زکوٰۃ کے مصارف واحکامات-۶

زکوٰۃ کی رقم سے ارباب مدرسہ قرض دے سکتے ہیں یانہیں
سوال:(۱/۳۵۳)مہتمم مدرسہ یا اراکین مدرسہ کو بلااجازت معطیین کے زکوٰۃ یادیگر صدقات میں سے قرض دینا یا قرض لے کر اور مدرسین کی تنخواہ میں صرف کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔
زکوٰۃ کو حیلہ کے ذریعہ تنخواہ میں خرچ کرنا کیساہے
سوال:(۲/۳۵۴) مہتمم یا اراکین مدرسہ اس حلہ سے کہ اول قیمت چرم قربانی یا زکوٰۃ بلا اجازت عطا کنندگان کے کسی طالب علم کو دیدے پھر ان سے واپس لے کر تنخواہ مدرسین وملازمین میں صرف کردے، یہ صرف کرنا جائز ہے یانہیں۔
الجواب: (۱) ظاہر ہے کہ جائز نہیں ہے۔
(۲): ایسے حیلہ کو فقہاء نے جائز رکھاہے۔ کذافی الدرالمختار
زکوٰۃ سے مدرسہ کے ملازمین کی تنخواہ دینا درست ہے یانہیں
سوال:(۳۵۵) ہمارا ارادہ ہے کہ ایک مدرسہ بناویں اور اس کے اخراجات یعنی تنخواہ مدرسین وغیرہ اور طلبہ کا خرچ سب مدزکوٰۃ سے دیں۔ کیا تنخواہ ملازمین مدزکوٰۃ سے دینی درست ہے۔
الجواب: معلم کو تنخواہ میں زکوٰۃ کا روپیہ دینا درست نہیں ہے۔ زکوٰۃ بلاکسی معاوضہ تعلیم وغیرہ کے للہ مساکین اور غرباء کو دینا اور ان کو مالک بنانا ضروری ہے۔ ہکذافی کتب الفقہ
زکوٰۃ طلبہ پر خرچ کرنا کیساہے
سوال:(۳۵۷) اگر روپیہ زکوٰۃ درمصارف مدرسہ مثلاً خورد ونوش ولباس وکتب وغیرہ طلبہ مساکین اداکردہ شودزکوۃ اداخواہد شدیانہ و برائے یک طالب علم صدروپیہ صرف کردن جائز است یا نہ وبرائے تنخواہ مدرسین وملازمین اززکوٰۃ کی ام حیلہ است
الجواب: درزکوٰۃ تملیک فقراء شرط است پس طلبہ اگرمساکین باشند درخوراک ولباس شاں صرف کردن زرزکوٰۃ درست است، وکتب اگراززرزکوٰۃ خریدہ ملک اوشاں کردہ شوداینہم صحیح است، اگر۔۔۔۔بدیں طوریک طالب علم صد روپیہ صرف شوند صحیح شدوبرائے تنخواہ مدرسین و ملازمین ایں حیلہ جواز است کہ اولاً اززکوٰۃ بہ شخصے مسکین دا دہ شود وآنکس بعد ملک ازجانب خود درتنخواہ مدرسین وغیرہ بد ہدایں جائز است۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۶)



