حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ

’’اخلاق‘‘ جمع ہے اس کامفرد خُلُق ہے جو طبعی خصلت اور باطنی وصف کو کہتے ہیں جس کے تحت آنحضرت ﷺکے اوصاف حمیدہ داخل ہیں۔ ’’شمائل‘‘ جمع ہے اس کا مرد شمال ہے ، شین پر کسرہ ہے اس کا اطلاق اخلاق پر بھی ہوتا ہے اور سیرت پربھی ہوتاہے ۔ اگر سیرت کے معنی میں لیاجائے تو ایک جدید معنی اورمفہوم کے لئے عنوان فراہم ہوجائے گا جو بہت اچھاہوگا، بہرحال اس باب سے پہلے ابواب میں آنحضرت ﷺ کے جسمانی اور شکل و شباہت کے ظاہری اوصاف بیان کئے گئے ہیں، اس باب کی احادیث میں آنحضرت ﷺ کے باطنی اوصاف اورخصائل بیان ہوں گے ۔ چند باطنی اوصاف یہ ہیں۔ مثلاً شجاعت، سخاوت، رحمت وشفقت، مروت ومحبت، تواضع وتحمل اورحیاء وغیرہ اوصاف مراد ہیں۔ ان ابواب میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق وشمائل کا ایسا نقشہ بیان ہوگا گویا پڑھنے والاحضور اکرم ﷺ کے دیدار سے لطف اندوز ہورہاہے۔ شاعر نے خوب کہاہے:
اخلای ان شتّ الحبیب ودارہ———-وعزتلا قیہ ونأء ت منازلہ
فان فاتکم ان تبصروا بعیونکم———–فما فاتکم منہ فھٰذا شمائلہ
بے مثال حسن اخلاق
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دس سال خدمت کی مجھے آپ نے کبھی اف بھی نہیں کہا اور نہ کبھی آپ نے یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ اوریہ کام تم نے کیوں نہیں کیا؟۔(بخاری ومسلم)
توضیح:’’اُف‘‘اس کلمہ کو ہمزہ کے پیش کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے زیر کے ساتھ بھی جائز زبربھی جائز ہے فاپرشد بھی ہے سکون بھی ہے۔ علامہ نوویؒ نے اس میں دس لغات کو بیان کیاہے یہ کلمہ انسان کی زبان سے اس وقت نکلتاہے جب وہ کسی ناپسندیدہ یاکوئی تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہوجاتاہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو حضرت ام سلیم ؓ نے اپنے بیٹے حضرت انس ؓ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لاکر پیش کردیا اور فرمایا :’’خوید مک فادع لہ‘‘یہ آپ کا چھوٹا ساخادم ہے اسکو قبول فرمادیجئے اور اس کےلئے دعا فرمائیے۔ حضرت انس ؓ کی عمر اس وقت آٹھ یا دس سال کی تھی۔ آپ نے دس سال تک حضوراکرم ﷺ کی خدمت کی، حضرت انسؓ اپنی خدمت اور حضوراکرم ﷺ کی شفقت کا منظر پیش کررہے ہیں کہ دس سالہ طویل خدمت کے دوران آنحضرت ﷺ نے مجھے نہ کبھی ڈانٹا نہ کبھی غصہ کیا بلکہ اُف تک نہیں کہا اور نہ اس طرح باز پرس کی کہ یہ کام کیوں کیا اوریہ کیوں نہیں کیا؟ اس میں جہاں نبی مکرم ﷺ کے اخلاق کااعلیٰ نمونہ سامنےآتاہے وہیں پر حضرت انسؓ کی حسن کارکردگی اور خدمت کاسلیقہ بھی معلوم ہوجاتاہے کہ کبھی اس طرح ڈانٹ ڈپٹ کی نوبت ہی نہیں آئی۔
ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں کہ اس ڈانٹ ڈپٹ اور باز پرس نہ کرنے کا تعلق آنحضرت ﷺ کی ذاتی خدمت اور آداب کے ساتھ ہے ورنہ شرعی اُمور میں اگرکبھی کوئی غلطی ہوجاتی اس پر آنحضرت ﷺ نے کبھی خاموشی اختیارنہیں فرمائی۔ (مشکوٰۃ شریف)
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔



