Uncategorized

صرف چھ(۶) روزے رکھنے پر ایک سال کے روزوں کا ثواب

حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد ماہِ شوال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابرہوگا۔(مسلم شریف)
تشریح: رمضان کا مہینا ۲۹؍دن ہی کا ہوتب بھی اللہ اپنے کرم سے ۳۰ ؍روزوں کا ثواب دیتے ہیں اور شوال کے چھ نفلی روزے شامل کرلینے کے بعد روزوں کی تعداد ۳۶ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قانون ’’الحسنۃ بعشرأ مثالھا‘‘ کے مطابق ۳۶؍ کا دس گناہ ۳۶۰ ہوجاتاہے اور پورے سال کے دن ۳۶۰ سے کم ہی ہوتے ہیں۔ پس جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں ۶؍نفلی روزے رکھے وہ اس حساب سے ۳۶۰ روزوں کے ثواب کا مستحق ہوگا۔ پس اجر وثواب کے لحاظ سے ایسا ہی ہوا جیسے کوئی بندہ سال کے ۳۶۰ دن برابر روزے رکھے۔ (معارف الحدیث ص ۱۵۶، ج۴)
ستَّا من شوال: شوال کے یہ روزے چاہے تو شروع مہینے میں رکھےیا اخیر مہینے میں رکھے یاوسط ماہ میں رکھے ، چاہے تو مسلسل رکھے اور چاہے تو بیچ میں ناغہ کرکے رکھے ، اور مستحب ناغہ کرکے اور بیچ میں فصل کرکے متفرق طورپررکھناہے ۔ اور مسلسل رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی۔ص:۳۵۱)
حضرت معاذہ عدویہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہرمہینے کے تین روزے رکھتے تھے توانہوں نے کہاہاں، تو مٰن نے ان سے کہاکہ آپؐ مہینے کے کن دنوں میں یہ روزے رکھتے تھے توانہوںنے فرمایا کہ آپ کوپرواہ نہیں ہوتی کہ مہینے کے کن دنوںمیں روزے رکھیں۔(یعنی بلاتعیین کسی بھی تین دنوںمیں روزے رکھتے تھے)۔
حضرت قتادہ بن ملحانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو حکم فرماتے تھے کہ ہم ایام بیض یعنی مہینے کی تیرہویں ، چودھویں اور پندرہویں کوروزہ رکھا کریں۔ اور فرماتے تھے کہ مہینے کے ان تین دنوں میں روزہ رکھنا اجروثواب کے اعتبار سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button