مضامین

حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(۱)

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ۝ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۚ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (آل عمران ۹۷)
یقیناً روئے زمین میں سب سے پہلا گھریہی ہے جو مکۃ المکرمہ میں لوگوں ( کی عبادت کے لئے) مقرر کیاگیاہے، جو نہایت برکت والا اورپورے عالم کے انسانوں کیلئے ذریعہ ہدایت ہے۔ اس میں کھلی ہوئی واضح نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم۔ اور جوبھی اس میں داخل ہوگا ہرخطرے سے مامون اور محفوظ ہوگا۔
اس آیت کریمہ میں حق تعالیٰ نے بڑے مؤثر انداز سے ارشاد فرمایا کہ مکۃ المکرمہ میں بہت سے متبرک مقامات اور بہت سی متبرک اشیاء کے ذریعہ عبرت اور ہدایت ہیں۔ اس لئے حج کے موقع پر حاجی کیلئے وہاں کے مشہور الفاظ اور مقامات متبرکہ کے مشہور ومعروف ناموں کو جاننا ضروری ہے۔ اگروہاں کے مشہور اصطلاحی الفاظ کے معنی اور مطلب نہیں سمجھیں گے تو بہت سے مناسک حج کی ادائے گی میں کمی آسکتی ہے۔ اس لئے ضروری محسوس ہوا کہ وہاں کے اصطلاحی الفاظ اور متبرک مقامات کے ناموں کی تشریح کردی جائے۔
احرام :احرام کے معنی کسی چیز کو حرام کرنے کے ہیں۔ اور حاجی جس وقت حج یا عمرہ کی نیت سے تلبیہ پڑھتاہے تو اس کے اوپر بہت سے ایسے امورحرام ہوجاتے ہیں جو احرام سے پہلے حلال تھے۔ اس لئے اس کو احرام کہاجاتاہے۔ اور لوگوں میں یہ جو مشہور ہے کہ احرام کی دو چادریں جوحاجی استعمال کرتاہے اسکو احرام کہہ دیا جاتاہے یہ مجازًا کہاجاتا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ احرام نہیں ہے۔ (مستفاد ھدایہ ۱/۲۱۷، غنیہ جدید/۶۶)
افراد: افراد کامطلب یہ ہے کہ حاجی میقات سے صرف حج کااحرام باندھ کر روانہ ہوجائے اورمکہ مکرمہ پہنچ کر احرام نہ کھولے، بلکہ یوم النحر میں جمرۂ عقبہ کی رمی کرکے احرام کھول دے۔ ایسے حاجی کو مفرد بالحج کہاجاتاہے۔ (المسالک فی المناسک۱/۳۶۹)
آفاقی: یہ اس حاجی کیلئے بولتے ہیں جو میقات کے باہر سے حج یاعمرہ کے لئے حرم شریف پہونچتاہے۔ جیسا کہ ہندوستانی، پاکستانی، افغانستانی، یمنی، مصری، نجدی، شامی، افریقی، یورپی وغیرہ ہیں۔ (ہدایہ ۱/۲۱۴)
اشہرحج: یہ ماہِ شوال ، ذیقعدہ اورذی الحجہ کے عشرہ اول کیلئے بولتے ہیں۔ یہ حج کے مہینے ہیں۔ (ترمذی شریف مع العرف الشذی ج۱/۱۸۶)
اشہر حرم: ان مہینوں کو کہاجاتاہے جن میں قتل وقتال جائز نہیں ہوتا۔ اور یہ رجب ، ذیقعدہ، ذی الحجہ اورمحرم ہیں۔ (ترمذی ج۱/۱۸۶)
ایام نحر: یہ دسویں ذی الحجہ سے بارہویں ذی الحجہ تک تین دن کیلئے بولتے ہیں۔(ہدایہ ج۴۔ص ۴۳۰)
ایام تشریق : یہ گیارہویں ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ تک تین دن کیلئے بولتے ہیں لیکن چونکہ نویں ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ تک پانچ دنوںمیں تکبیر تشریق پڑھی جاتی ہے، اسلئے مجازًا ان پانچ دنوں کو بھی ایام تشریق کہاجاتاہے۔ (ہدایہ: ج۴۔ص:۴۳۰)
ایام حج : یہ آٹھویں ذی الحجہ سے لے کربارہویں ذی الحجہ تک پانچ دن کے لئے بولتے ہیں۔ اور انہیں پانچ دنوں میں حج کے سارے مناسک ادا کئے جاتے ہیں۔ اس لئے ان پانچ دنوں کو ایام حج کہاجاتاہے۔
اضطباع: اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام کی اوپر والی چادر کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال دینا، اور دائیں کندھے کو کھلے رہنے دینا۔ اس کی تفصیل اضطباع کے عنوان میں دیکھی جائے۔
استلام: اسکا مطلب یہ ہے کہ حجراسود کو منہ سے بوسہ دیاجائے یا ہاتھ سے چھودیاجائے، یا ہاتھ سے چھوکر ہاتھ کو چوم لیاجائے، یا ہاتھ سے دور سے اشارہ کرکے ہاتھ کو چوم لیاجائے۔ (غنیہ جدید /۱۰۳) نیز رکن یمانی پر ہاتھ لگانے کوبھی استلام کہاجاتاہے۔[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button