احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۷

مالِ حرام سے حج
حج کے لئے حلال اور پاکیزہ مال فراہم کرنا لازم اور ضروری ہے۔ اور پاک مال ہی سے حج کرنا لازم ہے۔ اور حرام اور مشتبہ مال سے حج قبول نہیں ہوتا۔اسلئے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے، اورپاک اور حلال ہی کوقبول کرتاہے۔
اور المعجم الاوسط کی ایک مفصل حدیث میں وارد ہے کہ جب آدمی پاک مال کے ساتھ سفر حج کے لئے گھر سے روانہ ہوتاہے، اور اپنی سواری کی زین پر پیررکھ کر لبَّیکَ اللّٰهمَّ لبَّیکَ کے الفاظ سے تلبیہ پڑھتا ہے تو آسمانوں سے ایک پکار نے والاپُکار کرکہتاہےلبَّیکَ وسعدَیکَ تیری حاضری مبارک اور سعادت کے باعث ہے۔تیرا توشہ حلال اور تیری سواری حلال اور تیراحج مقبول اور مبرور ہے۔ تیرا حج گناہ اور معصیت سے ملوث نہیں۔ اور جب مالِ حرام سے حج کے لئے روانہ ہوتاہے ۔ اور سواری کی زین پر پیر رکھ کر لبَّیکَ کہتاہے تو آسمانوں سے ایک نِداء دینے والا پُکار کرکہتاہے لا لَبَّيْكَ ولا سَعْدَيْكَ تیرے لئے نہ حاضری ہے اور نہ ہی سعادت ہے۔ تیراتوشہ حرام ، تیرا نفقہ اور مال حرام اور تیراحج گناہ اور معصیت میں ملوث ہے جو کبھی قبول نہیں ہوسکتا۔
اورحضرات فقہاء نے لکھا ہے کہ مالِ حرام سے حج کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس لئے ہر حاجی کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ سفرحج کے لئے پاک اورحلال مال ہی فراہم کرے۔
اس حکم کو چالیس حدیثوں کے تحت اور سفر حج میں غلطیوں کی اصلاح کے تحت اپنی اپنی مناسبت میں بیان کیاگیاہے۔
حج میں تاخیر کاگناہ
حج کو جانے کیلئے تمام اسباب اور اخراجات فراہم ہوجائیں، اور تمام رُکاوٹیں بھی ختم ہوجائیں ، پھر بھی اسی سال حج نہیں کیا، اور دوسرےسال حج کرنے سے قبول موت واقع ہوجائے یا پیسہ ختم ہوجائے توسخت ترین عذاب الٰہی کا مستحق ہو کر مرے گا۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ جو شخص ایسے توشۂ سفر اور سواری کا مالک ہو جس سے بیت اللہ شریف تک بآسانی پہنچ کر واپس آسکتاہے ، پھر بھی وہ حج نہیں کرتا ہے ، اور فریضۂ حج ادا کرنے سے پہلے پہلے مرجاتاہے تو اس کا ملت اسلامیہ سے آزاد ہوکر یہودیت کی موت یا نصرانیت کی موت مرنے کا سخت خطرہ ہے۔ اس لئے ایسے تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ جن پر حج فرض ہوچکاہو اداءِ حج میں تاخیر نہ کریں۔ اور عذاب الٰہی سے اپنی حفاظت فرمائیں۔ البتہ اگر کسی کو خوش قسمتی سے دوسرے سال موقع مل جائے اور حج کرلیتاہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ پچھلے گناہ بھی معاف ہوجائیں گے ۔ مگر ایسے مواقع کا کیا یقین ہے۔ موت توہر وقت پیچھے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



