مضامین

جب لال قلعہ پر یونین جیک لہرایا

برسات کی اندھیری رات ہے آسمان پر تاحدِ نگاہ کالی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں ہاتھ کو ہاتھ نظرنہیں آتا، ہرچار طرف سیاہ چادروں میں لپٹا ہوا مُہیب سناٹا چھایاہواہے، فضا سائیں سائیں کررہی ہے۔ انہیں حالات میں ایک قافلہ لق ودق صحرا میں آنکھیں پھاڑ پھا کر راستے کے نشانات ڈھونڈھنے کی کوشش کررہاہے مگر اُسے ہرطرف تاریکی کی سیاہ تنی ہوئی چادروں کے سوا اور کچھ نظرنہ آرہاہو، اسی درمیان آسمان سے بڑے بڑے اُولوں کی دھواں دھار بارش شروع ہوجائے کہ قافلہ ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ کی حالت میں دم بخود کھڑا رہ جائے۔ کچھ ایسا ہی حال غدر ۱۸۵۷ء؁ کے بعد مسلمانوں کا ہوگیاتھا، آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کومجاہدین آزادی کی سربراہی کے جرم میں پابجولاں رنگون کے قید خانہ میں بھیجا جاچکا تھا ، لال قلعہ سے مسلمانوں کے اقتدار کا پرچم اتارکر برطانوی استعمار کا یونین جیک لہرایا جاچکا تھااور اب انگریزوں کی فوج ان مسلمانوں کو گرفتار کرنے میں مسلسل مصروف تھی جن کے خون کی برطانوی اقتدار کی بنیاد کو ضرورت تھی کیونکہ اس کے بغیر استحکام ممکن نہیں تھا۔
انگریزوں نے حکومت واقتدار مسلمانون کے ہاتھوں سے چھیناتھا اس لئے قدرتی طورپر مسلمان ہی زیادہ مشتعل تھے، اسے خوبی کہیئے یا اس قوم کاعیب، کہ جب یہ قوم مشتعل ہوجاتی ہے، اس کی غیرت وحمیت کوللکاراجاتاہے یا اس کی خودداری کو تھیس لگتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ فریق مخالف کی طاقت کیاہے؟ وہ نتائج سے بے پرواہوکر اس سے ٹکراجاتی ہے، ۱۸۵۷ء؁ میں ہندوستان میں انگریزی تسلط واقتدار مکمل ہوچکاتھا حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں سےنکل کر براہ راست ملکہ وکٹوریہ کے ہاتھوں میں جاچکی تھی، لال قلعہ پر یونین جیک لہرانے لگاتھا، یہ جھنڈا اس بات کا اعلان تھا کہ اب اقتدار ہندوستانیوں کے ہاتھوں سے نکل کر غیر معین مدت تک کیلئے دوسروں کے فولادی ہاتھوںمیں جاچکا ہے اور اب ہندوستان جنت نشان کی بہاروں پر ایک سفید فام قوم کی اجارہ داری قائم ہوچکی ہے ،یہی وہ دن ہے جب مسلمانوں نے ہندوستان میں جنگ آزادی کا آغاز کیا۔ ۱۸۵۸ء؁ کے بعد جب سارے برادران وطن ایک سطح پر آگئے اور انگریز ہندوستان پر مسلط ہوچکاتو اب ان لڑائیوں کی حیثیت عوامی ہوگئی، اس لئے اس کے بعد ہونے والی جدوجہد ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ کا پہلا باب ہے۔ جب یہ جدوجہد شروع کئی اس وقت کیا ماحول تھا؟ اُسے جانے بغیر مجاہدین آزادی کی خدمات اور قربانیوں کی اہمیت اور قدر وقمت کا صحیح اندازہ نہیں کیاجاسکتا ، اس لئے تھوڑی دیر کے لئے ہم آپ کو اسی فضااور ماحول میں لے چلتے ہیں۔
جب ہم خون کے دریا میں ڈوب گئے
