مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۲)۔۔۔۔احکامات تراویح

تراویح میں پورا قرآن کریم پڑھنا سنت ہے
س: تراویح میں پورا قرآن کریم پڑھنا افضل ہے یا سنت؟
ج: ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا (پڑھ کریاسن کر) سنت ہے دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے۔ لہٰذا اگر ہر رکعت میں تقریباً دس آیتیں پڑھی جائیں تو ایک مرتبہ بسہولت ختم ہوجائے گا اور مقتدیوں کوبھی گرانی نہ ہوگی۔ تاہم لوگوں کی سستی کی وجہ سے حتی الامکان سنت کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ (درمختار خانیہ)
مسئلہ:جولوگ حافظ ہیں ان کے لئے فضیلت یہ ہے کہ مسجد سے واپس آکر بیس رکعت اور پڑھاکریں تاکہ دومرتبہ ختم کرنے کی فضیلت حاصل ہوجائے۔(خانیہ)
مسئلہ: ہرعشرہ میں ایک مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔(فتاویٰ محمودیہ بحوالہ بحر)
(خانیہ علی الھندیہ ،جلد ۱، صفحہ ۲۳۸)
مسئلہ:اگر مقتدی اس قدر ضعیف اور کاہل ہوں کہ ایک مرتبہ بھی پورا قرآن شریف نہ سن سکیں بلکہ اس کی وجہ سے جماعت چھوڑدیں۔ توپھر جس قدر سننے پروہ راضی ہوں اس قدرپڑھ لیا جائے یا اَلَمْ تَرَکَیْفَ سے پڑھ لیاجائے۔(بحر) لیکن اس صورت میں ختم کی سنت سے محروم رہیں گے۔ (فتاویٰ محمودیہ بحوالہ خانیہ)
مسئلہ: اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف ختم نہ کرے توپھر کسی دوسری مسجد میں جہاں پر ختم ہو تراویح پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔(کبیری)
کیونکہ ختم کی سنت وہیں حاصل ہوگی۔ (فتاویٰ محمودیہ)
مسئلہ: تراویح میں ایک مرتبہ کسی سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کوبھی زور سے تمام قرآن شریف کی طرح پڑھنا چاہیے آہستہ پڑھنے سے امام کاتو قرآن شریف پوراہوجائے گا مگر مقتدیوں کاپورانہ ہوگا۔(فتاویٰ محمودیہ)
مسئلہ: اگرکوئی آیت چھوٹ گئی اور کچھ حصہ آگے(احکام البسملہ) پڑھ کریاد آیا کہ فلاں آیت چھوٹ گئی ہے تو اس کے پڑھنے کے بعد آگے پڑھے ہوئے حصہ کا اعادہ بھی مستحب ہے۔ (محمودیہ، ہندیہ صفحہ ۱۱۸)
مسئلہ: کسی چھوٹی سورت کا فصل کرنا دورکعت کے درمیان فرائض میں مکروہ ہے تراویح میں مکروہ نہیں۔(فتاویٰ محمودیہ بحوالیہ بحر)
۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



