساری عمر جورو کے غلام بن کر رہ جاؤ گے۔ رعب کیسے جمایا جائے؟
طے پایا کہ حجلۂ عروسی میں ایک بلی چھوڑ دی جائے۔ شوہر بہادر کمرے میں داخل ہوئے، دلہن کے کمرے میں بلی کو دیکھ شیخ پا ہوگئے، میان سے تلوار نکالی اور بلی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔ یہ ہے ’’گربہ کشتن روز اول‘‘بلی کو مارکر بیوی پر رعب جمانے کا کارگرنسخہ۔ اور نہ زن مریدی قابل تعریف ہے۔ معاملہ بین بین ہے۔ گھروالوں پر اپنا خلاقی اثرکھیئے اور ان سے رفاقت ومودت کابرتاؤ کیجیے تاکہ وہ دل سے آپ کے چاہنے والے بن جائیں۔
یہاں مالیر کوٹلہ کی ہی بات ہے، ہمارے قریب کے محلہ میں ایک ریٹائرڈ تھا نیدار صاحب تھے، بیوی کا انتقال ہوگیاتھا، اچھی خاصی عمر میں دوسری شادی کی، قریب کےگاؤں کی اچھی عمر کی نیک خاتون تھیں، تھانیدار صاحب نے تھانے داری دکھانی شروع کی۔ چارپائی کے نیچے بیوی کے ہاتھ رکھواکر اس پر بیٹھ جاتے تھے، جب بات ناقابل برداشت ہوگئی تو وہ خاتون میرے پاس آئیں ، تھانے دار صاحب کے ظلم وستم کی داستان سن کر دل پر اثر ہوا، میں نے خاتون سے کہاکہ آپ ذراجمی رہیں ان تھانے دار کو تو میں سیدھا کردوں گا۔
میں نے ان کو بلایا، بات وہی تھی جوان کی بیوی نے بتلائی تھی، میں نے ان کو زبانی سمجھایابھی اور ان کی طر ف سے ایک اقرارنامہ کامضمون تیار کیا جس میں ان سے اقرار لیاگیا تھا کہ وہ اپنی بیوی پرکوئی زیادتی نہیں کریں گے اس کے حقوق شریعت کے دائرے میں ادا کریں گے ، اگرانہوں نے خلاف ورزی کی تو بیوی کو اختیار ہے کہ اپنے اوپر طلاق بائن واقع کرکے ان کے نکاح سے آزاد ہوجائے، ان کے ایک عزیز سیشن جج تھے، کہنے لگے میں ان سے بھی رائے لے لوں، انہوں نے رائے لی تو سیشن جج جو، ان کے بھانجے تھے ہنسنے لگے، کہ ماما آپ ٹھیک رہے تو کچھ نہیں پگڑے گا۔ آپ بگڑے تو سب بگڑ جائے گا۔ خیر اقرارنامہ مکمل ہوگیا اور تھانیدار صاحب ٹھیک چلتے رہے، کبھی ادھر ادھر ہوتے تھے تو بیوی فوراً کاغذ کا حوالہ دے کر تھانیدار صاحب کو ٹھنڈا کردیتی تھی۔ آخر عمر میں کافی بیمار ہوئے ،بیوی نے بڑی خدمت کی، میں مزاج پرسی کے لئے گیا تو بڑی دعائیں دیتے رہے۔ کہ آپ نے مجھے صحیح راستہ بتادیا ورنہ آج میری خدمت کرنے والاکون ہوتا۔
اس واقعہ کو نقل کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مرد کا احساس برتری کبھی کبھی اس رشتے میں بڑا رخنہ پیدا کرتاہے۔
قرآن مجید صاف صاف اعلان کرتاہے کہ
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ (البقرہ ۔۲۲۸)
اور جس طرح عورتوں پر ذمہ داریاں اسی طرح دستور کے مطابق ان کے حقوق ہیں۔
اس کے بعد اسی آیت کا حصہ ہے کہ
وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ
البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ(بحیثیت نگراں) بڑھ کرحاصل ہے۔
یہ ایک درجہ جو مردوں کو حاصل ہے ان کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہے۔ یعنی ان کی ذمہ داری عورتوں سے بڑھ کرہے۔ ذمہ دار عورت بھی ہے مگر اس کے مقابلے میں بحیثیت نگراں کے مرد کی ذمہ داری زیادہ ہے۔
[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button