۱۱؍مئی ۱۸۵۷ء؁ درحقیقت نقطہ ٔ آغاز ہے جنگ آزادی کا ، جب انگریزی فوج کے سپاہیوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اپنے انگریز افسروں کو گولی مارکر دہلی پرقضہ کرنے کیلئے چلے، لیکن یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی تحریک کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا اور اس کے نتیجہ میں مسلمان خصوصیت کے ساتھ انتہائی طورپر کچل دیاگیا، دہلی کا چاندنی چوک ہی نہیں بلکہ شہر کے ہرچوراہےپر سولیاں نصب کردی گئیں ، دہلی اوردہلی کے باہر درختوں کی شناخوں سے پھانسی کے پھندے لٹک رہے تھے، جو بھی معزز مسلمان انگریزوں کے ہاتھ چڑھ گیا ، اسے ہاتھی پر بٹھایا، درخت کے نیچے لے گئے، پھندا اس کی گردن میں ڈال کر ہاتھی کو آگے بڑھادیا، لاش پھندے میں جھول گئی، آنکھیں اُبل پڑیں، زبان منہ سے باہر نکل آئی، ذبح کئے ہوئے مرغ کی طرح جانکنی کا وہ ہیبتناک منظر کہ الاماں والحفیظ، ایک انگریز عورت نے اپنی ڈائری میں لکھاہے کہ بسااوقات ان پھانسیوں پرلٹکائے جانے والوں کی لاشیں تڑپ تڑپ کر انگریزی ہندسے کا 8 بن جاتی تھیں۔
مسلمانوں میں خوف وہراس اور دہشت پھیلانے کیلئے وہ سزا کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی سربرآور دہ مسلمان کو پکڑ کر توپ کے دہانے پر رسیوں سے جکڑکر باندھ دیااور توپ داغ دی، پھر کیا ہوتاتھا؟ قلم کانپ رہاہے، دل تھرتھرا رہاہے اور اس واقعہ کوبیان کرتے ہوئے زبان لرز رہی ہے اور اس کربناک صورت حال کے اظہار سےقاصرہے، پورے جسم کا گوشت بوٹی بوٹی ہوکر فضا میں اُڑجاتاتھا، جس طرح تیز ہوا میں کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، دورتک خون کے چھینٹے اس طرح پڑتے تھے جیسے فضا سے زمین پر کسی نے خون کاچھڑکاؤ کیاہے، لاش کا سرفضا میں میلوں بلندی پر جاکر جب زمین پر گرتا تھا توبسااوقات کسی راہ گیر یاجانور کی جان چلی جاتی تھی۔
کارواں چل پڑا
یہ تھا وہ روح فرسا اور دل دہلادینے والاماحول جب ہندوستان میں جنگ آزادی کے مسلمان مجاہدین نے اپنے سفر کا آغاز کیا، تاریخ کی شہادت ہے کہ یہ سفر مسلمانوں نے تنہا شروع کیا، اس کانٹوں بھری وادی میں صرف انہیں کے تلوے لہولہان ہوتے رہے، لیکن ان کے پائے استقامت میں نہ جنبش ہوئی اور نہ لغزش پیدا ہوئی، اور نہ ااگے بڑھا ہواقدم ایک انچ پیچھے ہٹا، ہرطرف داروگیر کا حشربرپاتھا۔ علی الاعلان مسلمان پھانسیوں پر چڑھائے جارہے تھے، گرفتاریوں کا سلسلہ جاری تھا ، انگریز اب عدالت کی کرسی پر بیٹھ چکاتھا مگر یہ کرسی عدل وانصاف کے لئے نہیں تھی بلکہ وہ اپنے واحد دشمن مسلمانوں کے دماغ سے حکومت واقتدار کی بوباس کو ختم کرنے کیلئے اس کو استعمال کرتاتھا اور عدل وانصاف کا ڈرامہ کیاجاتاتھا ، مقدمات چلائے جاتے تھے فرضی گواہ اور شہادتیں پیش کی جاتی تھیں اور فیصلہ سنادیاجاتاتھا کہ اس کو تختۂ دار پر چڑھادو یا ان کی نگاہ میں اس مسلمان کا جرم اور بڑھا ہواہے تواس کو کالے پانی کی سزا دی جاتی تھی، کیونکہ جس دوام بعبورِ دریائے شور کی سزا پھانسی کی سزا سے کہیں زیادہ اذیت رساں تھی، انگریز مخصوص مسلمانوں کو یہ سزا دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔
