گناہوں کو مٹانے والے اعمال توبہ واستغفار-۲

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کے کچھ مشرک لوگوں نے جوقتل وزنا کے بہت سارے گناہ کرچکے تھے حضورﷺ سے عرض کیا کہ آپ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں، یقیناً وہ بڑی اچھی بات ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم تو سارے گناہ کرچکے ہیں تو اگر ہم آپ کی بات قبول کرلیں تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور ہماری توبہ قبول ہوگی۔(بخاری حدیث ۴۵۳۲)
اسی طرح بعض ایمان سے محروم لوگوں کو یہ خیال ہوتا تھا کہ ہم نے تو اتنے گناہ کئے ہیں کہ شاید وہ معاف ہی نہ ہوسکیں ، قرآن کریم انہیں لوگوں کے اس طرح کے سوالات کے جواب میں یہ خوش خبری سنائی کہ اللہ اتنا کریم ہے کہ انسان اگر ایمان لے آئے اور توبہ کرلے تو اللہ اس کے سب گناہ معاف کردیتاہے۔
علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ آیت ارحم الراحمین ‘‘ کی رحمت بے پایاں اور عفو درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے، اور سخت سےسخت مایوس مریضوں کے حق میں اکسیرشفا کا درجہ رکھتی ہے، مشرک ، ملحد، زندیق، مرتد، یہودی، نصرانی، مجوسی ، بدعتی ، بدمعاش ، فاسق، فاجر کوئی ہو آیت کو سننے کے بعد خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانے اور آس توڑکر بیٹھ جانے کی اس کے لئے کوئی وجہ نہیں، کیوں کہ اللہ جس کے چاہے سب گناہ معاف کردے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا، پھر بندہ مایوس کیوں ہو؟‘‘۔(فوائد عثمانی سورہ زمر:۵۳) ایک دوسرے موقعپر اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء: ۱۱۰)
اور جو براعمل کرے، یا اپنے آپ پر ظلم کرے، پھر اللہ سے مغفرت کاطلب گار ہو، تو اللہ کو خوب بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔
اس آیت میں بھی بتایاگیا کہ جو اپنے گناہوں کے بوجھ سے پریشان ہے، وہ اگر اللہ سے توبہ واستغفار کرلے تو اللہ کی مغفرت ورحمت اس کو اپنی چادر میں ڈھانپ لے گی، اور اس بوجھ سے اس کی کمر ہلکی ہوجائے گی۔
احادیث میں بھی اللہ کی صفت غفاریت وغفوریت (یعنی بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے اوربخش دینے کی صفت) کو اس دلکش انداز میں بیان کیاہے کہ بخشش سے مایوس لوگوں میں معافی کی امید جاگ جائے ، اور دل میں توبہ واستغفار کا جذبہ انگڑائی لینے لگے، چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ ، رسول اللہ ﷺسے اللہ رب العزت کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي، غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.
(رواہ الترمذی: ۳۵۴۰)
اللہ تعالیٰ فرماتہے: اے آدم کی اولاد! جب تک تم مجھ سے (گناہوں کی معافی) کے لیے دعا کرتے اور میری رحمت کی امید کرتے رہوگے، تمہارے جو بھی گناہ ہوں گے میں معاف کرتا رہوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی( کہ گناہ چھوٹے تھے یا بڑے) اے آدم کی اولاد! تیرے گناہ اگر اتنےہوں کہ آسمان کے بادلوں تک پہنچ جائیں او ر تومجھ سے اپنے ان گناہوں کی معافی مانگ لے تو تیرے ان گناہوں کو معاف کردوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی، اے آدم کی اولاد! اگرتوزمین بھرکر خطائیںلائے اور تو مجھے اس حال میں ملے کہ تونے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہوتو میں زمین بھر کر تمہارے لیے مغفرت لےکر آؤں گا۔
کیا ٹھکانہ ہے اس شانِ کریمی کا ! ایک طرف انسان کے اندر اگر دنیا کی حرص وطمع ہے، گناہ کی طرف لپکنے والی شہوت ہے، گھات میں بیٹھا ہواشیطان ہے جن کی وجہ سے انسان قدم قدم پر گناہ میں مبتلا ہوتاہے، تودوسری طرف اللہ کی شان کریمی نے اس کے لیے اپنے لطف وعنایت کادروازہ بھی بڑی فراخی سے کھول دیاہے، انسان جب جب گناہوں کی گندگی سے گندا ہوجائے تو توبہ واستغفار کا دروازہ کھٹکھٹائے اور اللہ کے دریائے رحمت میں غسل کرکے گناہوں سے پاک صاف ہوجائے، اگر انسان کی لغزشیں بے شمار ہیں، تواللہ کی مغفرت اس سے بھی سواہے۔
عجب کیا شانِ رحمت ڈھانپ لے میرے گناہوں کو
خطا کی ہے مگر تیری عطا کو دیکھ کر کی ہے
آج قدم قدمپر گناہ کے مواقع ہیں، آدمی چاہ کربھی اپنے آپ کو بچانے میں ناکام رہتاہے اور پھر دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوتاہے کہ جب ہم فلاں گناہ سے بچ نہیں پاتے تو پھرہم توبہ و استغفار کیاکریں اور ہماری ایسی توبہ سے کیا فائدہ؟ یہی سوچ کروہ توبہ استغفار سے دور ہوجاتاہے، ایک حدیث میں ایسے تمام لوگوں کے لیےبڑی تسلی ہے جو گناہ سے توبہ تو کرتےہیں، مگر پھر اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر باربارپھر اسی گناہ میں مبتلاہوتےہیں۔
(ماخوذ از ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد۔جولائی ۲۰۲۶ء) ۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ



