مضامین

احکاماتِ نکاح-(۳)

پہلاباب
نکاح کے ارکان، اس کے صحیح ہونے کی شرطیں اور اس کے انعقاد کی صورتیں
نکاح میں کتنے فرض ہیں اور کتنے واجب اور عاقدین کے کیا اختیارات ہیں
سوال:(۱۸): نکاح میں کتنے امور فرض اور واجب ہیں۔ (۲) عاقدین کو یہ اختیار ہے کہ نہیں کہ وہ جس سے چارہیں نکاح پر ھوالیں۔ یاشریعت کسی خاص شخص کو حکم دیتی ہے (۳) کیا قاضی اورملّا بلارضا مندی اور بلاطلب عاقدین کے نکاح پڑھانے اور سرکار میں جبراًنالش کرکے اجرت نکاح حاصل کرنے کے مستحق ہیں۔
(۴) اورجب کہ وہ نکاح ہی نہ پڑھائیں تو اجرت نکاح خوانی کے مستحق ہوسکتے ہیں اور جبراً بذریعہ عدالت وصول کرسکتے ہیں یانہیں۔
(۵) جو فطری حقوق شارع علیہ السلام نے مسلمانوں کو مرحمت فرمائے ہیں ان میں کوئی شخص شخص مداخلت کرسکتا ہے یا نہیں۔
(۶) اگر کوئی شخص مسلمانوں کو ان کے فطری حقوق عطا کردہ شارع علیہ السلام سے بطع نفسانی رسم جہلاء کے پیش کرکے سرکار میں نالش کرکے جبراًمحروم کرنے والاکیسا ہے اور اس کے لئے کیاحکم ہے۔
الجواب:نکاح نام ایجاب وقبول کا ہے یہ دونوں رکن نکاح ہیں اور سننا ہر ایک کا عاقدین میں سے دوسرے کے لفظ کو اور سننا گواہوں کا ایجاب وقبول کو یہ شرائط میں سے ہیں، اور سنن ومستحبات میں سے اعلان نکاح وغیرہ ہے جس کو درمختارمیں اس عبارت میں بیان کیا ہے۔
ويندب إعلانه، وتقديم خطبة، وكونه في المسجد يوم الجمعة بعاقدٍ رشيدٍ، وشهودٍ عدولٍ الخ. وفیہ ایضاًوينعقد بإيجابٍ وقبولٍ۔الخ، وشرط سماع كلٍّ من العاقدين لفظَ الآخر۔الخ، وشرط حضور شاهدين.الخ ملخصًا، والتفصيل يُطلب من كتب الفقه
(۲) شرعًا عاقدین کویہ حق حاصل ہے کہ خوا ہ وہ خود بلاواسطہ ایجاب وقبول کرلیں یا کسی دوسرے شخص سے ایجاب وقبول نیابتًہ وتوکیلاً کرائیں اور اگر انتظاماً حکام کی طرف سے اس کام پر کوئی قاضی وغیرہ مقر ر ہوتاکہ ناجائز طورسے نکاح نہ ہواکرے تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں ہے کہ اس سے نکاح پڑھوائیں۔
(۳)شرعًا ان کو ازخود یہ حق نہیں ہے لیکن اگر حکام کی طرف سے وہ اس کام پر مقرر ہیں اور انتظام اس کو متقضی ہے کہ جو اشخاص اس کام کے لئے منجانب حکام مقرر ہیں انہیں سے نکاح پڑھوایاجائے اور درج رجسٹر کرایاجائے تاکہ بعد میں جھوٹے دعاوی اور غلط انکحہ کا نزاع پیش نہ آوے توشریعت اس کو منع نہیں فرماتی بلکہ یہ بھی شرعی حکم ہے کیونکہ انتظام معاملات اور دفع خصومات وفع نزاع بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ بیع وشراء کے لئے اس قسم کے انتظامات کردیئے گئے ہیں کہ ان کی پابندی حکام کے امر سے کی جاتی ہے۔
(۴) اس صورت میں وہ مستحق اجرت کا نہیں ہے۔ باقی تحریر وغیرہ کی اجرت جو اس کے لئے حکام کی طرف سے مقرر ہو، اس کی بابت موافق قواعد مقررہ عمل کیاجاوئے گا۔
(۵) دراصل تمام معاملات شرعیہ میں کسی تحریر اور دستاویز اور رجسٹر وغیرہ کی ضرورت نہیں، جملہ عقود بیع وشراء ونکاح وغیرہ زبانی طے ہوسکتے ہیں، لیکن حکام اگرکوئی انتظام اور قواعد اس کے لئے مصلحت سمجھیں تو وہ بھی خلاف شریعت نہیں ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ
پس یہ لکھنا اگرچہ ضروری نہیں تھا لیکن مصالح کی وجہ سے مفید ہے اس لئے ان امور کی بھی شریعت میں اجازت ہے۔
(۶)ایسا شخص گنہ گار ہوگا۔ فقط
ایجاب وقبول ضروری ہے، شش کلمہ وغیرہ ضروری نہیں
سوال:(۱۹) عند النکاح اگرہردوصفت ایمان اور شش کلمہ نہ پڑھائے جائیں اور محض ایجاب وقبول ہی فرض سمجھ کر چھوڑ دیئے جائیں تو کیا حکم ہوگا۔
الجواب: نکاحمیں ایجاب وقبول ضروری ہے، بدون ایجاب وقبول کے نکاح منعقد نہ ہوگا۔ اور صفت ایمان اور کلموں کاپڑھانا اس وقت انعقاد نکاح کے لئے شرط نہیں ہے، بدون پڑھائے بھی نکاح منعقد ہوجاتاہے اور سنت طریقہ نکاح کا یہ ہے کہ اول خطبہ مسنونہ پڑھاجاوے اور پھر ایجاب وقبول مجلس نکاح میں کرایاجاوے اور کم ازکم دوگواہ سننے والے ایجاب وقبول کے موجود ہوں۔ فقط
[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد۷)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button