کالے پانی بھیجنے کا مطلب یہ تھا کہ مجرم اپنے وطن اپنے گھر، اپنے دوست، احباب، عزیز واقارب، اپنے خاندان اور اپنے بیوی بچوں کےلئے زندہ رہتے ہوئے بھی مرجاتاتھا اور ایسی گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتاتھا کہ موت کو اس زندگی پر ترجیح دینے لگتا تھا ۔ ہندوستان کے مشاہیر علماء ومشائخ ، روسا واُمراء جن کی راہوں میں عوام آنکھیں بچھاتے تھے ، جن کے اعزاز واحترام کاعالم یہ تھا کہ مسلمانوں میں ان کو سراور آنکھوں پر بٹھایا جاتاتھا، خوش حال گھرانوں کے افراد جن کی خدمت کیلئے ہمیشہ نوکروں کی پلٹنیں رہتی تھیں ایسے معزز رؤسا، علماء و مشائخ کو جزیرہ ٔ انڈمان ، کالے پانی کی مسموم فضا میں بھیجا جاتاتھاجہاں ان سے ذلیل سے ذلیل ام لیاجاتاتھا، یہ جزائر درحقیقت بڑے بڑے قید خانے تھے جس میں چہاردیواریاں اور فصیلیں تونہیں تھیں لیکن چاروں طرف حدنگاہ تک سمندر لہریں مارتا رہتاتھا، ان جزیروں میں ان معزز و محترم شخصیتوں سے لکڑیاں کٹوائی جاتی تھیں، سڑکیں بنوائی جاتی تھیں نالیاں اور گندگیاں صاف کروائی جاتی تھیں کوڑے کرکٹ کی ٹوکریاں ان کے سروں پر لاد کر پھنکوائی جاتی تھیں۔ مولانا فضل حق خیر آبادی جو علمی دنیا میں بے تاج کے بادشاہ تسلیم کئے جاتے تھے لیکن جب ایک شخص جزیرہ انڈمان میں ان کی ملاقات کیلئے پہونچا تو دیکھا کہ علامہ غلاظت کی ٹوکری اٹھائے ہوئے پھینکنے کیلئے جارہے ہیں، جزیرے انڈمان میں تمام مسلمان قیدیوں سے اسی طرح کے جبری کام لئے جاتے تھے، انگریزوں نے کتنے مسلمان مجاہدین آزادی کو جزیرہ انڈمان بھیجا اور کالے پانی کی سزا دی؟ ان کی فہرست بتانی مشکل ہے، مگر تاریخ کے جستہ جستہ واقعات کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتاہے کہ ان کی تعداد چارہزار سے کسی طرح کم نہیں تھی، کیونکہ مولانا جعفر احمد تھانیسری اپنی خود نوشت دائری میں بتاتے ہیں کہ جب مولانا یحیٰ علی صادقپوری کی جزیرے میں وفات ہوئی ہے تو ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کی افسران نے اجازتِ عام دے دی تھی، ان کی نماز جنازہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد چار اور پانچ ہزار کے درمیان تھی اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انگریزوں نے ملک بھر سے چار پانچ ہزار مسلمان مجاہدین آزادی کو گرفتار کرکے کالے پانی بھیجا تھا۔ (ازکتاب: تحریک آزادی اور مسلمان۔۔۔مولانا اسیرادرویؒ)۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button