مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۱۰

مقصود روزہ دار کا کمال تقرب ہے، کہ بمنزلہ محبوب کے بن جاتا ہے ،روزہ حق تعالیٰ شانہ کی محبوب ترین عبادتوں میں سے ہے اسی وجہ سے ارشاد ہے کہ ہرنیک عمل کا بدلہ ملائکہ دیتے ہیں مگر روزہ کا بدلہ میں خود عطا کرتا ہوں اس لیے کہ وہ خالص میرے لیے ہے۔ بعض مشائخ سے منقول ہے کہ لفظ : اُجْزیٰ بِہٖ ہے یعنی یہ کہ اس کے بدلہ میں میں خود اپنے کو دیتا ہوں۔ اورمحبوب کے ملنے سے زیادہ اونچا بدلہ اور کیا ہوسکتاہے ۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ساری عبادتوں کادروازہ روزہ ہے یعنی روزہ کی وجہ سے قلب منور ہوجاتاہے جس کی وجہ سے ہر عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے مگر جب ہی کہ روزہ بھی روزہ ہو صرف بھوکا رہنا مراد نہیں بلکہ آداب کی رعایت رکھ کر جن کابیان حدیث نمبر۹ کے ذیل میں مفصل آئے گا۔
اس جگہ ایک ضروری مسئلہ قابل تنبیہ یہ ہے کہ اس منہ کی بدبو والی حدیثوں کی بناء پر بعض ائمہ روزہ دار کو شام کے وقت مسواک کرنے کو منع فرماتے ہیں حنفیہ کے نزدیک مسواک ہر وقت مستحب ہے اس لیے کہ مسواک سے دانتوں کی بوزائل ہوتی ہے اور حدیث میں جس بو کا ذکر ہے وہ معدہ کے خالی ہونے کی ہے نہ کہ دانتوں کی ، حنفیہ کے دلائل اپنے موقع پر کتب فقہ وحدیث میں موجود ہیں۔
دوسری خصوصیت مچھلیوں کے استغفار کرنے کی ہے اس سے مقصود کثرت سے دعا کرنے والوں کابیان ہے متعدد روایات میں یہ مضمون وارد ہواہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ملائکہ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ میرے چچا جان کاارشاد ہے کہ مچھلیوں کی خصوصیت بہ ظاہر اس وجہ سے ہے کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (ترجمہ) جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے حق تعالیٰ شانہ ان کے لیے (دنیا ہی میں) محبوبیت فرمادیں گے اور حدیث پاک میں ارشاد ہے جب حق تعالیٰ شانہ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں توجبرئیل علیہ السلام سے ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں شخص پسند ہے تم بھی اس سے محبت کرو، وہ خود محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان پرآواز دیتے ہیں کہ فلاں بندہ اللہ کا پسندیدہ ہے تم سب اس سے محبت کرو ، پس اس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اورپھر اس کے لیے زمین پرقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور عام قاعدہ کی بات ہے کہ ہر شخص کی محبت اس کے پاس رہنے والوں کو ہوتی ہے لیکن اس کی محبت اتنی عام ہوتی ہے کہ آس پاس رہنے والوں ہی کو نہیں بلکہ دریا کے رہنے والے جانوروں کوبھی اس سے محبت ہوتی ہے کہ وہ بھی دعا کرتے ہیں اور گویا برسے متجاوز ہوکر بحر تک پہنچنا محبوبیت کی انتہا ہے ۔ نیز جنگل کے جانوروں کادعا کرنا بطریق اولیٰ معلوم ہوگیا۔
تیسری خصوصیت جنت کامزّین ہوناہے یہ بھی بہت سی روایات میں وارد ہواہے ۔ بعض روایات میں آیاہے کہ سال کے شروع ہی سے رمضان کیلئے جنت کوآراستہ کرنا شروع ہوجاتا ہے اور قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے آنے کا جس قدر اہتمام ہوتاہے اتنا ہی پہلے سے اس کا انتظام کیاجاتاہے۔ شادی کااہتمام مہینوںپہلے سے کیاجاتاہے۔
چوتھی خصوصیت سرکش شیاطین کاقید ہوجاناہے کہ جس کی وجہ سے معاصی کازور کم ہوجاتا ہے ۔ رمضان المبارک میں رحمت کے جوش اور عبادت کی کثرت کامقتضیٰ یہ تھا کہ شیاطین بہکانے میں بہت ہی ان تھک کوشش کرتے اور پاؤں چوٹی کا زور ختم کردیتے اور اس وجہ سے معاصی کی کثرت اس مہینہ میں اتنی ہوجاتی کہ حد سے زیادہ ، لیکن باوجود اس کے یہ مشاہدہ ہے اور محقق کہ مجموعی طور سے گناہوں میں بہت کمی ہوجاتی ہے کتنے شرابی کبابی ایسے ہیں کہ رمضان میں خصوصیت سے نہیں پیتے، اور اسی طرح اوربھی گناہوں میں کھلی کمی ہوجاتی ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے ثمرات میں بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی حاصل نہیں اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہ ملا۔
ف: علماء کے اس حدیث کی شرح میں چند اقوال ہیں اول یہ کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو دن بھر روزہ رکھ کا مال حرام سے افطار کرتاہے کہ جتنا ثواب روزہ کا ہواتھا ا س سے زیادہ گناہ حرام مال کھانے کاہوگیا اور دن بھر بھوکا رہنے کے سوا اور کچھ نہ ملا۔(فضائل اعمال ،جلد اول)
۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ



