مضامین

حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ-۲

اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اخلاق وعادات کی خوبی میں تمام لوگوں سے بڑھ کرتھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ آپ نے مجھے کسی کام سے کہیں بھیجنا چاہا میں نے آپ سے یوں کہہ دیا کہ خدا کی قسم میں نہیںجاؤں گا لیکن دل میں یہی تھا کہ رسول کریم ﷺ نےجو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کیلئے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں چل پڑا، بازار سے گزرا تو ایک جگہ جہاں بچے کھیل رہے تھے ٹھہر گیا،اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں آگئے اور پیچھے سے میری گدی پکڑلی، میں نے مڑکر آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرارہے تھے۔ پھر آن فرمانے لگے ارے اُنیس تووہاں جارہاہے نا ، جہاں میںنے تجھے بھیجاتھا؟ میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ! میں اب جارہاہوں۔ (مسلم)
توضیح:’’واللہ لااذھب‘‘ حضرت انس ؓنے زبان سے یہ کلمات ادا کئے مگر ان کے دل کا ارادہ جانے کاتھا دوسرا جملہ۔ ’’وفی نفسی‘‘ اس پر دال ہے یعنی مرے دل میں تھا کہ میں جاؤں گا، اب حضرت انسؓ کے قول وفعل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ویسے جس وقت یہ معاملہ پیش آیاتھا شاید حضرت انس ؓ چھوٹے بھی تھے نابالغ بھی تھے غیر مکلف بھی تھے اور خدمت میں نئے بھی تھے تجربہ بھی نہیں تھا اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نےناراضگی کااظہار نہیں کیا بلکہ بطور دل لگی ان کوگردن کی طرف سے پکڑلیا اور ہنستے ہوئے بطور شفقت ان کو تصغیر کے صیغے اُنیس سے یاد کیا۔
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کےساتھ چل رہاتھا ، اس وقت آپ کے جسم پر نجران کی بنی ہوئی چادرتھی، جس کے کنارے بہت موٹے تھے، ایک دیہاتی آنحضرت ﷺ کو مل گیا اور اس نے آپ کی چادر کوپکڑ کر اتنے زور سے کھینچا کہ نبی کریم ﷺ کھینچ کر اس کے سینے کے قریب آلگے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس دیہاتی نے کہاکہ محمد ﷺ تمہارے پاس اللہ کا جومال ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلواؤ۔ آنحضرت ﷺ نے پہلے تو اس کی طرف دیکھا پھر مسکرائےاور اس کو کچھ دیئے جانے کاحکم صادر فرمایا۔ (بخاری ومسلم)
توضیح:’’جبذۃ شدیدۃ‘‘ شدید کھنچنےاور جھٹکا دینے کو کہتے ہیں۔ ’’نحر الاعرابی‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ اس کھینچنے کی وجہ سے دیہاتی کے سینے اور گلے کے قریب آگئے۔شاید یہ کوئی ایسا دیہاتی تھاجو مؤلفۃ القلوب میںسے تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی اس ایذا رسانی کو برداشت کیا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ،آپ نے بڑے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ (مشکوٰۃ شریف)
نفسی الفداء لمن اخلاقہ شہدت انہ خیرمولود مں البشر
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!