احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۹

حج کرے یا لڑکی کی شادی کرے؟
ملکیت میں اتنا پیسہ موجود ہے کہ اس پیسہ سے حج کے تمام اخراجات پورے ہوسکتے ہیں اور واپس آنے تک اہل وعیال کے اخراجات بھی پورے ہوسکتے ہیں۔ اور اسکے پاس جوان لڑکی بھی ہے اس کی شادی ہونی ہے۔ اگر لڑکی کی شادی کرے گا تو حج کے اخراجات پورے نہیں ہوسکتے ۔ اور حج کی تیاری کا زمانہ آنے سے قبل لڑکی کی شادی نہیں کی ہے، اور اسی حالت میں حج کا موسم آگیا ہے ، توایسی صورت میں لڑکی کی شادی کے لئے رقم روک لے یا حج کو جائے؟
اس کی وضاحت نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ فریضۂ حج کا ادا کرنا، لڑکی کی شادی اور دیگر ہر کام پر مقدم ہے۔ لڑکی کی شادی کی وجہ سے فریضۂ حج کی ادائیگی کو مؤخر یا موقوف کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اور لوگوں میں یہ جو مشہور ہے کہ غیر شادی شدہ جوان لڑکی گھر میں ہوتو اس وقت تک حج فرض نہیں ہوتا جب تک اس کی شادی نہ ہوجائے، یہ بات غلط مشہور ہے۔ اوریہ بات بھی غلط مشہور ہے کہ حج پر جانے سے پہلے لڑکی کی شادی کے لئے جہیز کا سرمایہ الگ کرلیاجائے، اس کے بعد اگر پیسوں میں گنجائش ہوتو حج کو جائے ورنہ نہیں۔ بلکہ جب حج کے اخراجات موجود ہوں اورحج کے فارم بھرنے کازمانہ آجائے تو حج کا فارم بھرنالازم اور اسکی تیاری ضروری ہوجاتی ہے۔ ورنہ سخت گنہگار ہوگا۔ کیونکہ خود اپنی شادی پربھی حج مقدم ہے، تو لڑکی کی شادی پربطریق اولیٰ مقدم ہوگا۔ اور یہی حکم لڑکے کی شادی کابھی ہے، کہ اس پربھی حج کومقدم کرنا لازم ہے۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



