عالم اسلام کو عیدرمضان مبارک

عید! خوشی میں یادالٰہی
قدیم زمانہ سے دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب میں یہ دستور چلاآرہاہے کہ ان میں ایک خاص دن ہوتاہے جس دن وہ سب بہتر سے بہتر خوراک، عمدہ سے عمدہ لباس استعمال کرتے ہیں اور پوری شان وشوکت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے اور ملاقاتیں کرتے ہیں اور اپنا تیوہار مناتے ہیں۔
اسلامی شریعت نے بھی انسانی فطرت کالحاظ کرتے ہوئے اپنے متبعین کے لئے سال میں دو دن عید کے نام پر خوشی ومسرت کے لئے تجویز کئے ہیں مگر اس نے اپنے پیرؤوں کو رسم ورواج کا پابند بنانے کے بجائے خوشی کے اس موقع پر ایک معتدل اور متوازن طریقہ کی راہنمائی کی، اور دورکعت نماز واجب کرکے خوشی کے جذبات کے ساتھ معرفت خداوندی کے حصول اور نعمت خداوندی کے شکریہ کی بجا آوری کی طرف توجہ دلائی۔ اسی طرح خوشی کے اس موقع پر شریعت اسلامیہ نے امت کے پسماندہ اور غریب محتاج لوگوں کی خبر گیری کرنے اور ہر مسلمان کو تکبر وگھمنڈ سے بچنے کی تلقین فرمائی، آج عموماً لوگ اپنے تہوارروں کے موقع پر غرورتکبر اور معاصی کاعلانیہ اظہار کرتے ہیں۔ مگر مسلمان زمین وآسمان کی تمام طاقتوں کو ہیچ سمجھ کر اس خوشی کے موقع پر خدا کی عظمت اور کبریائی اور اسی کی طاقت وقوت کی آواز لگاتا ہے۔ گھر سے نکلتے وقت بھی اور عیدگاہ جاتے ہوئے بھی، حتیٰ کہ بار بار نماز کے اندر بھی اللہ اکبر اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑاہے ، اللہ سب سے بڑا ہے)۔
لوگ ایسے موقعوں پر فخرکیا کرتے ہیں، لیکن شیدائی رسول اعلان کرتاہے ، وللہ الحمد، تمام خوبیاں اور تعریفیں صرف خدا کی ذات کےلئے ہیں ۔ لوگ اپنے تہواروں میں گردن اٹھاکر سینہ تان کر اکڑتے ہوئے پھرتے ہیں، لیکن اسلام کے چاہنے والے گردن جھکائے نظریں نیچی کئے ہوئے ، کیا امیر کیا غریب، کیا بادشاہ اور کیا رعایا سب ایک ساتھ خدائے واحد کے سامنے سجدوںمیں گرجاتے ہیں۔
آج بیسویں صدی کی تہذیب یافتہ دنیا میں کوئی ہزاروں کانہیں سینکڑوں کا کوئی مجمع ایسا ہے جو اس شان وشوکت کے ساتھ، اس کروفر کے ساتھ کہیں اکٹھا ہو اور اس سکون وخاموشی کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ جائے، یہ صرف کرشمہ ہے تہوار کے اندریا دخداکے شامل ہوجانے کا۔ ؎
ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم وذکا
جسے عیش میں یاد خدانہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
انعام خداوندی کادن
عیدالفطر کا دن اسلامی تاریخ میں خوشی ومسرت کادن ہے۔ درحقیقت یہ انعام خداوندی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے روزوںکے اختتام پر معین فرمایا ہے۔ حدیث شریف میں بیان کیاگیاہے کہ عیدالفطر کی رات کو آسمانوں میں لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) سے جاناجاتاہے۔ ایک تفصیلی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ، جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیی شانہ فرشتوں کو تمام شہروں (جگہوں) میں بھیج دیتے ہیں ، وہ زمین پر اترکر تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے(جس کو انسان اور جنات کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت!اس رب کریم کی بارگاہ میں چلو جہو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور(گناہوں) کو معاف کرنے والاہے۔ پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں توحق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پوراکرچکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک ! اس کا بدلہ یہ ہے کہ اس کی مزدوری پوری کی پوری دے دی جائے۔ حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اشارہ ہوتاہے کہ اے فرشتو!میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی۔ اور بندوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتاہے کہ: اے میرے بندو! مجھ سے مانگو ،میرے جلال کی قسم، میری عزت کی قسم، آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سےاپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطاکروں گا، اور دنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اس میں تمہاری مصلحت پرنظر کروں گا، میری عزت کی قسم ، جب تک تم میرا خیال کرو گے میں تمہاری لغزشوں پرستاری کرتا رہوں گا (اور ان کو راز میں رکھوں گا) میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم تمہیں مجرموں ( کافروں) کے سامنے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گا۔ بس اب بخشےبخشائے اپنے گھروں کوواپس لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کردیا ، میں تم سے راضی ہوگیا۔ (فضاائل اعمال۱/۵۶)
