مضامین

رشتہ خوشگوار کیسے بنے؟ بڑاعجیب رشتہ–(۷)

طلاق کی تین قسمیں
طلاق کی تین قسمیں ہیں:
٭ طلاق رجعی The Revrsible Divorce
٭ طلاق بائن The Irrevocable Divorce
٭ طلاق مغلظہThe Absolute Divorce
طلاق رجعی کا مطلب یہ ہے کہ جس طلاق میں شوہر کو اپنی دی ہوئی طلاق کے اثر کو عدت کے اندر اندرختم کرنے اور بیوی کوواپس لینے اور لوٹانے کا اختیار ہو۔
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو صاف لفظوں میں ایک یا دو طلاقتیں دیں تو اس کو اختیار ہے کہ عدت کے ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ اپنی دی ہوئی طلاق سے رجوع کرلے اس طرح دونوں پھر میاں بیوی بن کر رہ سکتے ہیں، اور اگر طلاق سے رجوع نہ کیاتو عدت ختم ہونے کے بعد یہ طلاق خود بخود بائن ہوجائے گی۔
طلاق بائن وہ طلاق ہے کہ جس میں شوہر کو اپنی طلاق واپس لینے کا اختیارنہیں ہوتا۔
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اس طرح طلاق دی کہ۔۔۔۔۔ میں نے تجھے طلاق بائن دیدی۔۔۔۔ تو نکاح کا رشتہ ختم ہوگیا البتہ اگر دونوں چاہیں تو اپنی مرضی سے عدت میں یا عدت گزرنے کے بعد پھر کبھی بہتر حالات میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
طلاق مغلظہ۔ تیسری قسم کی طلاق، مغلظہ طلاق ہے۔ مرد کو ایک عورت سے نکاح کرنے کے بعد ایک سے تین طلاق کا اختیار ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو اب یہ طلاق مغلظہ ہوگئی۔ نکاح کارشتہ ٹو ٹ گیا۔ اب اگر یہ دونوں اپنی مرضی سے بھی یکجا ہونا چاہیں تو نہیں ہوسکتے نہ مرد اپنی طلاق واپس لے سکتاہے اورنہ ہی دونوں اپنی مرضی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
تین طلاق ہرگز نہ دیں
یہ بات بڑی مشہور ہوگئی ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ تین سے کم طلاق ہی نہیںہوتی اور اس غلط شہرت کی وجہ سے بڑے مسئلے پیدا ہوتے ہیں اس لئے کسی حالت میں بھی تین طلاقیں نہیں دینی چاہیے ، ایک طلاق یا تو رجعی دے یا ایک طلاق بائن دے۔ رجعی طلاق میں عدت کے اندر طلاق سے رجوع کرنے کی گنجائش رہے گی اور بائن طلاق میں دوبارہ نکاح کرنے کا دروازہ کھلارہے گا۔ لیکن تین طلاق کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ نکاح کرنے کی گنجائش رہتی ہے اس لئے بڑی نادانی کی بات ہے اور لاعلمی اور جہالت ہے کہ تین طلاقیں دے کر مشکلات پیدا کی جائیں، مقصد تو رشتہ نکاح کا ختم کرنا ہے وہ رشتہ ایک طلاق سے بھی ختم ہوجاتاہے، ہوسکتاہے کوئی ایسا موڑ آجائے کہ دوبارہ یکجائی کی ضرورت ہوتو رجعی اور بائن طلاق میں گنجائش رہتی ہے۔ بارہا ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ طلاق کے بعد پچھتا وا ہوتا ہے اس صورت میں بڑی آسانی سے شریعت کے مطابق یکجائی کی صورت نکل آتی ہے اس لئے اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ کسی حال میں تین طلاقیں نہ دی جائیں۔
طلاق کے اکثر واقعات غصے اور جذبات میں پیش آتے ہیں ۔ ایک مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہرحال میں اللہ سے ڈرتا رہے غصے اور جذبات میں کوئی قدم نہ اٹھائے، اسلام نے چونکہ انسان کے مرتبے اور مقام کے مطابق اس بات کالحاظ رکھاہے کہ ایک عالق بالغ سمجھ دار ہوش رکھنے والے انسان کی زبان سے جو الفاظ ادا ہوں گے وہ بے کار نہیں جائیں گے۔ اس کا اثر ظاہر ہوگا، اسی زبان سے ہم نکاح کرتے ہیں نکاح کا رشتہ قائم ہوجاتاہے۔ اسی زبان سے ہم بڑے بڑے معاملات کرتے ہیں اور وہ معاملات طے پاتے ہیں۔
اس زبان سے دوملکوں کے درمیان اور دو انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے معاہدے ہوتے ہیں اور زبان کا پاس رکھا جاتاہے۔ اسی زبان سےجب طلاق کے الفاظ نکلیں گے تو ان کا اثر بھی ظاہر ہوگا۔ اس لئے اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہرانسان کا فرض ہے۔ نکاح کا رشتہ بڑا محترم رشتہ ہے اس کو بچوں کا کھیل نہ سمجھا جائے۔ شریعت سے کھلواڑ نہ کی جائے طلاق ایک آخری قدم ہے ، طلاق کو خود مسئلہ نہ بنایاجائے بلکہ اسکو مسئلے کاناگوار حل سمجھ کر استعمال کیاجائے۔
یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ دنیا کی عدالت سے اوپر ایک اوربڑی عدالت بھی ہے اور ہمیں اپنے ہر قول وفعل کیلئے اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہوناہے، زیادتی کدھر سے ہوئی ہے مرد نے ستم ڈھائے ہیں یا عورت کا رویہ غلط رہاہے قیامت کے دن اس کا فیصلہ ہوگا، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ بلاوجہ کی طلاق اتنا بڑا جرم ہے کہ اس حرکت سے عرش الٰہی لرز جاتاہے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

والسلام
(مفتی) فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی
مالیر کوٹلہ، پنجاب ، انڈیا

[ازکتاب: جب رشتہ ٹوٹاہے۔۔حضرت مفتی فضیل الرحمٰن صاحبؒ ہلال عثمانی]
(ختم شد)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button