مضامین

۱۰؍محرم الحرام کو روزہ رکھنےا ور اہل وعیال پر خرچ میں وسعت کرنے کے فضائل وبرکات

اورحضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نےفرمایا رمضان کے روزے کے بعد بہترین روزے اللہ تبارک وتعالیٰ کے مہینے ماہ محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم)
اورحضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول کریم ﷺ نے عاشوراء کے دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کوبھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا توصحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ: یہ تو وہ دن ہے جو یہود و نصاریٰ کے ہاں بڑاباعظمت ہے(اورچونکہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت ہمارا شیوہ ہے لہٰذا ہم روزہ رکھ کر اس دن کی عظمت کرنے میں یہود ونصاریٰ کی موافقت کیسے کریں) آپﷺ نے فرمایا اگرمیں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کو ضرور روزہ رکھوں گا۔(مسلم)
اورحضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کسی دن روزہ کاارادہ کرتے ہوں اور اس دن کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں۔ مگر اس دن یعنی یوم عاشوراء کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان (کو دوسرے دن اور دوسرے مہینہ پر فضیلت دیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
اور یوم عاشوراء کے روزہ کے بارے میں بھی مجھے خدا سے اُمید ہے کہ وہ (اس روزہ کی بناء پر) ایک سال پہلے کے گناہ دور کردے گا۔ (مسلم)
اورحضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ(جب ) مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ یہودیوں نے کہاکہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے موسیٰ ؑ اور ان کی جماعت کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو یا چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا’’تمہارے مقابلہ میں ہم موسیٰ ؑ سے زیادہ قریب اور (ان کی طرف سے بطور شکر روزہ رکھنے کے ) زیادہ حقدار ہیں چنانچہ آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو خودبھی روزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری ومسلم)
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ(پہلے) ہمیں یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیاکرتے تھے۔ اس کی ترغیب دلاتے تھے اور اس دن کے آنے کے وقت خبر گیری کرتے تھے(یعنی عاشوراء کا دن جب نزدیک آتا تو اس کے روزہ رکھنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے ) مگر جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نہ آپ ﷺ نے ہمیں اس دن روزہ رکھنے کاحکم فرمایا ، اور انہ اس سے منع کیا، اور نہ ہی اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کی۔ (مسلم)
مسلم شریف کی روایت میں ’’یامر‘‘کے بجائے یامرنا‘‘لفظ ہے جو زیادہ واضح ہےَ۔
عاشورہ کے دن زیادہ خرچ کرنے کاحکم
اور حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے خرچ میں وسعت اختیار کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ سارے سال( اس کے مال وزر میں) وسعت عطا فرمائےگا۔ حضرت سفیان ثوری ؒ کہتےہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا۔
نوٹ: شہر وضلع ناندیڑ کے حضرات چار بجکر بیس منٹ(20:4) تک سحری سے فارغ ہوجائیں ۔ نیز دس تاریخ کاروزہ اصل ہے۔ اس کے ساتھ ۹؍ یا ۱۱؍ کو ملالیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button