یہ انعام خداوندی ان خوش نصیب مسلمانوں کے لئے ہے جنہوں نے رمضان کے معمولات کوپورا کیاہو، اس ماہ میں اپنے رب سے خصوصی لگاؤ اور تعلق پیدا کیا ہو، طبیعت کو نیکیوں کا خوگر بنایا ہو، قرآن مقدس سے اپنا رشتہ مضبوط کیاہو، تمام گناہوں پر توبہ واستغفار کیاہو، رات میں اپنے گرم بستروں اور میٹھی نیند کو چھوڑ کر اپنے رب کو منانے کاسامان کیا ہو اور خوف خدا اور خشیت الٰہی کے گرم آنسوؤں سے اپنے رخساروں کو تر کیا ہو، حقیقت میں عیدالفطر کی خوشی ومسرت انہیں لوگوں کاحصہ ہے۔
یہ عید سعید کی خوشیاں ان لوگوں کو زیب نہیں دیتیں جنہوں نے رمضان المبارک کے احترام کو پامال کیاہو، خواہش نفس کے غلام بنے رہے ہوں، جھوٹ، غیبت ،چغلی میں کوئی کمی نہ آئی ہو، اور اپنے اللہ کو راضی کرنے کیلئے چند آنسو نہ بہاسکے ہوں۔ حقیقت میں ایسےلوگوں کیلئے یہ دن پیغام خوشی ومسرت نہیں بلکہ ان کے لئے یہ تازیانۂ عبرت ہے۔ کسی شاعر نے ایسے ہی لوگوں کےبارے میں کہا ہے۔؎
بے تکلف دن میں جوکھاتے تھےان کی عید کیا
چائے سگریٹ نوش فرماتے تھے ان کی عید کیا
بغض وکینہ لے کے دل میں جب ملے تو عید کیا
عید کے دن بھی نہ دل سےمل سکےتو عید کیا
جن کے دل میں احترام ماہ رمضان ہی نہ تھا
ایسے ہی روزہ خور انسانوں کی طالبؔ عید کیا
آج ہمیں عید سعید کی پر مسرت ساعتیں حاصل ہورہی ہیں ، آج کا دن ہمیں یہ پیغام دے رہاہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ عید سعید کی حقیقی مسرتیں ہمیں حاصل ہورہی ہیں یانہیں؟ اگر جواب اثبات اور ہاں میں ہے تویہ مقام ہمارے لئے لائق شکر ہے کہ آج جب کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بخشش وانعام کی موسلادھار بارش ہورہی ہے ، وہ کون سی رکاوٹ ہے اور کون سا جادو ہے جوہمیں فکر آخرت اور خدا کے سامنے جوابدہی سے غافل بنائے ہوئے ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت و کوتاہی اور خواہش نفس کی اسیری، دائمی راحت وسکون کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ بن جائے۔ اس لئے آج اس مبارک موقع پر خدا کی بارگاہ میں سرنیاز خم کرکے خواہش نفس سے آزادی ، خدا اور رسول سے وابستگی ، قرآن مقدس سے تعلق ، احکام اسلام کو بروئے کار لانے کا پختہ عہد و پیمان کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عید کی حقیقی مسرت و شادمانی سےہمکنار فرمائے۔ آمین
عید کے دن مسنون اعمال
عید کے دن درج ذیل امور سنت ہیں۔
٭غسل کرنا۔(درمختار زکریا۳/۴۸)
٭مسواک کرنا۔ (درمختار زکریا۳/۴۸)
٭اگر اپنے پاس موجود ہوتو خوشبو لگانا۔(درمختار زکریا۳/۴۸)
٭عیدالفطر کی نماز میں جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا۔(ترمذی شریف۱/۱۲۰، درمختار زکریا ۳/۴۸)
٭صدقہ فطر ادا کرکے جانا۔(درمختار زکریا۳/۴۸)
٭بقرعید میں نماز کے بعد آکر اپنی قربانی کاگوشت کھانا۔(درمختار زکریا۳/۶۰)
٭عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھنا۔(درمختار زکریا۳/۴۹)
٭عیدگاہ تک پیدل جانا لیکن اگر عیدگاہ بہت دور ہو اور پیدل چلنا مشکل ہوتو سواری سے بھی جاسکتے ہیں، قریب جاکرکچھ دور پیدل بھی چل لیں۔(ترمذی شریف۱/۱۱۹،درمختار زکریا۳/۴۸)
٭ایک راستہ سے جانا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا۔(ترمذی شریف۱/۱۲۰، درمختار زکریا۳/۴۹، طحطاوی/۲۹۰)
٭عید میں آہستہ آہستہ اور بقرعید میں آواز سے تکبیر کہتےہوئے جانا۔
اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ (شامی زکریا۳/۵۰)
٭عید کی نماز سے پہلے گھر یا عیدگاہ میں کوئی نفل نماز نہ پڑھنا، اگرواپس آکر پڑھیں توحرج نہیں ۔(ترمذی ۱/۱۲۰)
٭عید اور بقرعید کے دن دو دورکعت نماز پڑھنا واجب ہے۔ اس نماز کاوقت سورج نکلنے سے تقریباً بیس منٹ بعد سے شروع ہوتاہے اور زوال سے پہلے تک رہتاہے۔ ان دونوں نمازوں کیلئے اذان و تکبیر نہیں ہے۔ عید کی نماز عیدگاہ ہی میں پڑھنا سنت ہے۔ مسجد نبوی میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ لیکن اس کے باوجود نبی کریم ﷺ ہمیشہ عیدگاہ (جنگل وصحراء) میں نماز ادا کرتے تھے۔جس سے معلوم ہوا کہ عید کی نماز عیدگاہ ہی میں پڑھنا بہتر ہے۔ (مستفاد: فتاوی قاسمیہ ۹/۴۷۲)
٭لیکن اگرعیدگاہ آبادی کے اندر آگئی ہے توایسی عیدگاہ سے سنت مؤکدہ کاحکم ختم ہوجاتا ہے ، وہ دیگر بڑی مساجد کے حکم میں ہوجاتی ہے ، ثواب کے اعتبار سے دونوںمیں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ (مستفاد؛ایضاح المسائل ۳۴ تا ۳۶)
(ماخوذ از : ندائے شاہی، مراد آباد۔ مارچ ۲۰۲۶)



