Uncategorized

عظمت ومحبت خداوندی ہی ایمان کی بنیاد ہے

بہر حال پہلی بنیاد التعظیم الامراللہ ہے۔ یہ ایمان کا پہلا رُکن ہے۔ اگر عظمت نہیں ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ قلب کے اندرایمان نہیں ہے۔ پھر عظمت کے بھی درجات ہیں۔ ایک درجہ عظمت کا وہ ہے جو عوام مؤمنین کے دل میں ہوتاہے ۔ اور ایک وہ ہے جو اولیاء عظام اور علماء ربّانیین کے دل میں ہوتاہے۔ اور ایک وہ ہے جو ائمہ کرام کے دلوں میں ہوتا ہے۔ ایک وہ ہے جو صحابۂ کرام ؓ کے قلوب میں تھا۔ ایک وہ ہے جو انبیاء علیہم السلام کے دلوں میںتھا۔ اسی طرح ایمانوں میں بھی فرق ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا ایمان سب سے اعظم ترین ایمان ہے۔ صحابۂ کرام ؓ کاایمان اس کے بعد، تابعین ؒ کا اس کے بعد، ہم جیسے عوام کا ایمان سب سے اخیر کا درجہ ہے۔ توجیسے درجات عظمت کے ہیں ویسے ہی درجات ایمان کے بھی ہیں۔ بہرحال جب نفس عظمت میں شرکت ہوگی۔ توظاہر بات ہے کہ قانون کی عظمت بھی ہوگی۔ جب عظمت ہوگی، پھر محبت بھی ہوگی۔ محبت ہوگی توآدمی کے دل میں قانون پر عمل درآمد کرنے کی لگن پیدا ہوجائے گی۔
یہی محبت تھی جس نے حضرات صحابہ کرامؓ کو مجبور کیا کہ گھربار انہوںنے چھوڑا۔ جائیدادیں انہوںنے ترک کیں، وطن چھوڑکر بے وطن ہوئے۔ اپنی لذتیں ترک کیں۔ اپنا آرام وآسائش تج دیا ۔ کس لئے؟ محض محبت نبوی اور عظمت خداوندی کی وجہ سے، جب محبت دل میں بیٹھ گئی تو ہرچیز اس کے سامنے ہیچ بن گئی۔ توہجرت کرکے، وطن چھوڑکر کے اللہ کے رسول کے ساتھ آگئے۔ جانیں الگ قربان کیں، مال الگ چھوڑا ، اولاد کو عزیزوں کو، رشتہ داروں کو الگ چھوڑا، اگرمحبت وعظمت نہ ہوتی، یہ اتنے بڑے بڑے کام ان سے سرزد نہیں ہوسکتے تھے۔
سیدنا صدیق اکبر ؓ کے بارے میں روایات میں فرمایاگیاہے کہ جب غزوۂ بدر ہوا توحضرت صدیق اکبرؓ کے چھوٹے صاحبزادے اس وقت تک ایمان نہیںلائے تھے، وہ کفار کے لشکر میں مسلمانوں کے مدمقابل تھے۔ غزوۂ بدر کے بعد ایمان کی توفیق ہوئی اور ایمان لے آئے۔ ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ اپنے والد صدیق اکبرؓ سے کہنے لگے کہ:
’’اے میرے والد! جنگ بدر کے اندر کئی دفعہ ایسا موقع آیا کہ آپ میری زَد کے نیچے تھے۔ اگر میں تیرچلاتایا تلوار سے آگے بڑھ کر مقابلہ کرتا، میں آپ کو ختم کرسکتا تھا مگر میں نے یہ خیال کیاکہ یہ میرے باپ ہیں میرے لئے یہ زیبانہیں ہے کہ یہ میرے ہاتھ سے قتل ہوں۔ اس لئے میں باپ ہونے کی عظمت کی وجہ سے رُک جاتاتھا۔ ‘‘
صدیق اکبر ؓ نے فرمایا:
’’اے میرے بیٹے! اگر تُو میری زد پر آجاتاتومیں سب سے پہلے تجھے قتل کرتا، پھر میں دوسروں کی طرف بڑھتا اس لئے کہ جب دل میں اللہ کی محبت آگئی توپھر کسی دوسرے کی محبت کی سمائی کا دل میں کیا سوال، پھر کہاں کی اولاد اور کہاں کی بنیاد؟ جب میں اللہ کے لئے کھڑا ہوا تو میں پہلے اس کو دیکھتا جو دشمنِ خدا ہے اور میرا عزیز بھی ہے تاکہ میں اپنی عزیزداری کوحق تعالیی کی دشمنی سے پاک کردوں ، مَیں پہلے تجھے قتل کرتا۔‘‘
اولاد کے حق میں یہ جذبہ پیدا ہوجانا، ظاہر بات ہے کہ عظمت ومحبت خداوندی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس درجہ کی محبت رچ بس گئی تھی کہ اصول وفروع کی محبت ہی نہ رہی تھی۔ اسی کو نبی کریم ﷺ فرماتےہیں:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰی أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
کوئی بھی تم میں سے اس وقت تک کامل الایمان مؤمن نہیں بن سکتا جب تک کہ میرے ساتھ اتنی محبت نہ ہو کہ اتنی محبت اپنی اولاد ماں باپ سے نہ ہو جب تک اتنی محبت غالب نہیں آجائے گی اس وقت تک مت سمجھو کہ تم میںکمالِ ایمان پیدا ہوگیا۔ ظاہر بات ہے کہ ایمان کی بنیاد محبت نکل آتی ہے ۔ یہ نہ ہوتو ایمان متحقق نہیں ہوسکتا۔
ایک محبت تو طبعی ہے جو اولاد کے ساتھ ہوتی ہے اور اولاد کو اپنے ماں باپ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور ایک محبت عقلی ہے۔ ایمان عقلی محبت کانام ہے ، طبعی محبت کانام نہیں ہے۔ طبعی طورپر آدمی اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتاہے لیکن عقلاً یہ سمجھتاہے کہ زیادہ محبوب نبی کریم ﷺہیں۔ ان سے کہیں زیادہ محبوب حقیقی حق تعالیٰ شانہٗ ہیں۔ اس واسطے جب اللہ کے حکم اور اولاد کا مقابلہ پڑتاہے وہ اولاد کو دھکادے دیتاہے۔ اورحکم خداوندی کوآگے رکھتاہے۔ یہ عقلی محبت ہے۔ محض طبعی جذبہ نہیں ہے۔ توایمان عقلی محبت وعظمت کانام ہے۔ یہ پہلا رُکن ہے۔ (خطبات حکم الاسلام ۔جلد ۴)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button