مضامین

احکاماتِ نکاح-(۵)

وہ شرعی گواہوں کے سامنے بلامہرایجاب وقبول سے نکاح ہوجاتاہے یانہیں
سوال:(۲۵) زید وہندہ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور اسی مکان میںخالد وصالحہ وحمیدہ بھی موجود ہیں ۔زید نے ہندہ سے تین مرتبہ بلاتذکرہ مہر کہاکہ تمہارے ساتھ نکاح کرتے ہیں تم کو منظور ہے۔ ہندہ نے تینوں مرتبہ یہ کہاکہ مجھے منظور ہے، تو اس صورت میں نکاح منعقد ہوا یا نہ اور خطبہ نکاح میں ضروری ہے یانہ۔
الجواب: اس صورت میں نکاح صحیح ولازم ہوگیا کیونکہ صحت نکاح کی شرط شاہدین اور اس کارکن ایجاب وقبول ہے اور یہ دونوں اس صورت میں موجود ہیں۔ خطبہ مسنون ہے، نکاح کی صھت اس پر موقوف نہیں۔ فقط کتبہ عتیق الرحمٰن عثمانی۔ قال فے الدرالمختار لوقال بالمضارع ذی الھمزۃ اتزوجک فقالت زوجت نفسی انعقد۔ فقط عزیز الرحمٰن مفتی دارالعلوم دیوبند۔
دوشرعی گواہ کہیں کہ ہمارے سامنے ایجاب وقبول ہواہے تونکاح ہوجائے گا
سوال:(۲۶) زیدمدعی ہے کہ ہندہ نے میری عدم حاضری میں اپنے نفس کو مجھ کو دے دیا تھا اور میں نے بھی اس کی عدم حاضری میں قبول کرلیاتھا، اور عمر وخالد وپدر ہندہ شاہد ہیں تو اس صورت میں نکاح ہوایانہ۔
الجواب: اس صورت میں اگر ہندہ وزید دونوں کے ایجاب وقبول پر شرعی شہادت موجود ہے تو یہ نکاح صحیح ہوگیا، صحت نکاح کا اصلی مدار شاہدین پر ہے۔ پس اگر عمر وخالد اس امر کے شاہد ہیں کہ ہم دونوں کے سامنے زید وہندہ نے ایجاب وقبول کرلیاہے تو نکاح منعقد ہوگیا۔ ہکذافی کتب الفقہ ۔ فقط۔
عورت نے مرد سے کہا نکاح کرلینا اس نےدوگواہوںکے سامنے کہاکہ میں نے فلاں سے نکاح کرلیا ۔۔۔کیا حکم ہے
سوال:(۱/۲۷) ایک شخص نے ایک عورت سے اس کی رضا سے نکاح کیا اور عورت ومرد میں باہم یہ گفتگو ہوئی کہ عورت نے مرد سے کہاکہ میرا نکاح اپنے ساتھ کرلینا، مرد نے جاکر دو مردوں کے سامنے یہ کہاکہ میں نے فلاں عورت کانکاح اپنے نفس سے کرلیا اور قبول کرلیا اور گواہوں کے سامنے صرف عوت کانام لیا اور قوم وباپ کانام نہیں لیا اور گواہ اس عورت کو جانتے بھی نہیں ہیں تو یہ نکاح جائز ہوایانہ۔
ذیل کی صورت میں نکاح ہوایانہیں
سوال:(۲/۲۸) ایک نکاح خواں نے ایک نکاح اس صورتسے پڑھا کہ اول باکرہ عوت سے اجازت لی وہ خاموش رہی پھر ولی سے اجازت لی اس نے اجازت دیدی ، پھر مرد سے کہاکہ فلاں بنت فلاں سے تمہارا نکاح بعوض مہر معین کیا تم نے قبول کیا، اس نے کہا میں نے قبول کیا، یہ صورت نکاح موافق شرع ہے۔
الجواب: (۱) اگر عورت کانام مع نام باپ کے لیاگیا تو نکاح صحیح ہوگیا ،صورت مسئولہ میں نکاح نہیں ہوا، اس لئے کہ گواہ اسے نہیں جانتے ہیں اورنہ باپ کاہی نام لیاگیا ہے کہ وہ متعین ہوسکے۔ ظفیر
(۲): اس صورت میں نکاح ہوگیا۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند۔جلد۷)۔۔۔جاری ہے۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button