مضامین

طاعت مصطفیٰ اصل میں حُبّ رسول ہے۲

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ(اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے) یہ پروانہ یا خطاب اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب حضرت رسول اکرم ﷺ کی تمام زندگی میں اور ہرحال میں اتباع اور اطاعت وفرماں برداری کرکے حاصل کیا، پھرحالات چاہے کیسے ہی ہوں، کسی بھی حال میں سرِمو اطاعت و فرماں برداری سے منہ نہیں موڑا، جس زمانہ اور جس دور میں امت نے آپﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کی کامیابی ملتی رہی، اور جب بھی اطاعت وفرماں برداری سے منہ موڑاگیا ناکامی و نامرادی مقدر بن گئی۔
کی محمد سے وفا تونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
(شاعراسلام علامہ اقبالؒ)
اگرہم یہ چاہتے ہیں اور یقیناً چاہتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سُرخ رو ہوں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ آپﷺ کی نورانی وبابرکت سنتوں کو اپنائیں ، یہی چیز اللہ تعالیٰ کو بے انتہاء پسند ہے۔
فرمان الٰہی ہے؛
ترجمہ:’’بے شک تمہارےلئے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
(پارہ ۲۱)
اور ہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ سنتوں کو تو اپنی زندگی میں ہمیں لانا ہے ، کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا اور فطری وطبعی تقاضوں کو پورا کرنا سنت کے مطابق ہونا ہی چاہیے، لیکن اسی پر اکتفا ء نہ ہو، بلکہ ہمارے معاملات جیسے کاروبار، خریدوفروخت، اپنے ماتحتوں کے ساتھ برتاؤ، پڑوسیوں کے ساتھ سلوک، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، اپنے ماتحتوں کے ساتھ برتاؤ، پڑوسیوں کے ساتھ سلوک، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، ضرورت مندوں کی ضرورت کو اپنی گنجائش کے مطابق پوراکرنا، کسی کو قرض دینا، کسی کی کوئی چیز رہن رکھنا، بھوکوں کوکھاناکھلانا، پیاسوں کو پانی پلانا وغیرہ وغیرہ یہ اور اس سے بھی زیادہ آپ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات ہیں اس پر بھی عمل ضروری ہے۔
آپﷺ کی صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، یا تسبیح وتلاوت اور ذکر واذکار تک محدو نہیں ہیں، بلکہ زندگی میں پیش آنے والے تمام چیزوں کااحاطہ کئے ہوئے ہیں۔
حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کے تعلق سے تو بڑی تاکید ات احادیث پاک میں آئی ہیں، کہ ایک دوسرے کی معمولی سے معمولی چیز بھی بغیر اجازت ومرضی کے لینا ناجائز و حرام ہے، ایسی صورت میں قیامت کے روز اپنی نیکیاں دینی پڑیں گی، یااُس کے گناہ نامۂ اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے، کسی کی زمین غصب کرنے کی صورت میں دوزخ میں جلنا پڑے گا، اس بات کو درج ذیل حدیث پاک یاواقعہ سمجھاجائے۔
ترجمہ:’’اورنہ کھاؤ مال ایک دوسرے کاآپس میں ناحق اورنہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھاجاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے (ناحق اور تم کو معلوم ہے۔‘‘
یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ حضرات صحابۂ کرام میں سے دوصاحبوں کاآپس میں ایک زمین پرجھگڑا ہوا، مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا، مدعی کےپاس گواہ نہ تھے، آنحضرت ﷺ نے شرعی ضابطہ کے مطابق مدعاعلیہ کوحلف کرنے کا حکم دیا، وہ حلف پرآمادہ ہوگیا، اس وقت آنحضرت ﷺ نے بطور نصیحت اُن کو یہ آیت سنائی:
إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُ
جس میں قسم کھاکرکوئی مال حاصل کرنے پر وعید مذکور ہے، صحابی نے جب یہ آیت سنی تو قسم کھانے کو ترک کردیا اور زمین مدعی کے حوالہ کردی، (روح المعانی)
اس واقعہ میں یہ آیت نازل ہوی، جس میں ناجائز طریق پر کسی کامال کھانے یاحاصل کرنے کو حرام قراردیاہے ، اور اس کے آخر میں خاص طورپر جھوٹامقدمہ بنانے اور جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی شہادت دینے اور دلوانے کی سخت ممانعت اور اس پر وعید آئی ہے ، ارشاد ہے :
وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
یعنی نہ لے جاؤ اموال کے مقدمات حکام تک ، تاکہ ان کے ذریعہ تم لوگوں کے اموال کاکوئی حصہ کھاجاؤ بطریق گناہ جب کہ تم جانتے بھی ہو کہ اس میں تمہارا کوئی حق نہیں، تم جھوٹا مقدمہ بنارہے ہو، وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ سے معلوم ہوا کہ اگرکوئی شخص کسی مغالطہ کی بناء پر اس چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے، وہ اگر عدالت میں دعویٰ دائر کرکے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں، اسی جیسے ایک واقعہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِنَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ (رواہ البخاری ومسلم عن ام سلمہؓ)
’’یعنی میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو، اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے معاملہ کو زیادہ رنگ آمیز ی کے ساتھ پیش کرے، اور میں اسی سے مطمئن ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو (یاد رکھو کہ حقیقت حال تو صاحبِ معاملہ کو خود معلوم ہوتی ہے) اگر فی الواقع وہ اس کاحق نہیں ہے تو اس کو لینا نہیں چاہیے، کیونکہ اس صورت میں جو کچھ میں اس کو دوں گا وہ جہنم کاایک قطعہ ہوگا‘‘
آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد میں واضح فرمادیا کہ اگر امام یا قاضی یا امام المسلمین کسی مغالطہ کی وجہ سے کوئی فیصلہ کردے جس میں ایک کاحق دوسرے کو ناجائز طورپر مل رہا ہو، تو اس عدالتی فصیلہ کی وجہ سے وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوجاتا، اور جس کے لئے حلال ہے اس کے لئے حرام نہیں ہوجاتا، الغرض عدالت کافیصلہ کسی حلال کو حرام یا حرام کوحلال نہیں بناتا، اگرکوئی شخص دھوکہ فریب یاجھوٹی شہادت یاجھوٹی قسم کے ذریعہ کسی کامال بذریعہ عدالت لےلے، تو اس کا وبال اس کی گردن پررہے گا اس کو چاہیے کہ آخرت کے حساب کتاب اور علیم وخبیر کی عدالت میں پیشی کا خیال کرکے اس کوچھوڑدے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button