رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں

جیسے سودی لین دین، شراب کا پینا، جوا کھیلنا، ناپ تول میں کمی کرنا، کسی کی ایک انچ زمین غصب کرنا، لوگوں کے دوکان، مکان، جائیداد پر ناجائز قبضہ کرلینا حرام اور گناہ عظیم ہے، اسی طرح رشوت کا لینا یا دینا دونوں حرام ہیں۔
حدیث پاک میں فرمایاگیا رشوت لینے والااور دینے والادونوں دوزخ میں جائیں گے، اس لئے اس گناہِ عظیم سے ہم سختی سے بچیں۔
کن صورتوں میں انتہائی مجبوری کی حالت میں رشوت دینے پر آخرت میں ان شاء اللہ تعالیٰ پکڑ نہیں ہوگی،لیکن لینا تو ہرحال میں حرام ہے۔
تفصیلی احکامات کو ہم جانیں اور حکم شریعت پر عمل کریں۔
رشوت اور چوری کابیان
رشوت کی تعریف
سوال:(۱۳۶۹) رشوت کی تعریف کیاہے؟ (۵۸۰/۱۳۳۹ھ)
الجواب: رشوت کی تعریف علامہ شامی نے یہ نقل کی ہے کہ رشوت اس کانام ہے کہ آدمی حاکم یا غیر حاکم کو اس لیے دیتا ہے کہ وہ حاکم اس کے نفع کاحکم کرے، یاوہ غیر حاکم حاکم کو اس بات پر آمادہ کرتا ہو کہ وہ ایسا فیصلہ صادر کرے جو دینے والے کے حسب منشا ہو۔ قال فی الشامی:وفی المصباح:الرِّشوۃ بالکسر:ما یعطیہ الشخص الحاکم وغیرہ لیحکم لہ، أو یحملہ علی ما یرید (۱) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت کے مال کا کیا حکم ہے؟
سوال:(۱۳۷۰)رشوت کے مال کا کیاحکم ہے؟ اس کو کیا کرنا چاہیے؟( ۵۱۸/ ۱۳۳۴ھ)
الجواب: رشوت کے پیسہ کا اصل حکم یہ ہے کہ جن سے لیاہے انہیں کوواپس کرے، اگر وہ نہ ہوں، ان کے وارثوں کو دیوے یا معاف کرواے، اور اگرمالک یا اس کو وارث نہ ملے تو پھر حکم اس کا یہ ہے کہ فقیروں پرصدقہ کرے مالک کی طرف سے، اپنے لیے ثواب کاامیدوار نہ رہے، بلکہ یہی غنیمت سمجھے کہ مواخذہ سے بری ہوجائے(۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت کے روپیوں کی واپسی دشوار ہوتو کیاکرے؟
سوال:(۱۳۷۱) جوروپیہ رشوت کالوگوں سے لیاگیاتھا وہ خرچ ہوچکا، اس سے کوئی جائیداد بھی نہیں خریدی، اس لیے اس کی واپسی دشوار ہے تو مواخذہ خروی سے کیسے نجات ہو؟
(۵۰۹/۱۳۴۱ھ)
الجواب: جوروپیہ رشوت کاواپس نہ ہوسکے اور اس میں دشواری ہو جیسا کہ صورت سوال سے ظاہرہے تو اس کی برأت کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ ان لوگوں سے جن سے رشوت لی گئی تھی اور وہ واپس نہیں ہوئی معافی کرالی جاوے اور ان سے یہ کہاجاوے کہ جو حقوق تمہارے میرے ذمے ہیں ان کو معاف کردو تو اس صورت میں بھی مواخذہ اخروی سے برأت ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم
نقصان سے بچنے کے لیے رشوت دینا
سوال:(۱۳۷۲) ایک آدمی مسلمان نے ٹھیکہ کاکام مشکل عمارت یا نالی کی کھدائی وغیرہ کا ٹھیکہ لیاہے، اور موجب اقرارنامہ میعاد پر بلاکسی نقص کے ختم کردیتاہے، اب حکام کام دینے والے بغیر لینے رشوت کے ٹھیکے دار مذکور کو بہت دق کرتے ہیں ، اگر وہ رشوت نہیں دیتاہے تو اس کو بالضرور کسی نہ کسی طرح کانقصان پہنچاتے ہیں، اسی طرح بغیر دینے رشوت ٹھیکے دار مذکور چھوٹ نہیں سکتا، اس صورت میں اس کو نقصان سے بچنے کے لئے اور اپنی عزت کوبچانے کیلئے اور آئندہ فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ نقد روپیہ یا بہ طورتحفہ کے اشیاء خوشامد کرکے ان کو خفیۃً دیتاہے آیایہ جائز ہے یانہیں؟(۵۰۲/ ۲۹-۱۳۳۰ھ)
الجواب: نقصان سے بچنے کےلیے اور آبرو وعزت کے لیے رشوت دینا جائز ہے،۔دلیلُه: دفعُ المالِ للسُّلطانِ الجائرِ لدفعِ الظُّلمِ عن نفسِهِ ومالِهِ، أو لاستخراجِ حقٍّ له، لیس برِشوَةٍ، یعنی فی حقِّ الدافعِ الخ (۱) (۵/۳۷۴)
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند،جلد نمبر۱۷]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



