مضامین

احکامات حج (فضائل ومسائل)-۱

سفر حج کا مقصد: فریضۂ حج کی ادائیگی ہی ہونی چاہیے!
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
یَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يَحُجُّ أَغْنِيَاءُ أُمَّتِي لِلنُّزْهَةِ، وَأَوْسَاطُهُمْ لِلتِّجَارَةِ، وَقُرَّاؤُهُمْ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، وَفُقَرَاؤُهُمْ لِلْمَسْأَلَةِ۔
(رواہ الخطیب والد یلمی عن انس ؓ کشف الخفاء ۲؍۳۶۶)
(لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ میری امت کے مال دار لوگ تفریح اور پکنک کےلئے حج کوجائیں گے، اور متوسط طبقہ کے لوگ تجارت کی غرض سے اور قُرّاء(اورعلماء) شہرت اور ریاکاری کے لیے اور فقیر لوگ بھیک مانگنے کیلئے حج کا سفر کریں گے۔ (نعوذ باللہ)
معانی ومفہوم:
جیسے جیسے سفر حج کی سہولیات بڑھ رہی ہیں اور معاشی استحکام میں ترقی ہورہی ہے، اسی اعتبار سے ہر ملک سے عازمین حج اور زائرین حرم کی تعداد بھی روزافزوں ہے۔ بظاہر یہ بہت خوشی کی بات ہے اور حرمین مقدسین کی برکات سے فیض یاب ہونے کی دلیل ہے، لیکن دوسری طرف اس مبارک سفر سے بہرہ ور ہونے والوں کی بڑی اکثریت کاجو حال دیکھنے میں آرہاہے وہ ہر فکر مند شخص کے لئے دلی اذیت اور تشویش کا باعث ہے۔ حج کے سفر کی اصل روح یعنی اظہارِ عشق وفنائیت ناپید ہوتی جارہی ہے ، اور اس کی جگہ نام ونمود ،فخر ومباہات ، سیر سپاٹا اور تفریح کے جذبات نے لے لی ہے ، جس کے مظاہر گھر سے لےکر ایئر پورٹ تک اور ایئرپورٹ سے لے کر حرمین شریفین کے اردگرد بازاروں اور تفریح گاہوں تک جابجا نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ اگر غور کیا جائے تو سفرحج کی حیثیت ایک تربیت اور ٹریننگ کورس کی ہے، ہر حاجی گویا کہ شریعت کی طرف سے قائم ہونے والے ایک تربیتی کیمپ میں حصہ لیتاہے، اس کیمپ میں ہر شخص کو اپنی انانیت ختم کرنے اور زندگی کے ہر گوشہ میں خدائی حکم نافذ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ چناں چہ احرام شروع ہوتے ہی بہت سی حلال چیزیں بحکم خداوندی ممنوع ہوجاتی ہٰں، اور تلبیہ کی گردان کر کے محرم یہ اعلان کرتاہے کہ وہ اپنے دل ودماغ سے غیر اللہ کی حاکمیت کے فاسد خیال کو نکال چکا ہے،پھر بیت اللہ شریف کا طواف، صفا مروہ کے درمیان سعی، منٰی کی وادی میں حاضری، دیوانہ وار عرفہ کی طرف کوچ، عرفہ میں امام کے ساتھ عصر کی نماز ظہر کے وقت میں ادائیگی ، پھر بارگاہ رب العزت میں الحاء وزاری کے ساتھ فریاد، اس کے بعد مزدلفہ میں جاکر مغرب کی نماز کی عشاء کے وقت میں ادائیگی ، اور دسویں تاریخ کو رمی جمار کرتے وقت اللہ کی بڑائی کے ساتھ شیطان لعین سے بیزاری کااظہار، پھر اللہ کے لیے قربانی اور طواف زیارت، ان سب اعمال و مناسک کا ایک ایک جزیہ یاد دلاتاہے کہ ہم اپنے ہرکام میں آزاد نہیں ہیں، بلکہ احکم الحاکمین کے احکامات کے پابند ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں جہاں حج کے مناسک کا ذکر ہے اس میں تقویٰ اور پرہیز گاری پر سب سے زیادہ زوردیاگیاہے۔ (البقرہ:۱۹۷)
[از : مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری، مدرسہ شاہی، مراد آباد]
ممبئی حج میگزین۲۰۱۷ء؁ جولائی۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button