گناہوں کو مٹانے والے اعمال توبہ واستغفار-۳

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمای: اللہ کے کسی بندے نے کوئی گناہ کیا، پھر اللہ سے عرض کیا: اے میرے مالک! مجھ سے گناہ ہوگیا، مجھے معاف فرمادے!تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میراہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی مالک ہے جو گناہوں پر پکڑ بھی سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف کردیا، اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رکارہا اورپھر کسی وقت گناہ کر بیٹھا اور پھر اللہ سے عرض کیا: میرے مالک ! مجھ سے گناہ ہوگیا، مجھے معاف فرمادے! تو اللہ تعالیی نے فرمایا : کیا میر ابندہ جانتا ہے کہ اس کاکوئی مالک ہے جو گناہوں پر پکڑ بھی سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتاہے؟ میں نےا پنے بندے کاگناہ معاف کردیا، اس کےبعد جب تک اللہ نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رکا رہا، اورپھر کسی وقت گناہ کر بیٹھا ، اور پھر اللہ سے عرض کیا: میرے مالک! مجھ سے گناہ ہوگیا، مجھے معاف فرمادے! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میرابندہ جانتاہے کہ اس کا کوئی مالک ہے جو گناہوں پر پکڑ بھی سکتاہے اور معاف بھی کرسکتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف کردیا، اب جو اس کا جی چاہے کرے۔
آخری بار کےاستغفار اور معافی کے اعلان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جویہ فرمایا:’’ اب جو اس کا جی چاہے کرے‘‘اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اب اس کوگناہوں کی بھی اجازت دے دی گئی ہے، بلکہ ان الفاظ میں مولیٰ کے صرف اس لطف وکرم کا اعلان کیاگیاہے کہ اے بندے توجتنی بار بھی گناہ کرکے استغفار کرتا رہے گا میں تجھے معافی دیتارہوں گا ، تو گناہوں کے زیر سے ہلاک نہیں ہوگا بلکہ سچا اور مومنانہ استغفار ہمیشہ گناہ کے زہر کے لیے تریاق کاکام کرتا ہے گا۔ ( معارف الحدیث ۵؍۲۰)
جس طرح اپنے لیے مغفرت کی دعا کرنا ایک محبوب عمل ہے، اس طرح اللہ کے عام بندوں خصوصاً اپنے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرنا بھی ایک بہترین عمل ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قبر میں مردے کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو دریا میں ڈوب رہا ہو اور مدد کے لیے چیخ وپکار کررہا ہو، وہ بے چارہ انتظار کرتا ہے کہ ماں باپ بھائی یا کسی دوست آشنا کی طرف سے رحمت ومغفرت کی دعا کاکوئی تحفہ پہنچے، جب کسی کی طرف سے اس کودعا کا تحفہ پہنچتاہے تووہ اس کو دنیا اور دنیا میں جوکچھ ہے اس سے زیادہ عزیز ومحبوب ہوتا ہے ، اور دنیا میں رہنے والوں کی دعاؤں کی وجہ سے پہاڑوں کی طرف عظیم ثواب اللہ کی طرف سے ملتاہے ، اور مردوں کے لیے زندوں کی طرف سے خاص ہدیہ ان کے لئے دعائے مغفرت ہے۔
اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنِ اسْتَغْفَرَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ حَسَنَةً.»
(رواہ الطبرانی فی مسند الشاميين۲۱۵۵ والھیشمی فی مجمع الزوائد ۱۰/۲۱۳)
جو بندہ عام ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے اللہ سے مغفرت مانگے گا تو اس کےلیے ہر مومن مرد وعورت کی طرف سے نیکی لکھی جائے گی۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنِ اسْتَغْفَرَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، كَانَ مِنَ الَّذِينَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ، وَيُرْزَقُ بِهِمْ أَهْلُ الْأَرْضِ.»(اخرجہ الھیثمی فی مجمع الزوائد ۱۰/۳۵۲)
جو بندہ عام مؤمن مردوں اور عورتوں کے لیے روزانہ ستائیس بار اللہ سے مغفرت کی دعا کرےگا، وہ اللہ کے ان مقبولک بندوںمیں شامل ہوجائے گا جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اورجن کی برکت سے دنیاوالوکو رزق ملتاہے۔
استغفار کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں ، یہاں بس گناہوں کے مٹانے والے اعمال کا مختصرتذکرہ مقصود ہے، اس لیے بس انہیں چند احایث پر اکتفا کیاجاتاہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں صبح وشام استغفار کی توفیق عطافرمائے۔، آمین
(ماخوذ از ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد۔جولائی ۲۰۲۶ء) ۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ



