مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۱۵

ساس اور بہو میں نہ بنے تو کیا کرنا چاہیے؟
سوال : (۱۰۳۴) اگر بہو اور ساس کی نہ بنے تو لڑکے اور بیوی کو علیحدہ کرنا چاہیے یا کیا؟(۲۱۳۸/ ۱۳۳۸ھ)
الجواب: ایسا ہی کرنا چاہیے۔ فقط
نادار لڑکے پر والدین کا نفقہ واجب نہیں
سوال: (۱۰۳۵) ایک شخص اپنے چھ لڑکوں کو علیحدہ کر کے ہر ایک سے پانچ روپیہ ماہوار مانگتا ہے، پہلی زوجہ سے جو لڑکا ہے وہ کہتا ہے کہ میں قرض دار ہوں دوسرے لڑکوں سے لو، اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (۱۳۴۱/۲۹۰۸ھ)
الجواب: جولڑ کا نادار اور غیر مستطیع ہے اس کے اوپر باقی اولاد اغنیاء کے برابر نفقہ کا بار ڈالنا شریعت میں نہیں ہے، بلکہ صرف اغنیاء کے ذمے ہے (1) لہذا نا دار لڑکے کا عذر شرعًا صحیح و مقبول ہے۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ (سوره بقره، آیت: ۲۸۶) فقط
والدین اجازت نہ دیں تب بھی بہ قدرضرورت علم دین حاصل کرنا ضروری ہے
سوال: (۱۰۳۶) اگر والدین اجازت نہ دیں تو علم دین پڑھنے کا کیا حکم ہے؟(۱۳۳۴-۳۳/۱۷۲۵ھ)
الجواب: علم دین به قدر ضرورت حاصل کرنا ضروری ہے، بلا اجازت والدین بھی اس کوحاصل کرنا چاہیے۔ فقط
ماں باپ کی اجازت کے بغیر اور بیوی بچوں کے ضائع ہونے کی صورت میں علم دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا
سوال: (۱۰۳۷) والدین اگر بڈھے ہوں اور ان کے پاس گذر معاش موجود ہو تو ان کو چھوڑ کر بدون اجازت سفر میں برائے طلب علم جانا کیسا ہے؟ اور عورت کا کیا حکم ہے؟ (۱۳۳۱/۲۷۶۵ھ)
الجواب: در مختار میں ہے: وله الخروج لطلب العلم الشرعي بلا إذن والديه الخ أي إن لم يخف على والديه الضيعة إن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه الخ (1) (شامی) پس معلوم ہوا کہ بہ حالت مذکورہ نکلنا طلب علم کے لیے جائز ہے، اور زوجہ وعیال کے ضائع ہونے کی صورت میں طلب علم کے لیے نکلنا منع لکھا ہے۔ و لو خرج المتعلم وضيع عياله ، يراعى حق العيال (1) (شامی)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!