حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(3)

تحمید : اس کےمعنی اَلْحَمْدُ للہُ پڑھنے کے ہیں۔
تسبیح : اس کےمعنی سُبْحَانَ اللہُ پڑھنے کے ہیں۔
تمتع : یہ ایسے حج کو کہا جاتاہے جس میں حج کے مہینوں میں میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھ لیاجائے اور ارکانِ عمرہ ادا کرکے احرام کھول دیاجائے۔پھر آٹھویں ذی الحجہ کو حج کااحرام باندھ کر حج کیاجائے۔ اس کی تفصیل حج تمتع کے عنوان میں دیکھ لی جائے۔
تنعیم : یہ مکۃ المکرمہ میں ایک پہاڑ کانام ہے جو حدودِ حرم سے باہر پڑتاہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت عائشہ ؓ کو ان کے بھائی حضرت عبدالرحمٰن ابن ابوبکرؓ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کیلئے اس پہاڑ کے دامن میں بھیجاتھا۔ اور جہاں حضرت عائشہؓ نے احرام باندھا تھا وہاں اس وقت ایک عالیشان مسجد بنی ہوئی ہے جو مسجد عائشہؓ کےنام سے مشہور ہے۔ اہل مکہ عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے یہیں آتے ہیں اور جنت المعلیٰ کے راستہ سے حرم شریف اور اس مقام کے درمیان چھ کلومیٹر کافاصلہ ہے۔ (ایضاح الطحاوی ۔ج:۳۔ص:۶۴۲)
جعرانہ : یہ مقام حرم شریف سے جبل نور یعنی غار حراء اور شرائع کی طرف سے ۲۵ کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اسی کی طرف السیل الکبیر سے ہوتے ہوئے طائف اور نجد وغیرہ کو دو طرفہ ہائی وے روڈ ہے جس کو خط سریع بھی کہاجاتاہے۔ اور اسّی(۸۰) کلومیٹر کے فاصلہ پر میقات قرن المنازل پڑتاہے۔ اور سولہ(۱۶) کلومیٹر پر ایک راستہ بائیں ہاتھ کو مدینۃ المنورہ کی طرف جارہاہے۔ وہاں سے مزید ۹؍کلومیٹر پر مدینہ روڈ پہ مقام جعرانہ واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پرحضرت سید الکونین نے حنین وہوازن کا مالِ غنیمت تقسیم فرمایا تھا اور آپ نے وہاں سے رات ہی میں عمرہ فرمایا تھا اور وہاں آپؐ کے خیمہ کی جگہ پر ایک مسجد بنی ہوئی ہے اور لوگ وہاں سے بھی عمرہ کا احرام باندھتے ہیں۔
جمرات یا جمار : یہ منٰی کے وہ تین مشہور کھمبے ہیں جن پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ان میں سے حرم شریف ک طرف بالکل اخیر میں جو کھمبا ہے اس کو جمرۂ عقبہ، جمرۃ الکبریٰ ، جمرۃ الاخریٰ بھی کہاجاتاہے۔ اس کے بعد جو دوسرے نمبرکا کھمبا ہے اسکو جمرۂ وسطیٰ کہاجاتا ہے۔ اس کے بعد مسجد خیف سے قریب کا جو کھمبا ہے اسکو جمرۂ اولیٰ کہاجاتاہے۔
جنتُ المعلّیٰ : یہ مکۃ المکرمہ کا وہ قبرستان ہے جس میں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور حضور ﷺ کے صاحبزادے مدفون ہیں۔ نیز صحابۂ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد بھی اس میں مدفون ہے۔ اور ہمارے اکابر میں سے حضرت حاجی امداداللہ صاحبؒ مہاجر مکی بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ اور یہ قبرستان دو حصوں میں بٹاہواہے۔ درمیان میں سڑک بنی ہوئی ہے۔ اور اس سڑک سے حرم شریف کی طرف کا حصہ کافی بڑاہے اور اس کے مد مقابل پہاڑ کے دامن کا حصہ کچھ چھوٹاہے۔ اسی حصہ میں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کا مزار مبارک ہے اور اس قبرستان میں دفن ہونا بڑی خوش قسمتی ہے۔
جنت البقیع : یہ مدینۃ المنورہ کا وسیع وعریض قبرستا ن ہے جس میں ہزارہا صحابہ وتابعین مدفون ہیں۔ حضرت فاطمہؓ اور امہات المؤمنین ؓ، حضرت عثمان غنی، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزارات اس قبرستان میں نمایاں ہیں۔ اس قبرستان میں دفن ہونا باعث خوش نصیبی ہے۔ [از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔



